Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ ظہیر مشتاق

غزل ۔۔۔ ظہیر مشتاق

کہاں اے دستِ آسماں ،ترا خمار تھا ہمیں
بس ایک اپنی ذات پر ہی اعتبار تھا ہمیں

بقا سے کب عز یز تریہ لطفِ یار تھا ہمیں
اجی! جہانِ خلا میں کہاں قر ار تھا ہمیں

ہمارے خون سے ہی کیوں دیارِ مقتلاں سجے
کہ زندگی سے ہی گلہ ، نہ شوقِ دار تھا ہمیں

یہ رقص ہائے زند گی جو ایک دم محال ہے
کبھی یہاں دھمال کا بھی اختیار تھا ہمیں

سر شتِ کافری کہاںِ ، یہ وقتِ اجتہاد ہے
نہیں کہ عہدِ رفتگاں تو نا گوار تھا ہمیں

نہیں کہ ساری داستاں بد ستِ غم لکھی گئی
کہیں کہیں کمال کا تو اختیا ر تھا ہمیں

انہی کے سرد ہاتھ کا یہ لمس ہی شفا بنا
ظہیر جن کے نام کا بہت بخار تھا ہمیں

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *