Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » شاعر سعدی یوسف ۔۔۔ سلمیٰ اعوان

شاعر سعدی یوسف ۔۔۔ سلمیٰ اعوان

جس کے نصیب میں
اپنے وطن کی سرزمین پر پاؤں دھرنا نہیں
سعدی یوسف سے میرا بھرپور تعارف کروانے میں قدیم بغداد کے اُن قہوہ کیفوں میں منعقدہ ادبی محفلوں اور شاعروں کا مرکزی کردار ہے جو میرے لاہور کی ہی طرح ادبی بیٹھکوں ،گھروں اورکیفوں میں ادبی نشستوں اور مشاعروں کی صورت نئے اور پرانے شعرا کے اوپر بحث مباحثے کیلئے اور کبھی اُن کا کلام اورمفہوم سمجھنے کیلئے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔بغداد میں میری بھی چند شامیں اسی سرگرمی کی نذر ہوئیں۔بلا سے مجھے سمجھ نہ آتی مگر میرا ٹیکسی ڈرائیور انگریزی میں مجھے بتاتا اور سمجھاتا۔
عراق کے اہم ترین اور مشہور شعرا میں ایک اہم نام سعدی یوسف کا ہے۔ عرب دنیا کا جدید لہجے میں بات کرنے والا شاعر جو 1934میں بصرے کے قریب ابو الخصیب نامی گاؤں میں پیدا ہوا۔وہ ایک شاعر ہی نہیں تھا۔بہت اچھا نثر نگار بھی تھا۔جرنلسٹ رہا۔ پبلشر بنا اور سیاسی کارکن کے طور پر بھی کام کیا۔عراق ہمیشہ سے اپنے آپ پر نازاں ملک رہا ہے۔عرب دنیا کے مشہور شہروں کے بارے میں ایک روایت ہے۔Cairo writes, Beirut publishes and Baghdad reads۔ اور بغداد اِس پر پورا اترتا ہے۔ پڑھنے کا شوقین ،کتابوں کا شیدائی اور یہی احساس فخر اس کے شاعروں ،ادیبوں اور آرٹسٹوں میں نظر آتا ہے۔سعدی نے جب شاعری کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں بدر شاکر السیاب ، عبدالوہاب البیتی کی آزاد شاعری سے متاثر ہوا پھر آہستہ ان کے اثر سے نکلتا گیا۔
سعدی یوسف اُس ماڈرن عراقی شاعری کا ایک حصّہ بنا جو اس وقت جماعت jam’a at al Ruwwad کے نام سے جانی جاتی تھی۔
وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی سامراجی رویّوں کا مخالف اور ترقی پسند نظریا ت کا حامی تھا۔ سیاست میں بھی اُلجھ گیا تھا۔ بغداد کی خلیفہ اور سیدون سٹریٹ کے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر اپنی انقلابی نظمیں سُناتا اور چھاپہ پڑنے پر بغداد کی بیچ در بیچ گلیوں میں دوستوں کے ساتھ بھاگ نکلتا۔جمال عبدالناصر کے نعرے لگاتا۔کبھی دمشق، کبھی قاہرہ چھپتا پھرتا ۔عراق جمہوریہ بنا ۔ پر کہاں استقامت تھی اس ملک کے مقدر میں؟ عبدالکریم قاسم کا زمانہ ،بغاوتوں سازشوں کے وار۔کمیونسٹ پارٹی میں شامل دھواں دھار تقریریں کرنا،لوگوں کو اُکسانا۔نظمیں پڑھنا جیسے مشاغل تھے۔ جب صدام اقتدار پر قابض ہوگیا۔اُس کا فیصلہ تھا کہ وہ بائیں بازو کی باقیات کا خاتمہ کردے گا۔
سعدی یوسف تو بڑی انقلابی نظمیں لکھ رہا تھا وہ راستہ کیسے بدل سکتا تھا؟بغداد کو خیر باد کہا۔اور پھر اُسے دوبارہ بغداد اور بصرہ آنا نصیب نہ ہوا۔اپنے بارے میں اُس نے ایک بار لکھا تھا کہ میں دنیا کا شہری ہوں مگر میری کوئی سرزمین نہیں۔ یہی وہ دن تھے جب اُس نے لکھا :
پچیس سال گزرے تو معلوم ہوا
ابنِ یتمیہ
تشد د خانوں کا کوتوال بن گیا ہے
اور الموافق
آج بھی غلامان کے سر کچلنے میں مصروف ہے
دمشق کی پولیس ،عراقی پولیس،عرب امریکی پولیس
انگریزی اور فرانسیسی،ایرانی اور عثمانی پولیس
فاطمی خلفاء کی پولیس ہمیں ٹھوکریں مارتی ہے
ہم پاگل پن کی اولاد ہیں
تو آؤ وہ کر گزریں جو جی میں آتا ہے
سعدی یوسف کی شاعری اپنے ملک کی کہانی کو ناقابل یقین حد تک سچائی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔یہ شاعری اپنا تعلق قدیم میسوپوٹیمیا کی تہذیبی زندگی سے جوڑتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔اور عراق کے جدید نظریات سے ہم آہنگ کرتی ہے۔اُسے اِس سرزمین پر پھیلی ہوئی غربت،شخصی حکومت اور جنگیں پریشان کرتی ہیں۔اپنی ایک مشہور نظم میں وہ امریکہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔
امریکہ ہم عراقی تمہارے یرغمالی تو نہیں ہیں
اور تمہارے سپاہی بھی خدا کے بھیجے سپاہی نہیں
ہم غریب سے لوگ اُن مردہ خداؤں کی سرزمین کے والی
تو آؤ اے امریکہ تحائف کا تبادلہ کریں
تم اپنے سمگل شدہ سگریٹ لے لو
ہمیں ہمارے آلو دے دو
اپنی مشنری کی کتابیں لے لو
اور ہمیں کاغذ دے دوکہ ہم نظمیں لکھیں جو تمہارے چہرے کو داغ دار کریں
اپنے جھنڈے کی پٹیاں لے لو
اور ہمیں ستارے دے دو
اپنی ایک اور نظم میں وہ لکھتا ہے یہ عراق قبرستان کے کناروں پر پہنچ جائے گا۔یہ اپنے بیٹوں کو نسل بہ نسل دفن کرتا رہے گا۔
2003کی جنگ میں وہ اپنے ملک کی نئی گورننگ باڈی کو ٹی سکرین پر دیکھتے ہوئے اپنے گہرے دوست مظفر النواب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے:
اس گیڈر وں کی بارات کا کیا کریں۔
سچ یہ ہے کہ ہم اِن گیڈروں کی دعوت ولیمہ میں آئے ہیں۔ان کا دعوت نامہ پڑھا ہے۔ میں اِن سے ملنے جاؤں گا میں گیڈروں کے منہ پر تھوکوں گا
میں اِن کی فہرستوں پر تھوکوں گا میں انہیں بتاؤں گا
ہم اہل عراق ہم جو اس دھرتی کی تاریخ کے وارث ہیں
ہمیں اپنی بانس کی معمولی چھت پر فخر ہے
یہ نظم تو منٹوں میں بغداد اور بصرہ پہنچ گئی تھی۔عراق کے گاؤں گاؤں گھومی۔سعدی یوسف پر لعن طعن کی بوچھاڑ برسنے لگی۔دھمکیاں ملنے لگیں۔جن دو ہزار افراد کی عراق میں داخل نہ ہونے کی لسٹیں بنیں اُن میں سعدی یوسف سرفہرست تھا۔جنرل ٹومی فرینکس کے نام سعدی یوسف کا خط بھی بڑا مشہور ہوا۔شاعر نے بھگو بھگو کر جوتیاں ماریں۔
اُس کی شاعری کے کوئی تیس 30کے قریب مجموعے ہیں ۔دو ناول اور پانچ کہانیوں کی کتابیں ہیں۔
Without an alphabet, with out a face-selected poems of Saadi Youssef ۔سعدی یوسف فیض احمد فیض سے نہ صرف بیروت میں مل چکے تھے بلکہ ان کا وہ سارا کلام جو انگریزی میں ترجمہ ہوچکا تھا بھی پڑھ بیٹھے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ فیض کے بہت مدّاح تھے۔

Check Also

March-17 sangat front small title

گوادر، ادب اور سمندر۔۔۔ فاطمہ حسن

گوادر جو کبھی اپنے خوب صورت، پُرسکون ساحلِ سمندر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *