Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ بلال اسود

غزل ۔۔۔ بلال اسود

کچھ مسائل کا حل آفات میں چھپا ہوا ہے
جو بھی ظالم تھا اب اموات میں چھپا ہوا ہے

پل میں اک بار اسے دیکھنے کی خواہش میں
دل مرا اس کے مضافات میں چھپا ہوا ہے

سارا دن جس کے تعاقب میں گزر جاتا ہے
لمحہ شاید وہ کہیں رات میں چھپا ہوا ہے

سانس لو اتنی کہ اوروں کے لئے بچ جائے
مقصدِ زیست تو اس بات میں چھپا ہوا ہے

پیڑ کو بھی یہ خزاں آنے پر معلوم ہوا
ٍٍٍٍیہ جو سایا ہے گھنا، پات میں چھپا ہوا ہے

اپنی ترشی جو گھٹاؤں تو پھول جھڑتے ہیں
یعنی ہے زہر جو باغات میں چھپا ہوا ہے

کھوکھلی کر گیا تہذیب ہماری اسود
کیا یہ دیمک ہے جو آلات میں چھپا ہوا ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *