Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ غالب عرفان

غزل ۔۔۔ غالب عرفان

رقص کرتے ہیں اب مرے سائے
کیوں مجھے روشنی میں لے آئے

اُس کی سانسوں سے جو ہوا مہکی
کوئی اُس میں جئے کہ مر جائے

جال میں ایک مسکراہٹ کے!
ہم نے دکھوکے بھی کم نہیں کھائے

زندگی اک حسین خیال سہی
موت نے بھی تو خواب دکھلائے

اپنی آنکھوں کے احتساب میں ہوں
آئینے میں نہ روپ بہکائے

زعمِ شہرت میں جس نے گھر چھوڑا
دشتِ وحشت میں وہ بھی گھبرائے

حرف اور صوت کی کشاکش میں
میری آواز ہی نہ تھراّئے

شہرِ عرفان کے قول فیصل میں
کیا ہوں میں اور کیا مری وائے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *