Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ قندیلؔ بدر

غزل ۔۔۔ قندیلؔ بدر

ماہتاک سنگت کے لیے

لہو سے میں نے سینچی ہے جو سوچی بھی نہیں تو نے
جو دنیا میں نے دیکھی ہے وہ دیکھی ہی نہیں تو نے

دکھائی دینے لگتے ہیں وہ منظر جو نہیں منظر
فلک کی نیلی چادر کیا کبھی کھینچی نہیں تو نے

بہت اوپر سے مجھ کو دیکھتا ہے پاس آکر دیکھ
فقط مٹی سہی مٹی مگر چکھی نہیں تو نے

سنی بھی میں نے سیکھی بھی، پڑھی بھی اور پڑھائی بھی
وہ بھاشا تیری بھاشا تھی مگر سمجھی نہیں تو نے

محبت، ساز، بارش، گیت، کوئل، مورنی سب ہوں
کہانی ایک بھی ایسی کبھی لکھی نہیں تو نے

’’الف‘‘ سے ’’میم‘‘ تک کیا سب مکمل کر لیا میں نے
بہت دن سے میری جانب وحی بھیجی نہیں تو نے

جلے تو چاند سورج شرم سے چھپ جائیں کونوں میں
کیوں اتنی روشنی قندیلؔ میں رکھی نہیں تو نے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *