Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » شبِ سفر ۔۔۔ مبشر مہدی۔ ملتان

شبِ سفر ۔۔۔ مبشر مہدی۔ ملتان

ڈھگل گیا سورج بھی ابھی سے
اُمڈ آئے ہیں خون کے سائے
ہر طرف سنگ و خشت کی بارش
کوئی بُت ہے نہ پری ہے
آہستہ سے پتوں نے کوئی بات سُنی ہے
مہتاب کا پیغام ہے ذرا ٹھہرو
ستاروں کا آوازہ کہ شورش قتل و غارت گری ہے
رات دیتی ہے سندیسہ کہ غم کی گھڑی ہے
لو مسافرِ ان شب اندو شبستانوں سے نکلے
نے رخت سفر نے انجام کا سودا
بس اِک آتش ہے سینوں میں کوئی سُلگتی
اور وہ بھی کہ پاﺅں سے بندھی ہے
و ہ اندھیرا ہے کہ ہنگام سحر کبھی بھی نہ ہو جیسے
سُلگتے ہوئے آہن سے کوئی چیر رہا ہو
دِل ہیں کہ ماتم سے ہیں پیوست
جاں ہے کہ ہمیشہ سے سولی پہ چڑھی ہے
وہ لمحات ہیں کہ اَجل نزدیک کھڑی ہے
پہ اجل کی نو بت بھی کوئی بات نہیں ہے
اس صف نہ اُس صف میں کوئی تفریق رہی ہے
وہ جلتے ہوئے خیام
وہ لاشوں پہ برستے برستے تھکتے ہوئے آنسو
وہ لاشیں کہ نہ صورت نہ کوئی تن ہے سلامت
ابھی جنگ کا طبل بجا جاتا ہے ہر دم
ابھی مسافرتِ شب بہت ہی کڑی ہے
جانے کتنے ہی مسافر اِس راہ پہ لٹتے ہی رہیں
جانے کب باب سحر بھیجے صبا
جانے کب اُمڈیں ویرانوں سے چراغوں کی قطاریں
یہ اُجڑے ہوئے خاموش مسافر
جاں سے ٹوٹے ہوئے گرتے ہوئے سہمے ہوئے لوگ
ہر لمحہ جن پہ ثبت ہے قضا
ہر لمحہ جن پہ ہزیمت ہی تنی ہے
یوں لگتا ہے جیسے
عام موجود پہ قیامت سے بھی زیادہ قیامت سی لگی ہے
پکارو کسی سرافیل کو اب
دو آواز بے چین ہوتے ہوئے لوگو
چیخ کہ کہو اے مسیحائے بنی آدم کہاں ہو
اب آﺅ کہ ڈھلے شب ہمیشہ کے لےے
تلاوت کرو آیتوں کی نہیںتو
عالمِ اسباب کی ناﺅ ڈوب چلی ہے

Check Also

April-17 front small title

شازیہ کی بیٹی ۔۔۔ آمنہ ابڑو

شازیہ، وہ کمسن ماں جسے بیٹی پیدا کرنے کے جرم پر شوہر نے کلہاڑیوں کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *