Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ بلال اسود

غزل ۔۔۔ بلال اسود

سب ہی افرادِ مَحَل روک رہے ہیں مجھ کو
پر تری زلف کے بل روک رہے ہیں مجھ کو
ایک تُو ہے کہ مجھے کھینچتا ہے شدت سے
ایک یہ پاؤں ہی شل روک رہے ہیں مجھ کو
کچھ تمناؤں کی لذت مجھے للچاتی ہے
کیا ہے فردوس کے پھل روک رہے ہیں مجھ کو
میں نے اس بار کسی طور نہیں رکنا تھا
کیا کروں عزو جل روک رہے ہیں مجھ کو
دور سے آیا ہے اک نظم گو کا سندیسہ
اور احبابِ غزل روک رہے ہیں مجھ کو
دلربا وقت کے سکتے میں تجھے دیکھوں گا
یہ گزرتے ہوئے پل روک رہے ہیں مجھ کو
جھیل میں عکس مرا ڈوب رہا ہے اسود
تیرے ہونٹوں کے کنول روک رہے ہیں مجھ کو

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *