Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ بلال اسود

غزل ۔۔۔ بلال اسود

لوگ جاتے ہیں جہاں سے وہ جہاں باقی ہے
جب مکیں ہی نہ رہے کیسے مکاں باقی ہے

یہ جو منظر ہیں دھواں اور بھی دھندلائیں گے
دھند باقی ہے ابھی اور دھواں باقی ہے

ایک اک کر کے یہ دنیائیں فنا ہوں گی مگر
جب تلک آسماں باقی ہے سماں باقی ہے

موت بازار میں نکلی ہے تماشا کرنے
زندگی کے لئے سرکس کا کنواں باقی ہے

چومنے کے لئے میڈل ہے سرہانے ، ماں کے
کیا جو حیدر نہ رہا! اس کا نشاں باقی ہے

گم گئے مجھ سے زمیں مجھ سے فلک مجھ سے خدا
تیرے گم ہونے تلک میرا گماں باقی ہے

اس قدر سرد رویوّں نے جمایا اسود
بات کرنے کی حرارت بھی کہاں باقی ہے

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *