Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ مسعود صدیقی

غزل ۔۔۔ مسعود صدیقی

میں داستان میں ہوں ایسے داستاں کے بغیر
کہیں زمین ہو جِس طرح آسماں کے بغیر

ہمارے خواب میں کیوں چل پڑا ہے تُو اس پر
جو راستہ ہے ترے پاؤں کے نِشاں کے بغیر

مُجھے پتا ہے کہیں کا نہ مجھ کو چھوڑے گا
مگر میں رہ بھی سکوں گا نہ راز داں کے بغیر

ہمارا شاخ سے گرنا بہت ضروری ہے
کہ جا سکیں گے کہیں بھی نہ ہم خزاں کے بغیر

ہوا بھی بیچ دے بَس میں اگر ہو مُفلس کے
جولے کے چل پڑا ناؤ کو بادباں کے بغیر

میں حشر تک تمہیں حیرت میں ڈال رکھوں گا
کہ میں یقین کے سوا ہوں نہ ہُوں گماں کے بغیر

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *