Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » شاعر ۔۔۔۔ مجید امجد

شاعر ۔۔۔۔ مجید امجد

میں شاعر ہوں میری جمالیں نگہ میں

ذرا بھی نہیں فر ق ذرے میں مہ میں

جہاں ایک تنکا سا ہے میری رَہ میں

ہر اک چیز میرے لےے ہے فسانہ

ہر اک دُوب سے سن رہا ہوں ترانہ

مرے فکر کے دام میں ہے زمانہ

میں سینے میں داغوں کے دیپک جلائے

میں اشکوں کے تاروںکا بربط اُٹھائے

خیالوں میں نغموں کی دُنیا بسائے

رہِ زیست پر بے خطر جارہا ہوں

کہاں جارہا ہوں، کدھر جارہا ہوں

نہیں جانتا ہوں، مگر جارہا ہوں

یہ دُنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر

یہ دُنیا یہ اک نا مکمل سی تصویر

یہ دُنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر

میں جب سوچتا ہوں کہ انساں کا انجام

ہے مٹی کے اِک گھر کی آغوش آرام

تو سینے میں اُٹھتا ہے اک درد بے نام

میں جب دیکھتا ہوں کہ یہ بزمِ فانی

غمِ جاودانی کی ہے اک کہانی

تو چیخ اُٹھتی ہے میری باغی جوانی

یہ محلوں، یہ تختوں، یہ تاجوں کی دُنیا

گناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دُنیا

محبت کے دشمن سماجوں کی دُنیا

یہاں پر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے

کوئی چق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے

مرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے

مگر ہائے ظالم زمانے کی رسمیں

ہیں کڑواہٹیں جن کی امرت کے رس میں

نہیں میرے بس میں نہیں میرے بس میں

مری عمر بیتی چلی جارہی ہے

دو گھڑیوں کی چھاﺅں ڈھلی جارہی ہے

ذرا سی یہ بتی جلی جارہی ہے

جونہی چاہتی ہے مری روح مدہوش

کہ لائے ذرا لب پہ فریاد پر جوش

اجل آکے کہتی ہے خاموش! خاموش!

Check Also

jan-17-front-small-title

گوادر کے مچھیرے  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

کبھی ہم مچھیرے تھے جال میں پھنسی چھوٹی مچھلیاں پانی میں واپس پھینک ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *