Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » عالمی یومِ مئی کا پیغام ۔۔۔ محمد بشیرصنوبر

عالمی یومِ مئی کا پیغام ۔۔۔ محمد بشیرصنوبر

یوم مئی مزدورو ں کے حقوق کی جدوجہد کا عالمی دن ہے۔ آج سے 129 سال سے پہلے امریکہ کے صنعتی شہر شکاگو میں مزدوروں نے 8گھنٹے اوقاتِ کار مقرر کرنے اور دیگر مطالبات کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد اور لازوال قربانیاں دے کر محنت کشوں کو متحد اور منظم کردیا ۔۔۔۔۔۔ اس دن کو دنیا بھر کے محنت کش اور لوگ1886 کے شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔مظلوموں، محنت کشوں، محکوموں اور غلاموں کی بڑی طویل صبر آزما صدیوں پر محیط جدوجہد کی داستان ہے ۔ اٹھارویں صدی میں صنعتی دور شروع ہونے کے ساتھ ہی مزدور بھی منظم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ اور یورپ میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام خاتمے کے قریب تھا۔ اور نیا سرمایہ دارا نہ نظام تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کررہا تھا۔ اس سے مزدور طبقہ تیزی سے شہروں کی طرف آرہا تھا ۔ ان مزدوروں کی حالت غلاموں سے بھی بدتر تھی۔ ا ن کے کا م کا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ نہ کوئی چھٹی کا دن تھا۔ حادثہ اور موت کی صورت میں کوئی معاوضہ نہ تھا۔ بہت تھوڑے معاوضہ پر صبح سے رات تک کام کرنا پڑتا۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ اپنے سوتے بچوں کو چھوڑ کر کارخانوں میں داخل ہوتے تھے اور پھر رات گئے اپنے گھروں میں سوتے بچوں کو دیکھ کر تھکے ماندے سوجاتے تھے۔ وہ اپنے کمسن بچوں کو کھیلتا کودتا نہ دیکھ پاتے تھے۔ ان کو اپنے بچوں کی رنگت تک بھی صحیح سے پتہ نہ چل پاتی تھی۔ ان سے جب کوئی ساتھی پوچھتا کہ تمہارا بچہ کتنا بڑا ہے ۔ تو وہ زمین کے اوپر ہاتھ بلند کرکے بتانے کی بجائے زمین پر ہی ہاتھ پھیلا کر اس کے قد کی لمبائی بتاتے تھے کیونکہ انہوں نے تو کبھی بھی اپنے بچوں کو کھڑا ہوتے نہ دیکھا تھا۔ اُجرت انتہائی کم تھی اس کے خلاف کوئی ضابطہ قانون اور آئین نہ تھا۔ سرمایہ دار جب چاہتے انہیں روزگار سے محروم کر دیتے تھے۔ بلکہ انہیں جسمانی سزائیں دیتے یہاں تک کہ ان سزاؤں سے بعض مزدور مر جاتے۔ مزدوروں کو مشینوں سے باندھ کر بڑی بے دردی سے مشقت لیتے۔ اس دور میں ایک جانب یورپ اور امریکہ کے صنعت کار حکمرانوں کے ساتھ مل کر مزدوروں کا بے دریغ استحصال کررہے تھے تو دوسری جانب ترقی پسند دانشور، شاعر ادیب، قلم کار، صحافی اور سیاسی راہنما محنت کشوں کو متحد اور منظم کرنے میں لگے ہوتے تھے۔ کارل مارکس اور اینگلزکے نظریات بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ سب سے پہلے برطانیہ میں مزدوروں نے جدوجہد شروع کی۔ یونین بنائی1823 میں دنیا کی پہلی باقاعدہ یونین ملینکس یونین آف لیبر ایسوسی ایشن کے نام سے فلڈ یلیفیا میں قائم کی گئی۔ جو 15یونینوں پر مشتمل تھی۔سب سے پہلے اسی ایسوسی ایشن نے محنت کشوں کے لیے 10 گھنٹے اوقات کار مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔1863 تک امریکہ میں20 مزدور تنظیمیں قائم ہوچکی تھیں۔ 1866میں بالٹی مور میں مزدوروں کا اجتماع ہوا جس میں نیشنل یونین آف لیبر کا قیام عمل میں آیا۔ ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ محنت کشوں کو سرمایہ داروں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے وقت کا اولین اور اہم ترین تقاضہ یہ ہے کہ 8گھنٹے اوقات کار کا تعین ہو۔
امریکہ کے صنعت کار اس صورتِ حال سے پریشان ہوگئے۔ لہٰذ مزدوروں کی اجتماعی جدوجہد کوناکام بنانے کے لیے دوسرے ملکوں سے مزدور وں کو لاکر سستی اجرت اور غیر معین اوقات کار پر ان سے کام لیا جانے لگا۔ جس کی وجہ سے امریکی مزدوروں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ لاکھوں مزدور بے روزگار ہونے لگے۔ لہٰذا ٹریڈ یونین نے غلامی ، بھوک، بے روزگاری کے خلاف اور8گھنٹے اوقات کار کے لیے نعرہ حق بلند کردیا۔
یکم مئی1886کو امریکہ کے شہر شکاگو میں سگارمک ہار ویسٹر کمپنی کے مزدوروں نے8 گھنٹے اوقات کار کا مطالبہ منوانے کے لیے ہڑتال کی کال دے دی۔ شکاگو میں مختلف کمپنیوں کے 80 ہزار مزدور سکارمک ہار وسٹر کمپنی کے مزدوروں کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہوگئے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس وقت کے حکمرانوں ، مل مالکوں ، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو للکارتے ہوئے کہاتھا۔ کہ ظالم حاکموہمیں بھی زندہ رہنے کا حق دو۔۔۔۔۔۔ ہم بھی انسان ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمارے بھی اوقات کار مقرر کرو۔ ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو۔ ہمارے مطالبات پورے کرو۔ یہ نعرے لگاتے ہوئے مزدور جلوس کی شکل میں مشہور زمانہ ’’HAY مارکیٹ‘‘ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ نعرہ لگارہے تھے۔’’ دنیا بھر کے مزدورو ایک ہوجاؤ‘‘۔ وہ بِلا رنگ ونسل اور مذہب ایک تھے پورا صنعتی شہر شکاگو جام ہوگیا ۔ مِلوں اور کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہوگیا تھا۔ دنیا میں یہ پہلا موقع تھا جب محنت کرنے والوں نے اپنے اتحاد کے ذریعے علَم بغاوت بلند کرکے مکمل ہڑتال کردی تھی۔ اور پھر یکم مئی کے واقعہ کو کسی گمنام صحافی نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اخبار کے صفحہ اول پر مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا،جواب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔’’ مزدورو تمہاری لڑائی شروع ہوچکی ہے۔ فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ آگے بڑھو۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے اپنے اوقات کار کے لیے جدوجہد جاری رکھو۔ حاکموں کو جھکنا پڑے گا۔ جیت اور فتح تمہاری ہوگی۔ ہمت نہ ہارنا۔ متحد رہنا اسی میں تمہاری بقا ہے۔ اِسی میں تمہاری فتح ہے۔
صحافی کی اس تحریر نے محنت کشوں میں مزید جذبہ اور ابھار پیدا کردیا اور انہوں نے زور دار نعرے کے ساتھ 8 گھنٹہ اوقات کار کا مطالبہ کیا اور یوں پہلی مرتبہ24گھنٹوں کے دن کو کچھ اس طرح تقسیم کیا گیا ۔۔۔۔۔۔8 گھنٹے کام کریں گے،8گھنٹے آرام کریں گے اور 8 گھنٹے اپنے اہل خانہ اور بیوی بچوں میں گزاریں گے۔۔۔۔۔۔ یکم اور2مئی کو شکاگو میں مکمل ہڑتال رہی۔مزدور اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرامن مظاہرے کرتے رہے۔ حکمرانوں مِل مالکوں اور سرمایہ داروں کو یہ سب پسند نہ آیا اور 3مئی1886 کو ریاستی مسلح فورس نے بدترین درندگی اور بربریت کا مظاہر ہ کیا۔اور محنت کشوں کے پُرامن احتجاج پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ محنت کشوں کے امن کا پرچم خون سے سرخ ہوگیا۔ایک محنت کش کی قمیص لہو سے تر ہوگئی پھر انہوں نے اس لہو میں ڈوبے ہوئے سرخ پرچم کو ہی اپنا پرچم بنا لیا اور زور دار آواز سے کہا ۔ ’’ محنت کشو آج سے یہی سرخ پرچم ہمارا نشان اور ہمارا جھنڈا ہوگا‘‘۔
اس ظلم اور تشدد کی وجہ سے مزدوروں میں مزید اشتعال پھیل گیا اور 4مئی کو اس بربریت کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس میں بم پھٹا اور اختیار میں مست پولیس نے گولیوں کی بارش کردی۔ جس میں 6 مزدور شہید اور تقریباً200 زخمی ہوئے۔ سینکڑوں ہڑتالی مزدوروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور آٹھ مزدور راہنماؤں پر قتل اور فساد کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے۔7 بے گناہ مزدور لیڈروں کو 11 نومبر1887 کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ جن میں البرٹ پارسن اگسٹ۔ اسپانسر۔ مائیکل شوابے۔ اڈوولف فشر، جارج اینگل اور سموئیل فلیڈن شامل تھے۔ ایک جیالے اور جری مزدورلوئس لینگ کو جیل میں تشدد کے ذریعہ شہید کردیا گیا۔مزدوروں کے ان بہادر راہنماؤں نے سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کک کاؤنٹی جیل شکاگو کے پھانسی گھاٹ پر اپنے تاریخی الفاظ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیے۔ اس موقعہ پر ان راہنماؤں کا حوصلہ، عزم، جذبہ اور ولولہ قابل دید تھا۔
البرٹ پارنز نے پھانسی پر چڑھتے ہوئے طاغوتی قوتوں کو ان الفاظ میں للکارا ’’ آج تم ہماری آواز دبا سکتے ہو لیکن ایک دن آئے گا یہ دبائی ہوئی آواز اپنی طاقت ضرور دکھائے گی۔ہماری خاموشی ہی ہماری آواز سے زیادہ اثر انگیز اور گونج دار بن کر دنیا کے کونے کونے میں گونجنے لگے گی۔
جارج انجلز نے خبردار کیا ’’ بے شک تم ہمارے جسم ختم کرسکتے ہو لیکن تم ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے اور ہماری تحریک تمہارے لیے موت کا پروانہ ہے ‘‘۔
اگسٹ اور سپانسر نے پُر جوش اور پُرعزم لہجہ میں کہا۔۔۔۔۔۔
’’ حاکمو! نادار انسانوں کی آواز مت دباؤ ورنہ ان کے ہاتھ تلوار اٹھائیں گے ۔اور پھر یہ تلوار ساری دنیا کے سرمایہ دار مل کر بھی نہ گرا سکیں گے‘‘۔
اڈولف نشر نے اطمینان اور حوصلہ کے ساتھ اعلان کیا۔
’’ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایک اچھے اور نیک مقصد کے لیے اپنی جان قربان کررہے ہیں‘‘۔
آخر کار حکمرانوں نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کرلیے اور یوں پوری دنیا میں شکاگو کے شہیدوں کی جدوجہد اور قربانی کی وجہ سے 8 گھنٹے اوقات کار کو تسلیم کرلیا گیا۔
1889کو مزدوروں کی دوسری انٹرنیشنل میں اینگلز کی قیادت میں یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن قرار دیا گیا۔۔۔۔۔۔
یوم مئی ایک تاریخ کے جدلیاتی و ارتقائی عمل ۔ طبقاتی تضادات اور طبقاتی مفادات کی جدوجہد کے عمل میں طبقات کے مابین لڑائی کا نتیجہ ہے۔
یوم مئی ہزاروں برس سے حاکم اور محکوم ۔ استحصالی اور استحصال زدہ قوتوں کے درمیان یعنی آقاؤں اور جاگیرداروں کے خلاف غلاموں اور مزارعوں کی طبقاتی لڑائی کا تسلسل ہے۔ یوم مئی سرمایہ داروں کے بنائے ہوئے غیر ہموار استحصالی قوانین کے خلاف اور سماجی سیاسی معاشی آزادی کے حصول کے لیے سچائی کی قوتوں کی باطل اور ظالم قوتوں کے خلاف جنگ ہے۔
یوم مئی بلا لحاظ رنگ ،نسل، عقیدہ، قومیت، زبان ، جنس مزدور طبقہ کی جدوجہد کو ایک نیا حوصلہ عطا کرتا ہے اور محنت کش یہ عہد کرتے ہیں کہ استحصالی نظام کے خاتمہ تک ان کی طبقاتی جدوجہد جاری رہے گی وہ تمام دنیا میں ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں۔
’’ دنیا بھر کے مزدورو ایک ہوجاؤ‘‘۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *