Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ انجیل صحیفہ

غزل ۔۔۔ انجیل صحیفہ

شب گزیدہ اس سحر میں روشنی بہنے لگی
یعنی مجھ میں تیری صورت زندگی بہنے لگی

چاند، بادل، رات ، صحرا ، تیر ا کاندھا میرا سر
ریگ زارِ خواب میں پھر چاندنی بہنے لگی

کیا حسیں منظر ہے جس میں، میں بھی ہوں اور تو بھی ہے
ٹین کی چھت پر برستی خاموشی بہنے لگی

تیرے دل سے میرے دل کا کیا سہانا میل ہے
پر بتوں کے ساتھ کوئی اک ندی بہنے لگی

سات رنگوں کی دھنک ہے میرے چہرے پر سجی
بادلوں کے ساتھ میری اوڑھنی بہنے لگی

میرے کانوں نے سنی تھی کب میرے دل کی پکار
کیا ہوا کیوں صحن دل میں راگنی بہنے لگی

نیلی تتلی پھر ملی ہے سبز ہوتی گھاس پر
باغ پھر سے کھل رہا ہے پھر خوشی بہنے لگی

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *