Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ منظور ثاقب

غزل ۔۔۔ منظور ثاقب

پیچ کھاتی ہے بہت پاگل ہوا
دیکھتی ہے جب کوئی جلتا دیا

سنگ مر مر کی سلوں کو کیا خبر
بارش اور مٹی کا یہ رشتہ ہے کیا

پہلے بھی وہ سر نہ تھا کچھ کم بلند
کٹ گیا تو اور اونچا ہوگیا

ہے تقاضا عدل کا شاہیں بنے
کل کسی اگلے جنم میں فاختہ

اک ہتھیلی کی بنا رکھی ہے اوٹ
دوسری پر ہے مری جلتا دیا

کچھ گلہ ہوتا ہے اس کو عرش سے
بے سبب ہوتا نہیں تارا جدا

وہ سجھاتا ہے مجھے مضموں نئے
دل کی مسند پر ہے جو بیٹھاہوا

یہ بپا ہوتی ہے ثاقب آج بھی
استعارہ بن گئی ہے کربلا

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *