Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » شبیر رخشانی

شبیر رخشانی

ڈاکٹر فیض ہاشمی کون ہیں میرے ذہن پر ایک سوال ابھرا۔ جسکا جواب ڈھونڈنے کے لئے مجھے صبر و تحمل اور انتظار کا سہارا لینا پڑا۔ HRCPبلوچستان کے شمس الملک مینگل جو کہ ڈاکٹر فیض ہاشمی کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں سب سے پہلے انہیں اسٹیج پر دعوت دی گئی۔ انکا کہنا تھا کہ فیض ہاشمی کے ساتھ انکی دوستی کا رشتہ 18 سال پر محیط رہا اور زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔ انہوں نے سخت حالات کے باوجود بلوچستان بھر کا دورہ کیا۔ اور اپنی نمائندگی ظاہر کی ۔
نیشنل پارٹی کے رہنماء اور کالم نگار راحت ملک نے ڈاکٹر فیض ہاشمی کی موت کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت ڈاکٹر ایک عام آدمی و ہمدرد انسان، بطور سیاستدان ایک نظریاتی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے سماج کو وہ دیا جو اسکا حق بنتا ہے انہوں نے اپنے آپ کو ایک انسان کے طور پر سماج کے سامنے پیش کیا اور سرخرو ہوگئے اب بھی انہیں زندہ رہنا چاہئے تھا لیکن بے رحم موت نے اسے وقت سے پہلے ہم سے چھین لیا۔
بی این پی مینگل کے رہنماء ڈاکٹر غلام نبی مری کا کہنا تھا کہ انہوں نے سخت حالات کا جوان مردی سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے سیاسی کارکن، لیڈر اور ہمنوا کی صورت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے مختلف فورم پر مختلف اداروں کی نمائندگی کی اسکی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس نے مایوسی کو کبھی اپنے پاس آنے نہیں دیا۔
HRCPبلوچستان کے چیرمین طاہر حسین نے پورے حال پر نظر دوڑاتے ہوئے اکثر نشستوں کی خالی پن کو معاشرے کی بے حسی کے مترادف قرار دیا انکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر جس سوسائٹی کے لئے وقت سے پہلے امر ہو گئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دعوت دینے کے باوجود وہ اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہاں کا رخ نہ کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ڈاکٹر کو بچانے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس کے لئے کچھ کیا جا سکتا تھا۔ اور موت نے ہم سب کی چھٹی حس کو بھی سلا دیا تھا اور ہم اسکے لیئے کچھ نہ کر سکے
HRCPخاران کے کوارڈینیٹر فاروق کبدانی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کے ساتھ انکا رشتہ استاد اور شاگرد کا تھا۔ 2002ء کو جب پورے ملک میں پرویزی آمریت کا جادو سر چڑھ کر بولا تو ڈاکٹر ہی وہ انسان تھے جس نے پرویزی آمریت کے آگے اپنا سر جھکایا نہیں بلکہ ایک آہنی دیوار کی مانند کھڑے رہے۔
سب سے آخر میں ڈاکٹر فیض ہاشمی کے ایک اور دیرینہ ساتھی ڈاکٹر سلیم کرد کے زبانی جو سنا تب پتہ چلا کہ ڈاکٹر کون تھے اور وقت سے پہلے وہ بے رحم موت کے ہاتھوں کیوں مارے گئے انکو جینا تھا اپنے لئے اس سماج کے لئے۔
اللہ کرے اس سرزمین پر اور ہزاروں فیض ہاشمی پیدا ہوں۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *