Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » عہدِ حاضر کا قلمکار اور سماج ۔۔۔ غلام نبی ساجد بزدار

عہدِ حاضر کا قلمکار اور سماج ۔۔۔ غلام نبی ساجد بزدار

(نوٹ یہ پیپر سنگت اکیڈمی کے چھٹے کانفرس میں ۲۲ نومبر ۲۰۱۵ ء کو پڑھا گیا)
نا نازینک ءِ نا لولی ءِ
امیت و نا امیتی ءِ نا پچارے
نڑانی زیل گیمُرتہ
مرادءِ کارواں وپتہ

معزز حاضرین!
ادب اور سماج کا رشتہ دنیا میں ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ناگزیر رہے ہیں۔ قلمکار اور شاعر اپنے عہد کا ترجمان ، ماضی یا گزشت کا گواہ اور مستقبل کا پیش بین (سرگواث) ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے حالات میں امید کا پیغام بر رہا ہے۔ بعض معاشرے کو صحیح سمت دینے کے لیے کردار ادا کرتے ہیں تو بعض زندگی کو نا امیدی کی گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر روشن کل کی نوید سناتے ہیں۔یہ کہنا غلط نہیں کہ انسانی تاریخ میں ساری سماجی اور سیاسی تبدیلیاں اور انقلابات ادیبوں اور تخلیق کاروں کی حسیت اور احساس کے مرہون مِنت رہے ہیں۔
یہی قلمکار فرد کی آزادی اور شرفِ بشر کے پیش رو ثابت ہوئے ہیں۔ ادب اور انسانی فکری ارتقاء کے لیے ترقی پسند اور تبدیلی پسند سوچ پر مبنی افکار آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے ارد گرد کے حالات اور نادیدہ ہاتھوں سے نقصان کے خوف نے ہمارے مفکر کو حقائق کی دنیا سے دور اور موہوم سی مصلحت پسندی کا شکار کر دیا ہے۔
گراں وہاویں وطن یاراں
او ! زانت کاراں ! قلمکاراں
شئے وش وابی سلامت باث
بلے بانگھ ءَ
مناں سجدہ کھنغی بیث
چھیں فرعونءِ چھیں قارون ئے
مفہوم؛ اے گراں خواب وطن یارو
اے دانشور ، قلمکارو!
یہ گراں خوابی سلامت ہو
مگر ایک دن
مجھے سجدہ نہ کرنا پڑے؟
کسی فرعون کسی قارون کو یارو
ایسے میں مجھے پروفیسر عزیز مینگل مرحوم و مغفور بہت یاد آرہا ہے موصوف نہایت اخلاص اور تواتر سے کہا کرتے تھے
’’ہمارے دانشور اور قلمکار اس عفریت کا شعور اور ادراک ہی نہیں رکھتے جو عدم برداشت اور انتہا پسندی کی شکل میں ہمارے ارد گرد پنجے گاڑ رہی ہے۔ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کس طرح ہم پر اثر انداز ہونے والی ہیں ؟۔گواہ رہو کہ میں چشمِ تصور سے دیکھ ریا ہوں کہ اس عذاب نے اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تواس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے۔ تہذیب اور ثقافت کے خلاف اس فسطائیت کے اندھیرے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ وہی تھیوکریسی جو ایک عرصے تک ملوکیت اور جاگیرداری نظام کو مضبوط کرتا رہا اب وہ خود انسانوں کی تقدیر کا مالک بننے کا ارادہ کر چکی ہے اور ہر سطح پر شعور، خرد افروزی اور روشن خیالی کی نفی کر رہی ہے۔‘‘
سماج جس کو ان خطرات کا سامنا ہے اسے درست سمت میں رہنمائی دینا ادب اور ادیب کی ذمہ داری ۔ہے ایسے میں ایک طرف ہمارا مفکر اور قلمکار ہے جس سے رحمان اور شیطان دونوں اگر خوش نہیں تو ناراض بھی نہیں ہیں۔ نا ہی انسان دشمن قوتوں کو ان سے کوئی خطرہ ہے۔ یوں وہ ہر وقت ایک محفوظ اور کہیں کہیں تو نوازش یافتہ زندگی کے مزے بھی لوٹتے ہیں اور شہیدوں میں نام لکھوانابھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
باب العلم حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا قولِ مبارک ہے۔
’’ جو شخص ہر محفل اور ہر مکتبہِ فکر میں یکساں مقبول ہو ، یقیناً منافق ہے‘‘
ایک دور تھا کہ ہمارا سر شاعر اور عاشق بیورغ امن کے لیے کوشاں رہا اور چاکر کو آخری لمحے تک جنگ سے روکنے کی کوشش کرتا رہا ۔
یہاں تک کہ چاکر کو اپنے عزیز ترین بھانجھے اور بیرک دار میران رند کی موت سے ڈرانے اور نادیدہ تباہیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’ مرشی رنداں برے میڑینئے گڈا میرانءَ مناں شوندارے‘‘
ایک ہم ہیں کہ ہمارے سامنے کتنے ہی میران جنگ کا ایندھن بنتے رہے۔ طاقتور کون؟ کا مسئلہ پھر بھی حل نہ ہو سکا۔ اور ہماری بستیاں موتک کی صداؤں کے اسیر رہے۔
’’ پھے مئے ماثاں کہ ہرو موتکاں ننداں یلیں اڑبھنگ چھوٹانی‘‘
اور ان وفا شعاروں کے پسماندگان پر کیا گزر رہی ہے جو وقت کے سقراط بن کر زہر پیتے رہے اور راہی ءِ ملکِ عدم ہوئے۔
’’ سچاراں ، بلے جوریں بوڑی چھرنت اش‘‘
پھذیغاں ہماں درڈ وزت ورت اش‘‘
جب کہ ہم بہت کُچھ جان کر بھی ، ممکنہ نتائج اور بربادیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود بھیِ دانش اور فرضِ حریت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ اور اپنی عافیت ہی کو عزیز رکھے رہے۔
’’ وہ حق پر ہیں یہ جانتا تھا
امام بھی اُن کو مانتا تھا
مگر میں چُپ تھا۔
کہ ہر ایک شریف انسان کی مانند
مجھ کو اپنے اور اپنے بچوں کی عافیت ہی عزیز تر تھی۔۔۔‘‘
رہا معاملہ عام آدمی کا کہ وہ ادب اور معاشرتی معاملات سے دور کیوں ہے؟ تو سماجیات کے ماہر بہت پہلے یہ بات ثابت کر گئے کہ عمل کی قوت 8سے10 فیصد لوگوں میں ہوتی ہے اور تحریکوں کے ہراول اور فکری ارتقاء کے سرخیل یا راہ شون 2سے 4 فیصد کے درمیان ہوتے ہیں۔
پھرجس عہدِ زوال سے ہم گزر رہے ہیں یہ در اصل فوری نتائج اور مادی فوائد حاصل کرنے کا زمانہ ہے۔لوگ لفظوں کے معنی اپنی مرضی سے کرنے کے عادی ہیں تاہم اس کے باوجود ادبی تنظیموں نے جب بھی مقصدیت کے تحت مختلف کانفرنسوں کا انعقاد کیا تو مُنتظمین کو ہمیشہ نشستوں کی کمی کا مسئلہ درپیش رہا ۔ سننے والوں نے کمال درجے کی صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور توجہ سے مقالے سُنے اور انھیں سراہا۔
البتہ کچھ تو مسئلہ ہے ہمارے قلمکار کے ساتھ، کہ ہم نظریات اور مختلف قسم کی تحقیقات کے نتائج سے نہ صرف اختلاف کرتے ہیں بلکہ اختلافِ رائے کو گردن زدنی کا سزاوار بھی ٹھہراتے ہیں۔ خیالات اور افکار کی بُعد پر شخصیات کو تختہِ مشق بھی بنایا جاتا ہے۔ نقاد حضرات صحت مند اور حوصلہ افزاء تنقید نگاری کے بجائے آنکھیں بند کر کے مغرب کے پیمانے ہم پر آزما رہے ہیں۔ اس رویے کی آخری اس وقت پار کی جاتی ہے جب ایک عقلِ کُل کے دعویدار صاحب نے مشرقی بلوچستان کے لکھاری پر اپنا فتویٰ تو صادر کر دیا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا موصوف سلیمانی لہجے کی استعارات، تشبیہات اور یہاں تک کہ لفظیات سے واقف ہیں تو نقاد صاحب کا جواب نفی میں تھا۔
پھر تجریدی، اور نا جانے کس کس ادب کے بہانے ، من پسند اور پیچیدہ علامتوں اور استعاروں کے استعمال سے قاری کو عذاب میں ڈالا گیا۔ ان سربستہ رازوں کو جاننے کے لیے مصنف کے ہاں مہمان ٹھہرے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ یوں بھی خالی پیٹ اور برہنہ بدن معاشروں میں ’’ عارض کی دھوپ اور زلفوں کی گھٹا ‘‘ چے معنی دارد؟
ساحر نے ایسے ہی حالات میں کہا تھا
’’ ابھی نا چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول سازگار نہیں۔‘‘
ایک طرف رومانویت پسندی ہے اور دوسری جانب مقصدیت کے ماننے والے ہیں۔ ان کا نزاع کہیں ادب کو خوبصورتی اور پسندیدگی کی معیار سے دور نہ کردے۔بعض نقاد مقصدیت کو ادب کی ترقی میں رکاوٹ مانتے ہیں جب کہ مقصدیت کے بغیر ادب بے جان حسین مورتی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ادیب یا شاعر کو واعظ بن کر بے روح اور ناپسندیدہ نوعیت کا ناصح بن جانا چاہیے۔ تاہم فنی خوبصورتی اور کمال درجے کی رومانویت میں بھی مقصدیت کا عنصر شامل ہونا ضروری ہے۔
’’ کہنی تئی مہر ءُ انقلاب
باریں جذا یا سنگت انت
پھرما دوئیں ات زندگی
پھرما دوئیں زیندے مراذ‘‘
ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ چند ایک سوالات بہر حال غور طلب ہیں۔ کہ کیا ممکنہ مُستقبل کے بارے میں علم رکھنے کے باوجود بھی خاموشی ادبی گناہ نہیں۔ میں یومِ حساب کی بات نہیں کر رہا تاہم آنے والی نسلیں ہمارے رویوں اور تحریروں کو وقت کے ترازو میں ضرور تولیں گے۔ اس احساس کا کیا کیجیے گا جو ہر لمحہ بے چین رکھتی ہے کہ ہم جس سحر زدہ سماج میں جی رہے ہیں وہاں انسانوں کی اہمیت، اور حیثیت ان کی ظاہری مقام اور ان کی ضرر رسانی کی قوت پہ تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے جو شخص زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اسے ہی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
’’ جاہے سجدہ کننت
جاہے یاغی(باغی ) ٹھہنت۔‘‘
لیکن ہمارے ہاں ایسا نہ تھا۔ عطا شاد نے دوستوں کے مشورے کے باوجود بھی میر کے در پر سلامی کے لیے جانے سے انکار کر دیا۔
اور کہا دل ءَ نہ من اِث‘‘
’’یار زورا ورئے سجدہ
مئے نہ رسم انت نہ دود کوہانی
ما گنوخ بیثاں ۔۔یا ڈیہہ را اشتہ۔‘‘
باشعور انسانوں نے ہر دور میں نور کے کارواں کو آگے بڑھانے کا فریضہ سر انجام دیا ۔ ہم بھی اپنی بساط کے مطابق یہ جہد جاری رکھیں گے۔ ہم معاشرے کا کایا پلٹ سکیں گے یا نہیں تاہم ’’ دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہیں گے‘‘ اور عقل کی آزادی اور فکری ارتقاء کے لیے تھیوکریسی کے قیود اور قبائیلیت کے فرسودہ اور جبر پر قائم نظامِ حیات پر تیشنہ زنی کرتے رہیں گے۔
ایک ایسی دنیا کی تخلیق کے لیے جہاں۔۔
قلم آزات بی آباد بی شہرئے کتابانی
مئیں پت
بہشت ءِ آزادیءِ چوشیں
تئی بچانی جنکانی نصیوا بی۔
قلم آزاد ہو
آباد ہو ایک بستی کتابوں کی
میرے بچے!
کوئی جنت آزادی کی کہیں ایسی
تیرے بچوں کی قسمت ہو ۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *