Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ عمرؔ برناوی

غزل ۔۔۔ عمرؔ برناوی

مہک رہی ہے فضا کون اِدھر سے گزرا ہے
بتاؤ پھولو کہ کیا تم نے اُس کو دیکھا ہے
شفق بتا تو سہی ، تو نے رنگ کس سے لیے
بتادے چاندنی کس سے چٹکنا سیکھنا
گھٹاؤ تم نے کبھی زلف اس کی دیکھی ہے
بتادے بدر، ذرا روپ اِن کا کیسا ہے
بیاض صبحِ بنارس تو آنکھ شامِ اودھ
وہ میرا ماہ وَش سرتا پا حور جیسا ہے
مہم صبا میں کہا ں ان کے پیرہن جیسی
کہاں گلاب بھلا کھلتا ہوا ویسا ہے
ہنسے تو چاروں طرف جلترنگ بجتے ہیں
فضائیں جھومتی ہیں جب وہ بات کرتا ہے
عمرؔ جدا نہیں میں اس سے ایک لمحہ بھی
وہ میرے دل میں ہے ہر وقت پاس رہتا ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *