Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ مبشر مہدی

غزل ۔۔۔ مبشر مہدی

اس نگر کو چھوڑ کر اک بن میں بس جائیں گے ہم
ریزہ ریزہ ٹوٹ کر کیا دل کو دکھلائیں گے ہم
یہ بدن ہے خاک کا ہم خاک کی تجسیم ہیں
مثل شعلہ جل کے یارو راکھ بن جائیں گے ہم
اس جہانِ رنگ و بو میں سہل ہے کب زندگی
زیست ہے اک تیز رتھ کیسے اسے پائیں گے ہم
آگ کا بس ایک دریا تو نہیں ہے سامنے
اِک مسلسل آگ ہے لیکن نہ گھبرائیں گے ہم
ہے یہ جگ تیرا پہ میں نے بھی بسایا ہے اسے
شب ترِی ‘ دن تیرا ‘ شاید نقش بن پائیں گے ہم
اب تو یہ معمورہ اک ویرانہ ہو جانے کو ہے
رحم کر یا رب نہیں تو راکھ ہو جائیں گے ہم
عقل دوراہے پہ ہے اور عشق ہے حیرت زدہ
دو صدا رومی کو ورنہ طے نہ کر پائیں گے ہم
موت گلیوں میں ہے رقصاں دوش پہ نیزے رکھے
رزم آخر ہے بپا کیا حشر اٹھا پائیں گے ہم

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *