Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ سعید اللہ قریشی

غزل ۔۔۔ سعید اللہ قریشی

ایک لمحہ بھی میں اوجھل نہیں ہونے دیتا
یعنی میں آج کبھی کل نہیں ہونے دیتا

روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز
زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا

شاہ سے میرا قضیّہ ہے پْرانا ، اور میں
اْس کی مرضی سے اِسے حل نہیں ہونے دیتا

اے مرے پیٹ کی چکی میں پسے میرے دِن
ظْلم یہ ہے میں تجھے کل نہیں ہونے دیتا

دو گھڑی تجھ سے تری بات چھْپا لیتا ہوں
پر میں یہ جبر مسلسل نہیں ہونے دیتا

بند رکھتا ہوں تری یاد پہ دَروازہ ء دل
ہاں مگر اِس کو، مقفّل نہیں ہونے دیتا

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *