Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ اکرم خاورؔ

غزل ۔۔۔ اکرم خاورؔ

اپنی قسمت میں کہاں کوئی گھڑی آرام کی
داستاں کیسے بیاں ہو رنج کی آلام کی

اس لیے بھی میں نے نظروں کو چرایا قصداََ
کچھ تو صورت ہو سنبھلنے کی دل ناکام کی

پیار کی حدت بہت تھی اور ہم نازک بہت
ڈال دے چادر ہمارے سر پہ اپنے نام کی

کہہ دیا اس نے سرمحفل جو اس کے دل میں تھا
فکر ہے کیا اس کو اپنے حسن کے انجام کی

کچھ تو میرے شہر کی آب و ہوا بے چین تھی
اور امیرِ شہر بھی بولے ہے بولی رام کی

چشمِ گریہ کیا کرے اور آنسوں کا ذکر کیوں
جب حقیقت کھل گئی اس کے حسیں پیغام کی

اب دل مضطر کو خاورؔ یاد رکھنا ہے عبث
دل ہے ترے کام کا نہ جاں ہے تیرے کام کی

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *