Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ قندیل بدر

غزل ۔۔۔ قندیل بدر

نئے پیکر میں ڈھلتی جا رہی ہوں
بدن سے اب نکلتی جا رہی ہوں

شفق اوڑھے ہوئے بدلی پہ بیٹھے
فضا ساری بدلتی جا رہی ہوں

مگر اس دکھ سے ہوگا کون واقف
کہ الٹے پاؤں چلتی جا رہی ہوں

کسی سوکھی ہوئی لکڑی کی صورت
بہت تیزی سے جلتی جا رہی ہوں

کوئی تو بھید میں نے پا لیا ہے
جو مٹی تن پہ ملتی جا رہی ہوں

بگولے رقص میں ہیں، وقت ساکن
میں کس وحشت سے کھَلتی جا رہی ہوں

کہیں موجود ہے لاوا بدن میں
جو یوں قندیل گلتی جا رہی ہوں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *