Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » عاقبت نا اندیشوں کے بیچ وطن کے لیے دعا ۔۔۔۔۔ شاہدہ حسن

عاقبت نا اندیشوں کے بیچ وطن کے لیے دعا ۔۔۔۔۔ شاہدہ حسن

خدایا!
یہ کن کربلائی مناظر سے خوں رنگ ہیں میری آنکھیں
یہ کن گِریہ ساماں فضاﺅںمیں
سُنتی ہوں میں اپنے پیاروں کی آہیں
یہ پیہم تباہی کا کیا سلسلہ ہے؟
یہ ہر سُواداسی کا کیا ماجرا ہے؟
یہ بدباطنی، بد سر شتی کے طوفاں،
کہ ارض ِوطن پر،
تباہی کے آسیب لہرا رہے ہیں
مرے سبزہ و باغ کمھلا رہے ہےں
مرے ماہ و خورشید گہنا رہے ہےں

خدایا تبا، کون ہیں یہ؟
مری آبروئے وطن کو نشانہ بنائے
مرے سادہ دل
اور معصوم لوگوں کی قسمت کو داﺅ لگائے
یہ کج فہم اور بے بصر
اپنے بے روح لفظوں سے باتیں بناتے
یہ اک دوسرے کے لہو کے ہیں پیاسے
ضیافت گہوں میں ، بظاہر گلے ملنے والے
مگر آستینوں میں خنجر چھپائے
عداوت کے پیکر ،
ہیں دل جن کے پتھر
یہ سب دشمنانِ وطن ہیں
اُگلتے ہوئے آگ
ان کے دہن ہیں

نمودار ہوتے یہ
اسکرینوں پہ جب بھی
تو چہروں پہ اپنے ملمّع چڑھائے
کمانوں میں زہریلے تیروں کو جوڑے
یہ لہجوں کی چھریوں سے ہر دم
لگاتے ہیں روحوں پہ لفظوں کے کوڑے
یہ ایذا رسانی کے سارے ہُنر جانتے ہیں
یہ اک دوسرے کے گناہوں کو پہچانتے ہیں
خدایا، سدا میں نے اپنے قلم سے
محبت کے ان مٹ ترانے لکھے ہیں
سدا، اپنی مٹی کی خوشبو کے زندہ فسانے لکھے ہیں
تمنا کی شاخوں پہ
خوشیوں کے بوٹے کھلائے
غزلخواں رہی میں
تخیل کے نغمے سنائے
بہت چاہ سے، شاعری میں نے کی ہے
مسلسل طلب آگہی میں نے کی ہے
مگر کوئی موسم ، کوئی رُت یہاں
پھر بھی بدلی نہیں ہے!
تو مالک ہے!
اب رحمت دائمی سے
پلٹ دے یہ منظر
عطا کر وہ رہبر
یقیں کے وہ پیکر
ترے نور سے جن کے دل ہوں مُنور
نہ جھپٹیں جو منصب پہ اورمال و زرپر
زمانے کو سمجھیں جو بس ایک ٹھوکر
جو نخل ِتمناکو آب محبت سے شاداب کردیں
مرے تشنہ لب خطّہ خاک کو پھر سے سیراب کردیں

 

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *