Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ خورشید افروز

غزل ۔۔۔ خورشید افروز

ایسے نہیں ہے ٹھیک کہ ویسے نہیں ہے ٹھیک
میں اس ادھیڑ بن میں ہوں کیسے نہیں ہے ٹھیک
ہر چند پھونک پھونک کے رکھتا ہوں ہر قدم
پھر بھی یہ فکر رہتی ہے جیسے نہیں ہے ٹھیک
سب جھوٹ ہے مبالغہ آرائی ہے جناب
جو آپ کہہ رہے ہیں تو ایسے نہیں ہے ٹھیک
ہر شے کو زر میں تولنا انصاف ہے کہاں
قیمت مرے خلوص کی پیسے ، نہیں ہے ٹھیک
گٹھ جوڑ، اشتعال، کدورت میں فیصلے
سمجھوں گا ٹھیک سی انہیں، ویسے نہیں ہے ٹھیک
ہونٹوں پہ مسکراہٹیں آنکھوں میں حسرتیں
لہجہ کرخت ہے، نہیں ایسے نہیں ہے ٹھیک
افروز ان کے در پہ ذرا جا کے دیکھ لے
مفروضے خود بتادیں گے کیسے نہیں ہے ٹھیک

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *