Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وصاف باسط

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

ساری دنیا سے کٹ کے روتا ہوں
شب میں خود میں سمٹ کے روتا ہوں

چار لوگوں نے مار ڈالا ہے
چار حصوں میں بٹ کے روتا ہوں

جب اداسی عروج پر آئے
آسماں سے لپٹ کے روتا ہوں

ہر طرف جب بھی خوف ہو طاری
اژدھوں سے چمٹ کے روتا ہوں

یاد باسط جو اس کی آجائے
نام اس کا میں رٹ کے روتا ہوں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *