Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔۔ کاوش عباسی

غزل ۔۔۔۔ کاوش عباسی

اُلجھتی، ہارتی نظروں کا ہمر کاب تو تھا
ہزار ٹوٹا ہوا تھا وہ ایک خواب تو تھا

میں اُن سے کہتا تھا اِک دِن بچھڑ ہی جائیں گے ہم
سو ہم کو سوجھتا پہلے سے کچھ حِساب تو تھا

اب اِس پہ کوئی نہ منزل نہ کوئی دوست سہی
مگر یہ راستہ ہی میرا انتخاب تو تھا

اُسی کی ضوہی سے روشن تھے رات دن میرے
وہ دور بھی مرا مہتاب و آفتاب تو تھا

کسا ہوا عجب اک راہ پر رہا جیون
کہ سخت سچ مرا مجھ پر اک احتساب تو تھا

کچل ہی رکھا تھا جس نے مجھے مرے اندر
وہ باہر آن مری ، میری آب و تاب تو تھا

وفا کچھ اس سے تھی نالاں مگر دل آجانا
اک اور رخ پہ بھی ، اک زندگی کا باب تو تھا

وہ جس نے مجھ کو نیا آدمی کیا کاوش
نظر نہ آیا مگر ایک انقلاب تو تھا

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *