Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ انجیل صحیفہ

غزل ۔۔۔ انجیل صحیفہ

اپنی تنہائی کا احساس ڈراتا ہے مجھے
ہاں مگر دور سے اک شخص بلاتا ہے مجھے
جب یہ دنیا نہیں ہوتی میرے چاروں جانب
نئی دنیا کے نئے رنگ دکھاتا ہے مجھے
وہ میرا ہاتھ پکڑ لیتا ہے ہر مشکل میں
ہر کٹھن راہ میں ٹھوکرسے بچاتا ہے مجھے
پہلے یہ درد برستا ہے میری آنکھوں سے
پھر یہی درد بہت دیر ہنساتاہے مجھے
مجھ کو پڑھتا ہے کوئی صرف کہانی کہہ کر
کوئی ٹوٹے ہوئے وعدے سا نبھاتا ہے مجھے
کوئی زنجیر سی باندھی ہے تیری آنکھوں نے
اس طرح قید میں رہنا ہی توبھاتا ہے مجھے
اس کی دھڑکن پہ ہوں تحریر کئی برسوں سے
کتنا نادان ہے کیوں روز مٹاتا ہے مجھے
میرے پڑھنے کو میسر ہے فقط تو انجیل
بات اتنی سی ہے پر روز بتاتا ہے مجھے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *