Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وصاف باسط

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

رات کے ڈر سے فضا میں خامشی بہنے لگی
سب ستارے گر گئے اور چاندنی بہنے لگی

آنکھ کیسے موڑ پر میری کھلی تھی نیند میں
خواب میں تصویر تھی جو ادھ بنی بہنے لگی

واقعے کیسے سناؤں تیز آندھی کے تمہیں
کتنی مشکل سے بنی تھی جھونپڑی بہنے لگی

سارے چہرے کھو گئے بس سسکیاں کانوں میں تھیں
جب اندھیرے جل گئے اور روشنی بہنے لگی

وہ تمنا آرزو جس کی جنونی ہوگئی
ایک صحرا دل میں اس کی تشنگی بہنے لگی

اک قیامت اور کوئی زلزلہ سا مجھ میں تھا
جب میرے اندر کی اپنی شانتی بہنے لگی

آنکھ سے گرنے لگی اور سانس بھی رکنے لگی
آہ کے دریا میں میری زندگی بہنے لگی

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *