Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ احسان اصغر

غزل ۔۔۔ احسان اصغر

جانے کیا دیکھتی ہے ۔۔۔آئینہ رو ہوتی نظر
بین کرتی ہوئی آواز …لہو ہوتی نظر

گھر کی سیلن زدہ دیوار پہ لٹکی تصویر
اور وابستہ آئینِ نمو۔۔ہوتی نظر

میں تو بے ڈھال تھا بے ڈھا ل کہاں بچ سکتا؟
تیر کی طرح تھی پیوستِ گلو ہوتی نظر

زخم پر دستِ رفو گر کی کہاں چلتی ہے
تو جو آتا تو کوئی دم میں رفو ہوتی نظر

پھینک دیتا مجھے منجدھار کنارے کی طرف
اے مرے دوست جو تیری لبِ جو ہوتی نظر

میری آنکھوں کو کہاں تاب تجھے دیکھنے کی
میں تجھے دیکھتے رہنا تھا جو تو ہوتی نظر

ہلکے گہرے سبھی رنگوں کو سمیٹا کرتے
گر ہم اندھوں کے تصرف میں کبھو ہوتی نظر

اک صراحی سے رواں زندگیِ تلخ کی مے
خواب پیمانہ بنا جاتا …سبو ہوتی نظر

 

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *