Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » عطاؔ سے مکالمہ ۔۔۔ امرت مرادؔ

عطاؔ سے مکالمہ ۔۔۔ امرت مرادؔ

اب تک بوُجھ نہ پائے ہم
جیون امر پہیلی
اب پوشیدہ بھی ہوگئی دل کی چادر میلی
تیرے ترا شے شعاعوں کے پیکر
یہ آتش کدہ
اب تک بجھ نہ پایا ہے
برف کے انسان کے وجود کے پیرہن
دھوپ کی تمازت کو کیسے سہہ پائیں ہیں
موم بنے قطرہ قطرہ
کوہسار بنتے جائے ہیں
اور اگر چپ ہو بھی جائیں تو
چشمے شور مچاتے ہیں
اس کے چشمے رک نہیں پاتے ہیں
اور
پیاس سے کٹتی زبانوں کے ہمراہ
اک کٹورے پانی کے عوض
سوسال وفا کا قول نبھاتے ہیں
اب تو سفینے چل پڑے دشت میں
برف کو پگھلنا ہوگا
برفاب کے آشوب میں جمی سوچوں کو خیالوں کو
پگھلنا ہوگا
ان کوہساروں کو رسم یاد ہے
رواجوں کے پکے ہیں
عطاؔ تیرے جانے کی اور آنے کی راہ میں کھڑا زمستان (اب بھی )
جمی ہوئی سوچوں کے قدموں لڑکھڑاتا ہے
خواب ٹھہرتے اور گلستان کے سلگنے پر
دھواں اٹھتا جاتا ہے
اب بھی زمستان آتا ہے
اور حسن کا احسان
ہر ٹہنی پر گرتا جاتا ہے
اک عہد نبھاتا ہے
سورج اب بھی ستارے جیسے
ادھورے الفاظ لکھتا ہے
اور سوچ کی چاندنی آکر
ہواؤں سے گفتگو کرکے
ان ادھورے الفاظ کو
اپنے رنگ کا عکس دے کر
عکس کو رنگ پہنا کر
شناخت کا اک لمحہ بخش کر
اک ہالہ
زرتاب ریشم کا
سوچ کی چاندنی آکر
اب بھی بنتی رہتی ہے اور اس عہد میں تیری
ادھوری ادھوری سی داستان کہتی رہتی ہے
اس داستان
کو چاند کے پھول
شبنم کی شرابوں میں
دھوپ کے سبزے کو
گل کو
پیراہن دیکر
دشت جان میں اگاتے ہیں
اور تیری خواہش کی خوشبو
اور تیری باہوں کی فضا
تیرے نام کی مہکار
اب تک مہکتی رہتی ہے
کیوں کہ عطا ؔ تم نے کہا تھا
ہوا باسی نہیں ہوتی
دیواروں میں مقید ہوکر
واپسی پر
راضی نہیں ہوتی
ہوا تو اب خیموں میں رکی بارش کو بھی اڑاتی ہے
دل کے صحرا میں ذراٹھہر کر
زلف کے گہرے سایوں کو
ابرسے ملاتی ہے
اب کے ابر برسا ہے
کھل کر عطا ؔ برسا ہے
اور کٹورے کیا ہاتھوں کے
اور کیا زمینوں کے گڑھے
سب کے سب بھرے جاتے
دریا بنے جاتے
جن پر سردار کہتے
نہ ڈوبے توجھُوٹے ورنہ
دریا میں
تم ازل کے سیجے
اب تو نہ کوئی ڈوبے
دریا سارے کے سارے چھوٹے
جو نہ ہے سردار
جس کی بھیڑیں سو بھیڑیں اک بھیڑ یا کھا گیا
جو بھوک سے تھا
برسر پیکار
اف
یہ جھوٹا سردار
اور
سناعطا؟
تیرا گل کدہ ؟
گل چہرہ ؟
خیال کی دھوپ کی تمازت میں
یا
وصال کی شب میں
ایسے ہی دمکتا ہے
ہاں!
عطا مجھے معلوم ہے
تونے جو ہواؤں سے گفتگو کی تھی
جو برفاب کے آشوب پرجمی سوچیں
جلائی تھیں
جو شاخ برہنہ کو
برف کی کلیاں پہنائی تھیں
ہاں وہ ترے عہد کا قلم ،تاریخ
وہ سوچ کی کتاب ضخیم
جو ہے اک عہد قدیم
اس عہد کی قدیم زبان
جو ان شکستہ طنابوں پر
خیموں کی تحریریں تھیں
جو بوڑھی زبانوں سے سنی تھی توُ نے
وہ تو جمی سوچوں کی لہریں تھیں
پتھروں پر خوابوں کے آئینے
آکر دیکھ دھرے ہیں اب تک
پھول سے چہرے
پانی میں تروتازہ اگے ہیں اب تک
دیکھ عطاؔ
نیند کبھی تو آکر ورق الٹے گی
اور
پھر کروٹیں لے کر سارا جہاں جان جائے گا
دھوپ کی فصل پک جائے گی
تب تو تم بتاؤ گے نہ
تم کہاں ملو گے ؟

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *