Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » صبح کی اذانوں تک ۔۔۔ محسن ایوب

صبح کی اذانوں تک ۔۔۔ محسن ایوب

رات کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی چھا ئی ہوئی تھی۔ گھڑیال کی سوئی معمول سے کچھ زیادہ تیزی میں وقت کو سر کر رہی تھی۔ سردیوں کی ہلکی ہلکی سی ہوا پورے گاﺅں والوں کو ٹھنڈی ٹھنڈی تھپکیاں دیتے ہوئے چین سے سلارہی تھی۔
میں معمول کے مطابق کرسی پر بیٹھا تھا۔لیکن آج ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ذہن کی سڑکوں پر ہلچل مچی ہوئی تھی،اُسکی یادوں کا قافلہ یہاں سے رستہ بنا کرایک لمبے سفر پہ نکلا ہوا تھا۔
اچانک میرے کانوں میں :© اللہ و اکبر اللہ و اکبر : کی آ واز آئی ، یہ آواز ساتھ والی مسجد سے مولوی صاحب کی تھی جو فجر کی اذان دے رہے تھے۔اذان سن کر :لبیک : پڑھنے کی بجائے میں چونک گیا اور دل میں گھبراہٹ سی ہونے لگی، کیونکہ جب میں کرسی پر بیٹھا تھا تب رات کے گیارہ بج رہے تھے ، میں نے ڈائری اور پین اٹھایا تھا کہ آج اُسکے بارے میں کچھ قلمبند کروںگا۔ لیکن اب قلم بند کرنے کے بجائے میری دل کی دھڑکنیں بند ہو رہی تھیں ۔میری نس نس میں آ گ سی لگی ہوئی تھی، لیکن آنکھوں میں بڑی ٹھنڈک محسوس کر رہا تھا انہیں آنسوو±ں نے سہارادیا ہواتھا۔
پین و کاغذ بھی پوری رات کرب ِ انتظار میں رہے۔
پورا کمرہ اس کی ےادوں میں پرکیف تھا۔میں لمبی سانس لیتے ہو ئے اٹھنے لگا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری بائیں طرف کوئی موجو د ہے، بے ساختگی سے مڑ کر دیکھاتو وہ کھڑی مسکرارہی تھی اور کہنا چاہ رہی تھی کہ اب وہ آگئی ہے۔اسے دیکھتے ہی آنکھوں نے موسلادھار بارش کی طرح برسنا شروع کردیا۔ آنسوو¿ںکے قطرے اس کے پیروں پہ ایسے گر رہے تھے جیسے اسکے پیروں میں زنجیر بنارہے ہوں، ان کو بھی خوف تھا کہ کہیں پھر سے چھوڑ کر نہ جائے۔
دلِ شکستہ نے ہر رگ ِجان سے نکل کر اُس سے التجا کرنا چاہی کہ اب ایک لمحے کیلئے بھی چھوڑ کر نہ جائے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ےہ غمکدہ غموں سے بھر چکاتھا اب اور غم سہنے کی ہمت ہار چکا تھا، لیکن وہ تھی کہ چپ چاپ کھڑی یہ سب تماشا دیکھ کر مسکرائی جارہی تھی، مگر اسکی پرنم آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ بچھڑنے کے بعد اسکا بھی ہر پل سوگوار گزرا ہے۔ بچھڑنے کے غم میں وہ بھی رونا چارہی تھی ، پر شاید اس لئے مسکرارہی تھی کہ ایک مرتبہ میں نے اس سے کہا تھا تیری مسکراہٹ ہی میری زندگی ہے ، تم مسکراتی رہو گی تو میں زند ہ رہوںگا۔
شاید اس سے بچھڑ نے کا سبب کچھ دستورِ زمانہ اور کسی حد تک یہ بات بھی تھی کہ اس کے چہرے سے وہ مسکراہٹ ختم ہوگئی تھی کیوںکہ اسکی شادی کی تاریخ کہیں اور طے ہو چکی تھی ا ور وہ اداس چہرہ مجھے دکھانا نہیں چاہتی تھی ۔ مگر اس پگلی کو یہ پتا نہیں کہ اس کی ایک مسکراہٹ میرے لئے باعثِ زندگی ہے تو وہ خود میرے لئے کیا ہو سکتی ہے۔۔۔!
پھر اچانک ہوش جو آیا تو نظریں وہیں جمی ہوئی تھیں جہاں وہ کھڑی تھی ۔ اب دیکھا تو نہ وہ مسکراہٹ تھی اور نہ مسکرانے والی ، مگر ہاں آنکھیں نم تھیں ، سینے میں ماحول ماتمی تھا، دل نوحہ کناں تھااور میں کرسی پر نڈھا ل پڑاتھا بالکل ویسے جیسے کوئی صد سالہ بیمار کو کرسی پر بٹھایا جائے ۔
دل کی شکستگی کے عالم میں ایک بزرگ سے ہوئی ملاقات یاد آئی۔ایک مرتبہ میں کراچی سے کوئٹہ کو چ میں سفر کر رہا تھا ۔میرے دائیں والی سیٹ پر ایک بزرگ بیٹھا ہواتھا۔ یہ میرا پہلا سفر تھا ، اس سے پہلے میںاپنے گھر سے دور ہفتہ ، دس دن سے زیادہ نہیں گزارے تھے۔یہ پہلی بار تھا کہ میں نے کراچی میں تین ماہ مسافر بن کر گزارے تھے۔یہ تین ماہ کا تھکادینے والا سفر میں نے اپنی پڑھائی کے سلسلے میں کرلیا تھا۔میں اپنی سیٹ پر بہت اداس بیٹھا ایک عجیب سی کیفیت میں تھا، میں ایک کشمکش میں الجھا ہوا تھا ۔ میں فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ گھر جانے کیلئے خوش ہو ں ےا وہاں جاکر اسے نہ دیکھ سکنے کے غم میں چور ہوں۔ کیوں کہ مجھے پتاتھا کہ اب اسکی دید میرے نصیب میں نہیں رہی، وہ کسی اور کی بننے جارہی تھی۔اسکی یادیں میرے دل کی زخموں سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں مصروف تھیں اور میں بے بسو ں کی طرح دل کے نالہ ﺅ فریاد بڑی خموشی سے سن رہاتھا۔دل کی یہ تکلیف ناقابلِ برداشت تھی مگر برداشت کرنا میری مجبوری۔ اسکی یادوںکو میں ہٹا نہیں سکتا تھا کیوںکہ اب وہی میرے جینے کا سہارا تھی اور اسکی دی ہوئی آخری نشانیاں۔اچانک دیکھا تو اس بزرگ نے میری نظروں کے آگے رومال پیش کیا ہوا تھا، میں نے اسکی طرف دیکھا تو کہنے لگے: بیٹا یہ لو اور آنسو پونچھ لو: اب میںنے بھی محسوس کیا کہ میری چشم زیرِآب ہوچکی تھی۔ان کے ہاتھ سے رومال لے کر آنسو پونچھے اور واپس کر کے شکریہ ادا کیا۔چند لمحے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: بیٹا دکھ سہنا سیکھ لو۔ درد ﺅ غم کواپنا نے سے کوئی نہیں مرتا ، بس اندازِ زندگی بدل جاتا ہے۔ غم ہر کسی کو ہوتا ہے کیوںکہ ہر کسی سے کوئی نہ کوئی بچھڑ چکا ہوتا ہے، کسی کادین تو کسی کی دنیا اور کسی کی ہیر توکسی کا رانجھا۔ غم زندگی کا سہارا ہوتے ہے یہ ساتھ کبھی نہیں چھوڑتے، انہیں ہم تک پہنچنے کے لئے بس ایک بہانا چائیے ہوتا ہے اور جب پہنچ جاتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنا بنالیتے ہیں۔یہ خوشیوں کی طرح نہیں ہوتے ہیں کہ وقتی طور پر آئے اور آکر چلے گئے۔ہاں ہم ان کو بھلانے کی کو شش کر کے دغا کرلیتے ہیں۔:
بزرگ کی باتیں آج بھی تاثیر رکھتی تھیں ۔ اب میں کرسی سے اٹھا، جسم بالکل ریزہ ریزہ ہو چکا تھا۔ وضو کیا اور نماز پڑھنے کی نیت سے مسجد کی طرف چل نکلا۔ مگر آج دل نے حویلی کے اُس دروازے سے نکلنے پر مجبور کیا جہاں سے اکثر اُسے دیکھنے کیلئے نکلتاتھا۔۔۔

Check Also

jan-17-front-small-title

کڈک و مشک ۔۔۔۔ گوہر ملک

کڈکا یک روچے وتی دلا گشت اے درستیں زند پہ تنہائی نہ گوزیت،ما س وپتئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *