Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔۔ کاوش عباسی

غزل ۔۔۔۔ کاوش عباسی

ان کے بغَیر ہو ش ہی جب تھے نہیں مجھے
یاد اب وہ بد حواس زمانے نہیں مجھے

رِشتہ کوئی نہیں یہ مِرا ہی جھ±کا و ہے
مِلنا میں چھوڑ دوں تو وہ مِلتے نہیں مجھے

تصویر سال ہا کی دِنوں میں بِکھر گئی
اکثر تو اب وہ یاد بھی آتے نہیں مجھے

م±جھ میں برائَے حسن عجب اِنتقام ہے
میں چا ہتا نہیں جو وہ چاہے نہیں مجھے

اب میں بھی اپنے عشق کی ضِد میں، انا میں ہوں
آتا نہیں جو خود وہ بلا ئے نہیں مجھے

جِن فا صلوں میں رکھتے ہَیں کا وِ ش وہ خود کو بند
طَے ہو تے فا صلے تو وہ لگتے نہیں مجھے

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *