Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » عہد ساز شخصیت درویش ۔۔۔ مقبول احمد ناصر

عہد ساز شخصیت درویش ۔۔۔ مقبول احمد ناصر

اعلیٰ تعلیم یافتہ،محقق، سیاستدان ،خدائی خدمتگار،اور رہبر ملت سائیںکمال خان شیرانی کو خداداد صلاحیتوں سے لبریز پایا بلاشبہ وہ تکبر اور غرور سے بہت دور انسان تھے سادہ لباس سادہ خوراک اور سادہ زندگی ان کا وطیرہ تھا،سائیں کمال خان نے غربت کے دور میں ایک غریب اور محنت کش شخص عیسیٰ خان شیرانی کے گھر میں آنکھ کھولی اور غربت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی وہ ایک ایسے گوہر کی حیثیت رکھتے تھے جس کی قیمت کسی کے پاس نہیںمن کے سچے قول کے پکے اور دھن سے دور انوکھے انسان تھے جو اپنے مختصر اور کمزور جسم میں علم و دانش کا وسیع و عریض سمندر رکھتے تھے ہر قسم کی سرکاری مراعات لوازمات اور مفادات کو ہمیشہ ٹھکراتے رہے بلکہ پیروں تلے کچلتے رہے روکھی سوکھی کر زندگی گذارنے اور سربلند رہنے والے سائیں کمال خان نے طویل عرصے تک غربت کے خوفناک اندھیروں میں علم کی روشنی پائی اور پھیلائی وہ ہر نوجوان ہر طالب علم اور ہر شاگرد کے لئے ایک مثالی روشن ستارے کی حیثیت رکھتے تھے بے شمار تشنہ تعلیم لبوں کو پڑھنا سیکھایا تعلیم کی جانب راغب کیا اور جہالت کی تاریک راہوں سے اجالوں کی جانب رواں دواں رکھا اندرون ملک اور بیرونی دنیا سے بھی لوگ ان سے ملاقات کے لئے خصوصی طورپر ژوب آتے اور ان کی انجمن اور گفتگو سے استفادہ حاصل کرتے تھے بہت بڑے بڑے قبائلی سیاسی اور سرکاری صاحب ثروت و صاحب شہرت صاحب اقتدار اور صاحب دربار لوگ ان سے ملاقات کے لئے آتے اور ان کے مخصوص اور لاثانی مہمان خانے میں بیٹھ کر سلیمانی چائے پیتے اور لمحوں میں دم بخود ہوجاتے اس کالی چائے کی پیالی میں کتنا سرور تھا کتنی لذت تھی کتنی چاشنی تھی اور کتنا خلوص ایثار پیار اور وقار تھا کتنے تشنہ لبوں کو سائیں نے علم کے پیالے پلائے جینے کا ڈھنگ سکھایا سیاست کا راستہ دکھایا اور کتنا اجالا پھیلایا کتنے لوگ ان کی مشفقت اور خلوص و ہمدردی سے فیض یاب ہوئے ان کا شمار مشکل ہے یہ راز تو وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے سائیں کے ہاتھوں سے چائے کی پیالی پی وہ لوگ جانتے ہیں جن کی سائیں سے شناسائی تھی جو سائیں کے مہمان خانے میں خود ساختہ پتھروں کی بنائی ہوئی خوبصورت اور دلکش نشستوں پر بیٹھ کر سائیں کی دھیمے لہجے میں فولادی عزم کی باتیں سنیں ان کی ہر بات ایک فلسفے کی حیثیت رکھتی تھی نہایت مٹھاس اور نرم لہجے میں بات کرتے اور سننے والوں کو سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن کردیتے تھے سامعین کو تفکرات کی وادیوں میں پہنچادیتے رہبری کی باتیں خود داری اور ذمہ داری کی باتیں آگے بڑھنے اور منزل تک پہنچانے کی باتیں سائیں بذات خود ایک کتاب کی مانند تھے ان کی زندگی پر ایک نہیں کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں وہ معلومات کاناتمام ذخیرہ تھے دوراندیش اور درویش انسان تھے راقم الحروف نے بھی سائیں کو نہایت قریب سے دیکھا اس وقت سے جب سائیں کمال خان پشتونخوا آراءکے دالان پر بیٹھے اور توجہ کا مرکز دکھائی دیتے تھے ایسے میں ان کے ارد گرد استاد حافظ عبدالغفور مرحوم ،سائیں کمال دین شیرانی، محترم عبدالرحیم ایڈووکیٹ، مرحوم حاجی شیر جان لالہ ،مرحوم ملک محمد ہاشم کاکڑ ‘ محترم محمد جان لالہ،مرحوم میرا خان مندوخیل ،محترم مولوی عبدالرحمٰن کاکڑ،عبدالرحیم کلیوال شہید، محترم رضا محمد رضا بزرگ شاعر برملا خان برمول اور دیگر دوست اور پےروکار اکھٹے ہوتے تھے اس وقت کی شنائی کم عمری کی شناسائی اور قربت ان کی وفات تک جاری رہی ان کے مہمان خانے میں بے شمار ملاقاتیں ہوئیں جناب مدرس داﺅد خان شیرانی اور ” راقم “ کافی عرصے تک ایک معمول کے تحت ہفتے میں ایک روز ان سے ملنے کےلئے تسلیازہ جاتے تھے راقم انڈین ایشن بیٹری پینے کا عادی ہے کبھی کبھار سائیں کیلئے بھی یہی تحفہ ایک بنڈل بیڑی ساتھ لے جاتا تھا سائیں بہت خوش ہوتے اور کہتے کہ بیڑی کا چسکاحافظ عبدالغفور صاحب نے دیا اب میں بھی اس بیڑی کارسیا ہوگیا ہوں بعض اوقات میں قلم اٹھاکر ان کے تاثرات اور گفتگو لکھنا چاہتا تو وہ سختی سے منع کرتے اور کہتے ناصر جان مجھے نمایاں نہ کرو میں گمنامی کی زندگی میں نہایت پرسکون ہوں اور اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے اس حالت میں ہمہ وقت تیار رہتا ہوں مجھے اخبارات کی زینت مت بناﺅ کبھی تصویر لینے کیلئے کیمرہ تیار کرتا تب بھی وہ منع کیا کرتے کہ اخبار کیلئے تصویر نہ لو وہ ایک خود دار انسان تھے انہیں ظاہری نام و نمود شان و شوکت اور خود پسندی سے نفرت تھی وہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے سخت خلاف تھے اپنی تعریف کو ناپسند کرتے اور دوسروں کی تعریف کرتے تھے وہ کہتے مجھے جیتے جی اشتہاری رسومات کا شکار نہ بناﺅ میں اور میرا ساتھی اصرار کرتے کہ سائیں یہ تو ہم دوستوں کی خواہش ہے کہ آپکو آنے والی نسلوں کےلئے ایک آئیڈیل کے طورپر پیش کریں سائیں نہایت دھیمے لہجے میں کہتے یہ سب کچھ میرے مرنے کے بعد کرنا پھر جو دل چاہے لکھتے رہنا ہم ساتھی بے بس ہوجاتے اور پھر ان کی بات مان کر قلم اور کیمرہ بند کردیتے مرحوم ایک شفیق نفیس اور عزیز انسان تھے انہیں حافظ عبدالغفور مرحوم سے دلی محبت تھی اور حافظ صاحب سے حد درجہ متاثر تھے کیونکہ وہ دونوں ہم عمر اور کچھ عرصے تک کلاس فیلو بھی رہے اور مخلص دوستی کے تحت ایک دوسرے کی قدر کرتے تھے نظریاتی طورپر بھی دونوں ایک ہی راستے کے مسافر تھے ترقی پسند تھے خدمت خلق کے جذبے سے سرشار انسانیت کی فلاح و بہبود ترقی و خوشحالی کے داعی تھے بلا تفریق رنگ و نسل انسانیت کی خدمت کرنے والے دونوں دوست قدو قامت ” سوچ فکر “ معمولات میں مشترک تھے سائیں کمال خان شیرانی نے شادی بھی ادھیڑ عمری میں کی متذکرہ جملہ دوست انہیں بار بار شادی کرنے پر اصرار کرتے تھے مگر وہ نہیں مانتے تھے بالآخر حافظ عبدالغفور نے انہیں اس بات پر راضی کیا یہ دونوں حضرات حلقہ یاران اور جماعت میں محترم تھے ہر دوست اور ہر پارٹی کارکن ان کی دل و جان سے قدر کرتے تھے یہ بھی حقیقت ہے کہ سائیں جو اپنے نام کیساتھ اولس مل اور سلےزی لکھتے تھے اولس مل ان کا اہم کردار تھا وہ حقیقی اولس مل عوام کے ساتھ تھے جبکہ سلیازہ وادی کی مناسبت سے جہاں وہ رہائش پذیر تھے ” سلےزی “ بھی ان کا تخلص تھا جبکہ سائیں کا لقب حافظ عبدالغفور نے انہیںعطا کیا اور سائیں ان کے نام کیساتھ لازم و ملزوم ٹھہرا سائیں کے والد گرامی عیسیٰ خان شیرانی اکثر محنت مزدوری کیلئے گھر اور گاﺅں سے ہجرت پر ہوتے گھر بار کے اخراجات اور ضروریات پورا کرنے کےلئے وہ متحدہ ہندوستان کے دور دراز شہروں میں جاتے اور مزدوری کرتے چند ماہ بعد کچھ دنوں کےلئے گھر آجاتے اور پھر رخت سفر تیار کرکے ہجرت اختیار کرلیتے یہی وجہ تھی کہ والد نے کمال خان شیرانی کو دوسرے گاﺅں کے ایک خدا رسیدہ قبائلی شخصیت کے حوالے کیا جس نے سائیں کمال خان کی اپنے بچوں کی طرح پرورش کی اور تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کیئے سائیں نے اعلیٰ تعلیم لاہور اور پشاور کی یونیورسٹیوں سے حاصل کی تعلیم سے فراغت کے بعد پرورش کرنے والے بزرگ نے انہیں نائب تحصیلدار کے عہدے پر فائز کرنے میں بھی مدد کی جبکہ سائیں کمال خان کو حکومت کی جانب سے بار ہا سرکاری ملازمت اور اعلیٰ عہدوں کی پیشکش ہوتی رہی لیکن وہ سرکاری ملازمت سے نالاں تھے وہ کچھ وقت یعنی چند ماہ نائب تحصیلدار کے منصب پر رہنے کے بعد ضمیر کے اس قیدی نے استعفیٰ دے دیا غلامی کے قفس کو توڑ کر آزادی کی فضا میں امارت کی بجائے غربت کی زندگی کو ترجیح دی اپنی آزاد خیالی اور قومی واک اختیار کو فروغ دینے کے لئے وہ میدان میں اترے اور اہم سرکاری عہدے کو ٹھکرا کر قوم کے مفاد پر قربان ہونے اور قوم کو درست سمت پر لانے کے لئے عملی جدوجہد کا آغاز کیا سائیں نے قومی سیاست کی داغ بیل ڈالی آزاد شفاف اور مثبت صحافت اور حقیقی سیاست کے فروغ کے لئے چند دوستوں کے ساتھ ملکر لٹ خانہ نا تحریک کی بنیاد رکھی اور اس راستے سے قومی شعور اجاگر کیا اس دوران بھی انہیں قید و بند کے علاوہ سخت مشکلات بے شمار مصائب و مسائل سے دوچار ہونا پڑا مگر انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اپنے مشن سے لگاﺅ کے تحت آگے بڑھتے رہے انہیں بار بار اعلیٰ سرکاری عہدوں کی پیشکش ہوئی اس لیے کہ استعماری قوتیں سائیں کمال خان سے خوف زدہ تھیں وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑ نے کے لئے سرگرم عمل تھے کیونکہ وہ مفادات لالچ اور مراعات کے لیے نہیں بلکہ قومی آزاد ی کے لئے سیاسی میدان میں آئے تھے انہوں نے ذاتی آسودگی کے بجائے قومی آسودگی کےلئے سیاست کو اہمیت دی سائیں نے اپنی زندگی قوم کے لئے وقف کررکھی تھی اور اس نظریئے کے تحت خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے شانہ بشانہ جدوجہد آزادی سے وابستہ ہوگئے مصائب و آلام مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے ظلم کے آگے سر نہیںجھکایا اور پشتون قومی تحریک میں سرخیل کا کردار ادا کرتے رہے وہ ملک کے بڑے بڑے نامور سیاست دانوں،دانشوروں،ادبیوں،شاعروں اور صحافیوں کے احاطے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے پشتون قوم کی درماندگی پسماندگی ناخواندگی اور بے اتفاقی پر حد سے زیادہ پریشان رہتے تھے قوم کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اجالوں کی جانب ہمسفر کرنے اور بے اتفاقی ،نا چاکی کے خلاف متحرک رہے اور ہر دور حکومت میںحقوق کی جنگ لڑتے رہے وہ حقیقی لیڈر کی طرح خاموش کردار ادا کرنے اور گمنامی اور سادہ ترین زندگی میں نام پیدا کرنے والے سچے سیاسی اور نڈر سپاہی تھے بے جا تعریف دولت اور شہرت کے خلاف تھے اور خوشامدی پن سے دور انسان تھے ان کے ضمیر اور خمیر میں سادگی اور سچائی کا عنصر واضح تھا اپنے علاقے ژوب ،شیرانی میں نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار مثالی تھا ان کی جدوجہد اور کاوشوں کی بدولت ژوب اور شیرانی میں شرح تعلیم میں قابل ذکر اضافہ ہوا نوجوانوں میںحصول علم کا شوق اس قدر بڑھا کہ آج بفضل خدا تعالیٰ ہر گھر میں نہیں تو کم ا زکم ستر فیصد گھرانوں میں تعلیم کا رحجان پایاجاتا ہے اور علاقے کے بے شمار نوجوان طالب علم ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بے شمار نوجوان اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور روشن مستقبل کے مالک ہیں سائیں ہر قبیلے اور ہر علاقے کے لوگوں کو یہی درس دیتے رہے کہ تعلیم ہی کی بدولت قوم کی موت و حیات عزت و شہرت ترقی اور خوشحالی ممکن ہے جہالت قوموں کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے وہ ہر قبیلے کے معتبرین،بوڑھوں،نوجوانوں،بچوںاوربچیوںکو تعلیم سے رغبت و محبت کا درس دیتے رہے اس سلسلے میں سائیں نے بھرپور انداز میں تحریک چلائی پتھر کے اس زمانے میں جب ہمارے حساس قبائلی معاشرے میں تعلیم کے حصول کو گناہ تصور کیاجاتا تھا بالخصوص عصری تعلیم کا رحجان تین فیصد سے بھی کم تھا ایسے دور میں سائیں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور دوسروں کو اس راستے پر چلنے کا درس دیا وہ خاموش انقلابی کی حیثیت سے فروغ علم کےلئے حالات وواقعات سے نبردا آزما تھے اور جدوجہد کرتے رہے آج ان کی جدوجہد کا ثمر ہم دیکھ رہے ہیںآج ہر بچہ تعلیم حاصل کرنے کا خواہاں ہے سائیں کا کہناتھا کہ تعلیم کی کوئی آخری منزل نہیں،ایک طویل سفر کی مانند ہے سمندر کی طرح ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے اس کے حصول میں عمر آڑے نہیں آتی بلکہ عمر کے ہر حصے میں سیکھنے والے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں حصول علم میں عمر کی کوئی قید نہیں میں آج بھی عالم نہیں بلکہ طالب علم ہوں اور اس لیے جدید دور کی جدید کتابوں کا آج تک مطالعہ کرتا ہوں اور تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہو وہ کہتے تھے کہ قومی واک اختیار اور خود مختاری تعلیم کے بغیر ناممکن ہے قومیں تعلیم ہی کی بدولت ترقی کی منازل طے کرتی ہیں سائیں ضعیف العمری میں بھی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے یہ ان کی عادت بن چکی تھی وہ جب بھی تنہا ہوتے کتاب پر سر جھکائے نظر آتے تھے سائیں کی معلومات کا احاطہ حیران کن حد تک وسیع و عریض اور کشادہ تھا سائیں خوش طبع اعلیٰ سوچ و فکر کے مالک تھے تنگ نظری،نسلی و لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر ہر سوچ کے مالک سے خوش اخلاقی محبت اور سچائی کیساتھ پیش آتے اور خندہ پیشانی کیساتھ خاطر تواضع کرتے ملنے والوں کا موقف ٹھنڈے دل سے سنتے غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح قرار دیتے تھے وہ خان شہید کے کاروان میں سپہ سالار کی حیثیت رکھتے تھے اور تادم مرگ اسی قافلے کے ساتھ چلتے رہے اور طویل عرصے تک صاحب فراش رہنے کے باوجود اپنے مشن سے کنارہ نہ کیا اور مخلص رہتے ہوئے اس کاز کو آگے بڑھاتے رہے بالآخر موت موت ہے جو کسی کو نہیں چھوڑتی اس موت نے سائیں کمال خان کو بھی آخر کار زیر کیا اور اس روشن ستارے کو بھجادیا تاہم اس کی پھیلنے والی روشنی مدہم نہ ہوئی اور ان کی پھیلائی ہوئی روشنی رہتی دنیا تک رہے ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *