Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » شہرِ سدوم کی حسینہ ۔۔۔۔۔ محمود درویش امجد اسلام امجد

شہرِ سدوم کی حسینہ ۔۔۔۔۔ محمود درویش امجد اسلام امجد

تمہارے بدن کے خم و پیچ پر مغفرت کی طرح موت وارد ہوئی
کاش میری بھی اس طور موت ہو!
تلّذذ کے لمحے میں اے میری جاناں،
مری پَر شکستہ، پری چہرہ عورت
کاش میری بھی اس طور ہی موت ہو،
فنا و بقا کی حدو ں سے اُدھر
اک بگولے کے بکھرے ہوئے انت میں
…………
( وہ جو محبوب ہے اس کے دو روپ ہیں
ماورائے جہاں ایک ہے …. دوسرا
شہرِ سدّوم کی کُہنگی میں نہاں
اور مجھ کو انہی دو حدوں کے میاں،
جستجو ہے حقیقت کے کھوئے ہوئے روپ کی)
…………
تمہاری نگاہوںمیں لکّھی ہوئی خامشی
مجھ کو مجھ سے اُٹھا
بے خودی کی صلیبوں پہ مصلوب کرتی ہے …. بچپن مرا
خامشی کے اسی منظرِ بے اشارہ کی زینت بنا
میں نے دیکھا اُسے
موت کے روپ میں قہوہ پیتے ہوئے،
مجھے روگ کا ، اور اس کی دوا کا
ہمیشہ سے ہی علم تھا، تُو مگر……..
بہت خوب صورت ہے اے میری جاں
تمہارے بدن کے خم و پیچ پر میں ہوں پھیلا ہوا
تمہارا بدن!
جو کہ گندم کے دانے کی تمثیل ہے
نیستی اور ہستی کی تصویر ہے
مجھے علم ہے یہ زمیں میری ماں ہے!
تمہارے بدن پر مری سُرخ شہوت نے جو کچھ لکھا ہے ، غبارِ فنا ہے!
مجھے علم ہے
کہ محبت الگ چیزہے اور یہ
اور ہی چیز ہے
جس کے جادو میں ہم
آج کی شب تعلق کی ڈوری میں الجھے ہوئے
ایک دُوجے کے جسموں سے پیوست ہیں!
ہم میں ہر ایک کو سر پہ لٹکے حقائق سے انکار ہے
ہر کسی کو ہوس ہے کسی اور ہی جسم کی
جو بہت دور ہے! ہاتھ ہے نارسا
ہم میں ہر ایک، اک دوسرے کو
دریچے کے پیچھے، فنا میں بجھی آہٹیں
بھیجتا ہے سدا۔
…………
( وہ جس کی مرے جسم کو ہے طلب
خوب صورت ہے یوں
جس طرح خواب بیداریوں سے ملے
جیسے سورج سمندر میں نارنجی ملبوس پہنے ہوئے
یک بیک چل پڑے،
وہ جس کی مرے جسم کو ہے طلب
خوب صورت ہے یوں
جس طرح ” آج“ گزرے ہوئے ” کل“ میں پھر سے جےے
جیسے سورج کی جانب سمندر بہت ہمہمے سے بڑھے
اور تلاطم کا ملبوس تک چھوڑدے)
…………
محبت کے بارے میں ہم کچھ نہ بولے
جو لمحہ بہ لمحہ فنا ہورہی ہے
کسی کے بھی بارے میں ہم کچھ نہ بولے
مگر اب کہ ہم آپ ہیں
غنا اور خموشی کے اس ایک لمحے میں رزقِ فنا
کیا خبر کس لےے
ہم میں ہر ایک مغموم ہے، جس طرح
یادِ ماضی کے گرداب میں یہ کوئی دوسرے سے نہیں پوچھتا
” کون ہے تُو ، کہاں پر ہے تیرا وطن“
جب کہ حطّین میں ہم سبھی ایک دُوجے کی پہچان تھے
زمانے کی گنتی مگر اور ہے
یہ ہمیشہ سے ہی
مرچکے اور زندوں کے مابین تفریق کرتا نہیں
…………
کھو گیا ہے کہاں
میرا پھولوں سے مہکا ہوا گلستاں؟
گھر مرا سُو بہ سُو
پھر چنبیلی کے پھولوں سے ہو مُشک بو….!
کہاں چھن گئی ہے مری شاعری؟
ہے مجھے یہ جنوں
ان کٹاروں کا آہنگ مجھ کو ملے
کاٹ دے رشتہ¿ قلب جن کا فسوں
اور تخلیق ہو
آرزو کی تمازت سے دہکا ہوا ایک عاشق کا دل!
اور اب میں تمہیں بھولنا چاہتا ہوں
کہ سر پر کھڑی موت سے کچھ تو مہلت ملے!
اور اس موت سے تُو بھی دامن بچا
جو مماثل نہیں اس رُخِ موت سے
جس کا سواگت مری بوڑھی ماں نے کیا ……..
…………
(وہ جس کی مرے جسم کو ہے طلب
اس کے دوروپ ہیں
ماورائے جہاں ایک ہے۔ دوسرا
شہرِ سدّوم کی کُہنگی میں نہاں
اور مجھ کو انہی دو حدوں کے میاں
جستجو ہے حقیقت کے کھوئے ہوئے روپ کی)

 

 

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *