Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ رحمان حفیظ

غزل ۔۔۔ رحمان حفیظ

تہہِ کوہِ صدا آتش فشاں رکھا ہْوا ہے
اک ایسا لفظ بھی زیرِ زباں رکھا ہْوا ہے
تِری آنکھوں میں کیوں جھلکا نہیں رنگِ تمنّا؟
ترے سینے میں دِل کیا رائیگاں رکھا ہوا ہے !۔
کسی منظر میں بھی تادیر رک سکتا نہیں میں
یہ چشمہ آنکھ کا پیہم رواں رکھا ہوا ہے
تکبّر سے کمَر کْوزہ ہوئی ہے آسماں کی
زمیں کو خاکساری نے جواں رکھا ہْوا ہے
میں اپنے تن میں دِل کو دیکھ کر حیراں ہْوا ہوں
عجب قطرہ سرِ صحرائے جاں رکھا ہوا ہے!!۔
یہ خود اک دوسرے کو راستہ دیتے نہیں ہیں
خیالوں نے خیالوں کو گراں رکھا ہوا ہے
وہ جو دِکھلا رہا ہے مجھ کو دو آنکھوں سے دنیا
اسی نے مجھ کو مجھ سے کیوں نہاں رکھا ہوا ہے؟
یہی تو ہے دلیل اس کی اماں بخشی کی رحمان
کہ اس نے مجھکو اب تک بے اماں رکھا ہوا ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *