Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ قندیل بدر

غزل ۔۔۔ قندیل بدر

بگولے آج دیکھیں گے تماشا
مجھے گھنگرو کوئی پہنا رہا ہے

فضا سب چھلنی چھلنی ہو گئی ہے
کوئی کیوں اس طرح چلا رہا ہے

پگھل جائے گا اس سے آسماں بھی
جو سورج دل میرا دہکا رہا ہے

مرے ماتھے پہ اپنے ہونٹ چھوڑے
نہ جانے کس نگر کو جا رہا ہے

مری چیخوں کے لاشے بچھ رہے ہیں
مرے آنسو کوئی دفنا رہا ہے

بدن میں تیرتا ہے آگ بن کر
لہو اپنا مجھے جھلسا رہا ہے

کوئی تو خاک ہو کر راکھ ہو کر
میرے قدموں سے لپٹا جا رہا ہے

مرے ہونٹوں پہ تالے لگ رہے ہیں
مرے ہاتھوں کو کاٹا جا رہا ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *