Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » عشاق اور شہداء لوٹ آتے ہیں ۔۔۔ امرجلیل / ننگر چنّا

عشاق اور شہداء لوٹ آتے ہیں ۔۔۔ امرجلیل / ننگر چنّا

ہم نے محرم علی کا دھڑبغیر سَر کے دفنا دیا۔سورج، میوا شاہ قبرستان سے لوٹتے ہوئے راہ میں ہی ڈوب گیا۔ ہم گھر پہنچے تو وہاں گھٹاٹوپ اندھیرا تھا۔ روشنی کرنے کی اجازت نہ تھی۔ کسی بھی وقت ہوائی حملے کا ڈر تھا۔ موت آسمان سے دھرتی کی طرف تک رہی تھی۔ ہم دھرتی کے باشندے ہوائی حملہ سے بچنے کے لیے تاریکی کے اونچے قلعے کھڑے کرکے بیٹھ گئے تھے۔ہم نے زندگی کو اندھیرے کے حوالے کردیا تھا۔ گھروں اور دروازوں کے باہرقبروں ایسی خندقیں کھود ڈالی تھیں۔کبھی خوش، اور کبھی پشیمان تھے کہ زندہ تھے، اور اندھیرے میں مزید زندہ رہنے کی کوششیں کررہے تھے۔
ہم محرم علی کے رشتہ دار، چچیرے خلیرے بھائی، اور دوست احباب محرم علی کے گھر پہنچے، اور اندھیرے میں جذب ہوگئے۔ تاریکی رہی ، ہمارا وجود نہ رہا۔
میرے بوڑھے ماموں، جسے گذشتہ بیس برسوں سے فالج ہے، اور جو اْٹھ بیٹھ نہیں سکتا، نے پوچھا، ” بابا ! تم لوگوں کو یقین تو ہے ناکہ بغیر سَرکا دھڑمحرم علی کا ہی تھا،اور کسی دوسرے شخص کا نہیں تھا۔”
کچھ دیر تک ماموں کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے تاریکی ہمارے وجودوں کے ساتھ ہماری آوازوں کو بھی کھا چکی تھی۔میں نے اپنے رشتہ داروں ، چچیروں خلیروں، اور دوست احباب کو دیکھنے کی کوشش کی، لیکن اندھیرا ہونے کے باعث انہیں دیکھ نہ سکا۔جب کافی ساعتیں گذرگئیں، اور ماموں کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا، تب اْس نے دوبارہ پوچھا،” ارے بابا ! تمہیں یقین ہے نا کہ میوا شاہ قبرستان میں محرم علی کی لاش ہی دفن کرآئے ہو،محرم علی کی بجائے کسی اور شخص کی لاش تو نہیں دفن کر آئے ؟”
تب میں نے کہا،” ماموں ! میں سمجھتا ہوں کہ وہ لاش محرم علی کی ہی تھی۔”
ماموں نے فوراً پوچھا،” تم نے تو اسے پہچان لیا نا؟”
میں الجھن میں پڑ گیا، ہچکچاتے ہوئے کہا،” میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اسے پہچان لیا تھا۔”
ماموں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا،” بیٹے ! کسی کو بغیر سَر کے پہچاننا بہت مشکل ہوجاتاہے۔”
میں نے ماموں کا دل رکھنے اور اْسے یقین دلانے کی خاطر کہا،” میں نے محرم علی کو بغیر سَر کے بھی پہچان لیا تھا، ماموں !”
ماموں نے ہونٹوں میں کچھ کہا۔ میں اْس کے الفاظ تو سن سکا لیکن اْن الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھ سکا۔دراصل اْس نے اپنے آپ سے بات کی تھی۔ ماموں مجھ سے یا کسی دوسرے سے بات کرتا ہے ،تب بلند و فصیح انداز میں بات کرتا ہے۔ اور پھر ماموں نے بلند و فصیح انداز میں بات کی۔ اْس نے پوچھا،” بیٹے! اْس کا سَر منکے سے کاٹا گیا تھا یا کندھوں سے؟”
میں نے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس کیے۔ حقیقتاً ہم سے کسی نے بھی اس طرف دھیان نہیں دیاتھا۔انہوں نے مقتل میں محرم علی کا سَر تن سے جدا کرکے، اس کی لاش ہمارے حوالے کردی تھی۔انہوں نے دستور کے مطابق محرم علی کا سَر ہمارے حوالے نہیں کیا تھا؛ اور نہ ہی ہم نے محرم علی کے جداشدہ سَر کا مطالبہ کیا تھا۔ سب کچھ بڑی خاموشی اور سْرعت کے ساتھ ہورہاتھا۔

دن چھوٹا تھا۔ اوپر سے ہوائی حملے کا ڈر تھا۔ہم محرم علی کی لاش اْٹھا کر گھر نہیں لے آئے، ہم مقتل سے محرم علی کی لاش لے کر سیدھے میواشاہ قبرستان گئے۔اْسے کفن دے کر دفن کردیا۔اْس کی لاش کوغسل ،قبرستان کی مسجد میں بغدادی والے حاجی مْلا نے دیاتھا۔
حاجی مْلا سر کے بغیر تن دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ اْس نے ہم سے پوچھا تھا،” یہ شخص کون ہے، اور اس کا سر کہاں ہے ؟”
میرے خالہ زاد بھائی کْھدونے بتایا تھا،” حاجی!یہ محرم علی کی لاش ہے۔ تم تو اْسے اچھی طرح جانتے ہو نا!”
حاجی مْلا ششدر رہ گیاتھا۔اْس نے لوٹے سے لاش پر پانی گراتے ہوئے ہاتھ روک لیا تھا اور غور سے محرم علی کی طرف دیکھا تھا۔ اور پھرکلمہ پڑھ کر، اپنے سینے پر پھونک مارتے ہوئے کہاتھا،”میں محرم علی کو اچھی طرح جانتاہوں۔ لیکن سر کے بغیر کسی کو پہچاننا بڑا مشکل ہے۔”
حاجی مْلا کی بات سن کر میں بھی شک میں پڑ گیا تھا۔ میں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ محرم علی کا سر منکے کی جگہ سے کٹا ہوا تھا کہ کندھوں سے۔ ویسے بھی ، اس سلسلے میں جب تک ماموں نے مجھ سے بات نہیں کی تھی، میں نے اس طرف دھیان نہیں دیا تھا کہ محرم علی کا سر منکے کی جگہ سے کٹا ہواتھا کہ کندھوں سے۔ اس میں میرے لیے تب تک کوئی مفہوم نہیں تھا۔۔کوئی معنی نہیں تھے؛ معنی تھے تو فقط محرم علی کے جداشدہ سر میں تھے، ورنہ سب کچھ بے معنی تھا، سب کچھ بغیر مطلب کے تھا۔
میں حاجی مْلا کے قریب اکڑوں بیٹھ گیا تھا۔ محرم علی کی سر کے بغیر لاش تختے پر رکھی تھی اور حاجی مْلا اْسے غسل دے رہا تھا۔ وہ بڑے پیار، دکھ اور صدمہ کے ساتھ محرم علی کی لاش کے سرد جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ وہ رہ رہ کرٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اپنے آنسو پی رہا تھا۔ محرم علی ہٹیلا، ضدی اور سرکش ہونے کے باوجود اْسے بہت پسند تھا۔محرم علی کچھ مدّت اس کے ہاں طالب رہا تھا۔ ایک مرتبہ سبق لینے سے پہلے محرم علی جب مسجد سے بھاگ گیا تھا، تب مْلا نے اسے دیگر عام طلبا کی طرح ہاتھ پاؤں بندھواکر بید سے نہیں پیٹا تھا۔ اْس نے محرم علی کے لیے دعا مانگی تھی۔وہ دن آخری دن ہوااور محرم علی اس کے بعد مسجد پرھنے نہیں گیا،لیکن حاجی مْلا کو ہمیشہ یاد رہا۔وہ اْسے بغدادی محمڈن فٹبال کلب کے لیے کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ محرم علی جب بھی گول کرتاتوحاجی مْلا اْسے دعائیں دیتا تھا۔ کسی سماجی اصلاح پسند نے ایک مرتبہ حاجی مْلا کومحرم علی کی ہسٹری سْناتے ہوئے کہا تھا کہ حاجی ! وہ محرم علی نا کافر بن گیا ہے۔۔روزے رکھتا ہے نہ نمازیں پڑھتا ہے
حاجی مْلا نے اْس سماج سیوک سے کہا تھا،” ہم ہیں انسان۔ ایک دوسرے کے اندر جھانک کرنہیں دیکھ سکتے، یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے۔”
لیکن سماج سیوک باز نہیں آئے۔ محرم علی کی گوشہ نشینی اور خاموشی کے باوجود اْس کے تعاقب میں لگے رہے۔ اْسے مقتل تک پہنچا کر ہی دم لیا۔اس کا سر تن سے جدا کرواکر ہی رہے۔
غسل دینے کے بعد حاجی مْلا محرم علی کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔حالانکہ اْس کا سر تن سے جدا ہوئے، تین سے چار گھنٹے ہوچکے تھے، باوجود اس کے محرم علی کے کٹے ہوئے نرخرے سے خون ٹپک رہا تھا۔حاجی مْلا نے کہا ، ” میں سمجھتا ہوں کہ یہ لاش محرم علی کی ہے۔ مین نے اْسے بغیر سر کے بھی پہچان لیا ہے۔”
نمی کے باعث محرم علی کے سینے کے با ل گچھا بن گئے تھے۔میں اْس کے بہت سارے سیاہ بالوں میں ایک سفید بال ڈھونڈ نے لگا۔محرم علی نے ایک مرتبہ اپنی چھاتی کا سفید بال دکھاتے ہوئے کہا تھا،” پیغمبری چالیس برسوں کے بعد ملا کرتی ہے۔ میں چالیس برسوں کا ہوگیا ہوں۔ یہ سفید بال میری پیغمبری کی نشانی ہے، میں خاموشی کا پیغمبر ہوں۔”
اْس وقت چاروں اور روشنی تھی۔۔ اندھیرا نہ تھا۔ہوائی حملے اور موت سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی زندگی کو اندھیرے کی چادر نہ اوڑھائی تھی۔ تب ہم نے محرم علی کو بات کو پرکاہ برابر اہمیت نہ دی تھی۔ہماری پوری توجہ سورج کی طرف چلی گئی تھی، جو دھرتی سے الگ ہورہا تھا۔ ہم نے پہاڑوں پر چڑھائی کرکے، چوٹیاں سرکرکے ، سورج کے جلتے گولے کو بانہوں میں بھر لیا تھا۔ہمارے اجسام داغوں سے سنور گئے تھے۔ ہمارے بازو ؤں پر داغے جانے کے نشانات اور زخم جل اْٹھے تھے۔
اور اْنہی دنوں میں ہماری ماؤں نے ہماری پیشانیوں کو چوما اور ہمیں لمبی عمر کی دعائیں دی تھیں۔ تب سورج ہمارے بازوؤں سے نکل گیا تھا۔۔کلاوے سے چھوٹ گیا تھا۔۔دھرتی سے دور ہوگیا تھا، پھر آسمان کی طرف بلند تر ہوتاگیا ، جگنو کی طرح نظرآتا؛ آسمان کے اندھیرے جنگل میں گم ہوگیا تھا۔ اور پھر ہر طرف گھنے اندھیرے اور تاریکی نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔انسانوں کے دلوں میں ہوائی حملے کے ڈر نے گھر کر لیا تھا۔
ہنستے،روتے،بولتے اور سوچتے ہوئے بچے مرگئے۔کائنات کا دستور بدل گیا۔ ماؤں نے اندھوں ، گونگوں، بہروں اور کوڑھ مغزوں کو جنم دیا۔روشنی جلاؤ، روشنی جلاؤ!!آسمان کے گبندوں سے آواز آتی رہی۔روشنی کرو! مشعلوں کو خون کے تیل سے تازہ کرو ! روشنی کرو ! اے ماؤ سوچوں کو جنم دو ! اے ماؤ باتوں کو جنم دو ! اے ماؤبصیرت کو جنم دو ! اے ماؤں سماعت کو جنم دو ! روشنی کرو !
روشنی ہوئی تھی لیکن کچھ دیر کے لیے۔۔گھڑی دو کے لیے اور پھر غیب سے صورِ اسرافیل کی آواز آئی۔لوگوں نے کہا، بتیاں بند کرو، زندگی موت کی نظر وں میں ہے۔ اندھیرا کرو ! مشعلوں کا منہ ریت میں دفن کردو !خلیل جبران کو شیلفوں سے اْتارکردلوں میں سنبھال لو۔ ہوائی حملے کا سائرن بج چکا ہے ! بتیاں بجھادو ! اندھیرے میں رہنے کی کوشش کرو!
ہم سب رشتہ دار، عزیزوقریب، دوست و احباب اندھیرے میں زندہ رہنے پر راضی ہو گئے۔ ہم چچازاد اور خالہ زاداور پھوپھازاد تاریکی میں زندہ رہنے کا دستور سیکھ گئے۔اندھیرے میں ٹھوکریں،ٹھڈے اور دھکے کھاکر، ہاتھوں پیروں کے ناخن نکلوا اور تڑوا بیٹھے، اور زندہ رہے۔
لیکن محرم علی تاریکی میں زندہ نہ رہ سکا۔ وہ مرگیا، لیکن اپنی مرضی سے نہیں۔ اْ سکی موت کا وقت اور دن، آسمانوں ، زمین اور کائنات کے خدا نے مقرر نہیں کیا تھا۔اْس کے موت کی گھڑی کا تعین دھرتی کے زورآور خداؤں نے کیا تھا۔ اْنہوں نے ہمیں پیشگی اطلاع بھیج دی تھی کہ فلاں دن ، فلاں وقت محرم علی کے تن سے سر الگ کیا جائے گا۔۔ تم مقتل کے باہر اْس کی لاش بروقت اْٹھالیجانا۔
ماموں کی محرم علی کے ساتھ بڑی محبت تھی،” میں نے جب ماموں کو بتایا تھا کہ محرم علی نے خاموش پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے، اور خاموش ہوگیا ہے، تب ماموں نے کہا تھا،” میں محرم علی کے دعویٰ کا مفہوم سمجھ سکتا ہوں۔ اْسے خلیل جبران والی پیغمبری ملی ہے۔ وہ جبران کی طرح کسی میری ہیسکل سے لازوال محبت کرے گا اور اڑتالیس برس کی عمر میں مر جائے گا۔”
دھرتی کے جابر خداؤں نے جب محرم علی کے موت کی گھڑی مقرر کردی تب ماموں نے کہا تھا،” دھرتی کے خداؤں کے متعلق آسمان کے خدا نے اپنی الہامی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ میں نے ان کے قلوب پر مہر یں لگادی ہیں اور میں نے انہیں اپنی ہدایت سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیا ہے۔”
مقررہ دن پر میں نے ماموں سے کہا ،” آج محرم علی کے دھڑ سے سر الگ کرکے ، اْس کی لاش ہمارے حوالے کردیں گے۔ماموں ! تم مقتل تک چلوگے۔ہم ایمبولینس کا بندوبست کرلیں گے۔”
” میں کئی با ر مقتل تک گیا ہوں اور کئی بارمقتل سے بار لوٹ آیا ہوں۔” ماموں نے کہا تھا،” میں لقوے کا مریض ہوں۔ چل نہیں سکوں گا۔تم سب رشتہ دار، عزیز و قریب، دوست احباب مقتل تک جاؤ اور محرم علی کی لاش لے کر میواشاہ قبرستان میں دفن کر آؤ۔”
ہم محرم علی کی بغیر سر والی لاش میوا شاہ قبرستان میں دفن کرکے لوٹ آئے۔ تاریکیوں کے قلعوں میں محفوظ ہوکر بیٹھ گئے۔ پتہ نہیں کیوں ماموں کو محرم علی کے سر کی فکر نے گھیر لیا تھا۔اْس کے لیے یہ کافی نہ تھا کہ ہم نے بغیر سر کے بھی محرم علی کو پہچان لیا تھا۔ وہ رہ رہ کر یہ تصدیق کرنا چاہتا تھا کہ سر منکے کی جگہ سے کاٹا گیا تھا کہ کندھوں سے۔
ماموں نے کہا،” میں سمجھتا ہوں کہ محرم علی کا سر کندھوں سے کٹ گیا ہوگا، کیونکہ محرم علی کا سر ہمیشہ غوروفکر میں جھکا رہتا تھا۔”
میں نے کہا،”میں اْ س کی کٹی گردن کی طرف دیکھ نہ سکا تھا۔”
ماموں نے کہا،” سوچنے والے اور سرکش کا سر تن سے جدا ہونا برحق ہے۔سوچنے والے کا سر کندھوں سے، اور سرکش کا سر منکے کی جگہ سے کٹ جاتا ہے۔محرم علی سوچتاتھا ، اْس کا سر کندھوں سے کٹا ہوگا۔”
ماموں ایک لمبی سانس لے کر خاموش ہوگیا۔
کسی نے پوچھا،” زندگی پر ہوائی حملے کا خطرہ ٹل چکا ہے کہ ابھی تک موجود ہے؟”
جواب آیا،” اندھیرا برقرار رکھو۔۔ روشنی مت کرو۔ زندگی کو موت سے بچانے کے لیے مشعلوں کے منہ ریت میں دبادو۔”
ہم اندھیرے میں سوال پوچھنے والے کی نہ شکل دیکھ سکے، اور نہ ہی جواب دینے والے کا منہ دیکھ سکے۔”
اور پھر بڑی دیر تک تاریکی میں کسی نے بات نہ کی۔گونگوں ، اندھوں،بہروں اور کم عقلوں کی نئی نسل اندھیرے میں کھیل کھیلتی رہی۔
ماموں نے مجھے پکارا۔
میں اْس کی چارپائی کے بازو کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔
ماموں نے پوچھا،” تم نے ناز کو بتایا ہے کہ محرم علی مرگیا ہے؟”
میں نے کہا،” نہیں۔”
اْس نے پوچھا،” کسی اور نے بتایا ہے؟”
میں نے کہا،” ہاں،بتایا ہے۔ لیکن اْسے یقین نہیں آیا ہے۔”
ماموں نے کہا، “تم جا کر اسے بتاآؤ۔ اسے بتانا کہ محرم علی سوچاکرتا تھا، اس لیے اْس کا سر کندھوں سے کٹ گیا تھا۔”
میں نے ماموں سے پوچھا،”ناز کے شوہر کو پتہ ہے کہ ناز محرم علی سے پیارکیاکرتی ہے؟”
ماموں تھوڑا سا ہنسا۔ اْس نے کہا،”اس معاملہ میں شوہر کی چھٹی حس کمپیوٹر سے زیادہ تیزی اور یقین کیساتھ کام کرتی ہے۔”
میں ماموں کی چارپائی سے اْٹھ کر،دیوار سے ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گیا، اور پھر کافی دیرتک ممنوع محبتوں کے متعلق سوچتا رہا۔ مائیکل اینجلو کی اولاد سے محبت کی جاسکتی ہے۔مائیکل اینجلو کی مصوری سے محبت کی جاسکتی ہے۔مائیکل اینجلو کی مجسمہ سازی سے محبت کی جاسکتی ہے۔خود مائیکل اینجلو سے محّبت کی جا سکتی ہے،لیکن اْس کی بیوی سے محبت نہیں کی جاسکتی! سوہنی دنیا کی واحد شادی شدہ عورت ہے جو شوہر کو سْلا کر مہیوال سے ملنے جاتی تھی، لیکن آج تک بدنام نہیں ہوئی ہے۔اس میں کمال سوہنی اور مہیوال کی محّبت کا نہیں ہے۔ اس میں تمام تر کمال سچل سرمست اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کا ہے۔
تھوڑی دیر کے بعد کسی نے مجھے بتایا کہ ناز آئی ہے، مجھے پوچھتی پھررہی ہے۔میں فرش سے اْٹھ کر، اندھیرے میں لڑکھڑاتاہوا کتابوں کی الماری کے قریب جا کھڑا ہوا۔میں جس الماری کے قریب کھڑا تھا ،اْسے چْھوکردیکھا۔یہ قطار میں پہلی الماری تھی۔ یہ الماری ہمارے لیے سب سے زیادہ مقدس کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے وہیں سے بلند آواز ناز سے کہا،” ناز ! کتابوں والی وہ الماری جس میں خلیل جبران کی ‘ پیغمبر’ رکھی ہوئی ہے ، میں اْ س الماری کے قریب کھڑا ہوں۔”
ناز ڈگمگاتی ہوئی اْس الماری تک پہنچی۔اْس نے پوچھا،” محرم علی کب آئے گا؟”
مجھے حیرت ہوئی۔میں نے کہا،” ہم محرم علی کومیواشاہ قبرستان میں چھوڑآئے ہیں۔اْسے بغدادی والے حاجی مْلا نے غسل دیا تھا۔”
ناز نے پوچھا،”تمھیں یقین ہے کہ تم جو بغیر سر کے لاش دفن کرآئے ہو، وہ لاش محرم علی کی ہی ہے؟”
میں الجھن میں پڑ گیا، لیکن کہا،”ناز ! میں سمجھتا ہوں کہ وہ لاش محرم علی کی ہی تھی۔”
ناز نے کہا،” تو پھر محرم علی ضرور لوٹ آئے گا۔”
مجھے بہت دکھ ہوا۔میں نے محبت میں بدحواسی کی باتیں کرتے قبل اس کے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ناز بالکل پاگلوں ایسی باتیں کررہی تھی۔میواشاہ قبرستان سے محرم علی کی واپسی قطعی ناممکن تھی۔
ناز نے کہا،”دیکھنا، محرم علی ضرور لوٹ آئے گا۔”
میں نے ناز سیکھا،”ماموں کہہ رہا تھاکہ محرم علی تم سے ایسی محبت کرتاتھا، جیسی محبت خلیل جبران نے میری ہیسکل سے کی تھی۔”
” مجھے پتہ ہے۔” ناز نے کہا،” اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ محرم علی لوٹ آئے گا۔”
مجھے ناز کی حالت پر افسوس ہوا۔وہ محبت کے صدمہ کے نتیجہ میں ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی۔مجھے برٹرینڈرسل کی بات یاد آئی، جس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ، تھوڑا یا بہت، ہم سب کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں۔
ناز چلی گئی۔
میں برآمدے میں جاکر فرش پر لیٹ گیا۔ اْدھر چارپائی پر ماموں پہلو کے بل لیٹا ہوا تھا، اور حقے سے گڑگڑاہٹیں نکال رہاتھا۔
اور پھر، آدھی رات کے قریب آسمان سے آبشار اْمڈ پڑی۔ جیسے نیاگرا آبشار تھی!اْس رات ایسی بارش ہوئی کہ اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے تربیلا ڈیم ٹوٹ گیا ہو! ۔ساون کے دنوں کا دریائے سندھ تھا، جو زمین کی بجائے آسمان سے بہہ رہا تھا۔گرج اور کڑک کے ساتھ بجلی وہ لشکارے ماررہی تھی کہ دھرتی کا داغ داغ روشن ہو اْٹھتا تھا۔ ہم نے دھرتی کے سینے پر اس سے پہلے اتنے سارے تازہ،روشن اور زندہ داغ کبھی نہیں دیکھے تھے؛ دھرتی کی بوڑھی پیشانی پراتنے داغے جانے کے نشان پہلے کبھی نظر نہیں آئے تھے۔تاریخ کے تمام ترزخم آسمان سے بہنے والے پانی سے دھل کر اْجلے اور چمکدار ہوگئے تھے۔
بجلی کے چمکنے اور بادلوں کی گھن گرج سے بیرونی دروازہ ہل گیا۔
ماموں نے اونچی آواز میں پوچھا،” کون ہے؟”
کسی نے جواب دیا،” بجلی اور بادلوں کی گرج چمک سے دروازہ ہل گیا ہے۔اس بارش میں کس کی شامت آئی ہے جو آئے گا۔”
” ہاں ، تم ٹھیک کہتے ہو۔” ماموں نے کہا،” لیکن میں سمجھتا ہوں۔ باہر دروازے پر ضرور کوئی آیا ہے۔۔شاید مقتل سے کوئی آیا ہے محرم علی کا سرلوٹانے !”
کسی نے ماموں کا دل رکھنے کی خطر اْٹھ کر باہر والا دروازہ کھولا۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا۔ اْس نے پکار کر پوچھا،” کوئی ہے؟” اسے کوئی جواب نہیں ملا۔اْس نے در وازہ بند کردیا۔وہ لوٹ آیا۔اْ س نے کہا،” باہر کوئی بھی نہیں ہے۔”
آسمان سے آبشار گرتی رہی۔بجلی کڑکتی رہی۔بادل گرجتے رہے۔ بیرونی دروازے کو ایسا جھٹکا آیا کہ ہم سب چونک اْٹھے۔ یوں لگا جیسے کسی نے دروازے کے پٹ کو ہاتھ مارا ہو۔
ماموں نے کہا۔” میں سمجھتا ہوں ، باہر ضرور کوئی آیا ہے۔”
” ماموں ! باہر کوئی بھی نہیں ہے۔” کسی نے کہا،” کبھی کبھار آنکھوں کی طرح کان بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں۔”
” نہیں ، نہیں۔ باہر ضرور کوئی ہے۔” ماموں نے کہا،”میں سمجھتا ہوں، مقتل سے محرم علی کا کٹا ہواسَر اْٹھاکر لے آئے ہیں۔”
اندھیرے میں پھر کوئی اْٹھا۔ بیرونی دروازے تک پہنچا۔ اْس نے دروازہ کھول کر ،گھٹا ٹوپ اندھیرے میں سَر باہر نکال کر بلند آواز میں پوچھا،” بھئی ! کون ہے ؟ہمارے عزیزوں،چچا زادوں، خالہ زادوں ، پھوپھا زادوں، ماموں زادوں اور دوستوں میں سے تو کوئی باہر نہیں رہ گیا ہے!”
اْسے جواب نہیں ملا۔خاموشی کو بجلی سِیندھ لگاتی رہی۔ بادل چْپ کا دل چیرتے رہے۔ اْس نے باہروالا دروازہ بند کردیا، لوٹ آیا اور اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے کہا،”کوئی بھی نہیں تھا۔”
اور پھر بڑی دیر تک کسی نے کچھ نہ بولا۔مینہ لگاتار برستا رہا۔۔دھرتی کی پیاس بجھاتارہا۔ بجلی کڑکتی رہی۔۔ذہن کی گپھاؤں میں اْجالا کرتی رہی۔اور اچانک ایک بڑا دھماکہ ہوا۔یوں لگا جیسے آسمان پھٹ پڑا ہو،یا کوئی پہاڑ دھرتی کی چھاتی میں اْتر گیا ہو، یا کہیں کوئی اتش فشاں پھٹ گیا ہو! اتنے میں باہری دروازہ پرواضح طور پردستک کی آواز ابھری۔میں اْ ٹھ کر بیٹھ گیا۔باہر والا دروازہ برآمدے سے دور نہ تھا۔۔قدم بھر دور تھا۔میں دروازے کے پاس جاکر ٹھہر گیا۔میں کائنات کی رنجش کی آوازیں سنتا رہا۔
میں دروازہ پر دوبارہ دستک ہوئی۔سرگوشیوں کی آواز ائی۔
میں نے کنڈی کھول دی۔
باہر والا دروازہ ہم نے پہلے بھی کھولا تھا۔لیکن اس مرتبہ کھولتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ جیسے تاریخ کا کوئی غیر رقم شدہ باب کھْل گیا ہو۔
میں تاریکی اور بارش میں باہر نکل کر کھڑا ہوگیا۔اچانک بجلی چمکی۔میں نے اپنے سامنے سفید چادر میں لپٹے کسی شخص کا سایہ دیکھا۔ مجھے تعجب ہوا۔میں نے پوچھا ،” کون ہو؟”
اچانک ہرایک آواز بند ہوگئی۔اْس شخص کی آواز آئی۔ اْس نے کہا،”میں محرم علی ہوں۔”
میں نے تاریخ کے کھْلے باب سے منہ پھیر کر رشتہ داروں اور دوستوں کو کہا، ’’محرم علی لوٹ آیا ہے‘‘۔

Check Also

March-17 sangat front small title

یہ دنیا والے ۔۔۔ بابوعبدالرحمن کرد

(معلم۔ فروری 1951) مہ ناز ایک غریب بلوچ کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر سنا کرتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *