Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ علی زیرک

غزل ۔۔۔ علی زیرک

سامان مرا ، دشت کے اْس پار پڑا ہے
یہ عشق تو میں نے کسی ہجرت میں کیا ہے
ٹھہرے ہوئے پانی میں دْھواں پھیل چکا تھا
مٹّی کا پیَالہ بڑی مشکل سے بھرا ہے
اب دیکھئے صحراؤ ں کی نخوت کا تماشا
دریا مری آنکھوں سے روانہ تو ہوا ہے
بہتر ہے کہ دو رْویَہ سڑک ، خواب کی حد ہے
عْجلت میں مری نیند کا طوفان اْٹھا ہے
آنکھیں تو نہیں ہیں مگر اِس ہجر کے صدقے
زنجیر کی ہلچل میں تْجھے دیکھ لیا ہے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *