Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ شہزاد نیر

غزل ۔۔۔ شہزاد نیر

اتنی نہ اپنے نام کی ہر سْو دْہائی دے
جتنا تجھے میں سْن سکوں اْتنا سنائی دے
مجھ کو کسی بھی حال میں بندوں کے ساتھ رکھ
جن کو خدائی چاہیے اْن کو خدائی دے
سانسوں کی ڈور کاٹ دے،افلاک چاک کر
محبوسِ دل کو خیمہ جاں سے رہائی دے
جو چاہتا ہو درد کے اْس پار دیکھنا
اْس کو رسائی روزنِ زخمِ جدائی دے
دیکھے گا کوئی تیرگی میں دل بجھا ہوا
جلتا ہوا چراغ تو سب کو دکھائی دے
ہم انتہائے عشق کے راہی تھے ، یاد کر
اب رنج دینے آیا ہے تو انتہائی دے
میں تجھ میں چل کے خود سے بہت دور جا پڑا
اے یادِ یار ! اب مجھے مجھ تک رسائی دے
اْس کا وجود میرے تصور کا معجزہ
جیسا میں اس کو سوچ لوں ویسا دکھائی دے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *