Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ عمر برناوی

غزل ۔۔۔ عمر برناوی

بچھڑ گیا جو وہ چہرہ گلاب جیسا تھا
سراپا اُس کا غزل کی کتاب جیساتھا
دھنک کے رنگ تھے سب رنگ اُس کی آنکھوں کے
او راس کا بولنا بجنے رباب جیسا تھا
غم جہاں کے اندھیرے سمٹنے لگتے تھے
سیاہ شب میں وہ اک آفتاب جیسا تھا
یہ کس نے ماردیا دل کی جھیل میں کنکر
جواس میں عکس تھا وہ ماہتاب جیسا تھا
وہ ماہ وسال کی پریاں کِدھرگئیں اُڑ کر
گذشتہ عمر کا وقفہ حباب جیسا تھا
بچھڑنا اُس کا قیامت سے کم نہ تھا یارو
جھڑی لگی تھی برسنا سَحاب جیسا تھا
عمرؔ وہ ماہ وش کس دیس بس گیا جاکر
بغیر اُس کے یہ جینا عذاب جیسا تھا

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *