Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سچّو خان اور خود ساختہ دانشور ۔۔۔ ظفر معراج

سچّو خان اور خود ساختہ دانشور ۔۔۔ ظفر معراج

سننے میں آیا ہے کہ ایک باضابطہ حکم نامے کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویڑن کے قریباً تمام سینٹرز پہ یہ بینر آویزاں ہے۔ البتہ پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر پر اندازاً 40فٹ لمبا اور 15فٹ چوڑا وہ بینر میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جو پی ٹی وی کے ایک پروگرام کے پروموشن کے لئے لگایا گیا ہے۔ آپ میں سے اکثر نے یقیناًاخبارات کے آدھے صفحات پر بھی اْس پروگرام کا اشتہار دیکھا ہوگا۔ جس میں پی ٹی وی کے چیئرمین جناب عطاء الحق قاسمی صاحب ، ایک خود ساختہ دانشور کے ساتھ ایک خاتون میزبان کے توسط سے مکالمہ کرتے ہیں۔ وہ پروگرام کتنا پرمغز اور کتنا منافع بخش ہے ، میرے جیسا کم فہم اور کم علم شخص بحث نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زندگی اور مارکیٹنگ دونوں کی باریکیاں میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ہاں، مگر اتنا جانتا ہوں کہ اتنے بڑے شاعر ، محقق، ادیب ، مزاح نگار ، سفارت کار اور عہدیدار کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ شہر کے چوراہے نہ سہی ،پی ٹی وی سینٹرز پر تو ان کی ذات کے قد کاٹ کے مطابق ان کے پروگرام کا اشتہاری بینر آویزاں کیا جائے۔
یہی بات میں نے سچّو خان کو بھی سمجھائی۔ جو پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر کے لان میں لگے درخت سے پیٹھ لگائے نقاہت زدہ آنکھوں سے اْس بینر کو دیکھ رہا تھا۔ اور اپنے وہ مہ و سال گن رہا تھا ،جو اْس نے پی ٹی وی کو دیئے ہیں۔ مگر اب اْس کے کاندھوں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اپنے ’’سرونز ‘‘کا بوجھ اٹھا سکے اور نہ ہاتھوں میں جان کہ جس سے وہ اپنے ساز کے سْر نکالے۔ اب صرف اپنی پھولی ہوئی سانس سے لڑ کر بہ مشکل بول سکتا تھا۔
وائلن کے طرز کے بلوچی ساز ’’سرونز‘‘ کے شیدائی ،سچّو خان کو استاد سچّو خان کے نام سے پکارتے ہیں۔ سْروں کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ بجاتا نہیں بہاتا ہے۔ اورْ سروں کو نہ سمجھنے والوں کا تاثر یہ ہے کہ وہ بجاتا نہیں، دِلوں پر آری چلاتا ہے۔ کچھ سننے والے کہتے ہیں کہ عاشق ہے۔ اپنے سرونز کے ذریعے روتا ہے۔ اور کچھ کا خیال ہے کہ بہت بڑا سفاک ہے۔ ظالموں کو بھی رلادیتا ہے۔ کچھ کی نظر میں فقیر ہے اور کچھ کی نظر میں فنکار ہے۔ بہرحال وہ جو بھی ہے۔ اْس نے ایک سازندے کی حیثیت سے اپنی عمر کے تیس سال پی ٹی وی کے سٹوڈیوز میں مست تو کلی سے لے کر شہدادو مہناز تک۔ اور ناز نیک سے لے کر زہیرونگ تک۔ بلوچی رومانوی اور لوک گیتوں کے ہر کردار ، لہجے ، رنگ اور رویے کو اپنے سرونز کے ذریعے Paintکرکے ایک ایسی آرٹ گیلری بنادی ہے۔ جو اگر سنبھالی گئی تو آنے والی نسلوں کیلئے نہ صرف بلوچی موسیقی بلکہ بلوچستان کی تاریخی ، سماجی ، ثقافتی ، مذہبی اور روحانی روشناسی کا بھی ذریعہ بنے گی۔
مگر پی ٹی وی کے پاس سچّو خان کو دینے کے لئے اس 1523540 والے بینر جتنے پیسے بھی نہیں ہیں۔ جو اْسے اْس کے علاج کے لئے چاہئیں اور وہ گردوں کے شدید عارضے میں مبتلا روز ایک آسرہ لے کر اْس درخت سے پیٹھ لگاکر اس بینر کو نہ جانے کن نظروں سے دیکھتا ہے۔ اِن مایوس اور ناامید نظروں میں مگر وہ اکیلا نہیں ہے۔ اْس کے اردگرد بلوچی۔ براہوی اور پشتو کے دیگر سازندے، گلوکار ، موسیقار اور فنکار بھی ہیں۔ جن کے لئے پی ٹی وی کے سٹوڈیوز پچھلے کئی برسوں سے بند ہیں۔ مگر وہ اپنی عادت سے محبور اور بے روزگاری کی وقت گزاری کے لئے اس لان میں اس بینر کے سامنے آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی حال کراچی میں سندھی زبان ، لاہور میں پنجابی ، ملتان میں سرائیکی ، پشاور میں پشتو اور ہندکو۔ اور اسلام آباد کے مقامی فنکار وں کا بھی ہے۔ کیونکہ ان تمام سینٹرز سے مقامی زبانوں کے پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان بیچاروں کو اب اپنے فن کا مظاہرہ اور گھروں کے چولہے جلانے کے لئے کسی 23مارچ یا 14اگست کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ’’تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں‘‘کا تماشا لگانے والوں کو ان کی نمائش کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ اْس کے بعد کوئی مڑ کر نہیں پوچھتا۔ نہ ان زبانوں کو اور نہ ان کے فنکاروں کو۔اور نہ ہی کسی کی نظر پی ٹی وی پہ پڑتی ہے ، جس کے صرف نیوز سیکشن میں کچھ لوگوں کے بولنے کی آواز سنائی دیتی ہے ، باقی سارے سیکشنز ویران پڑے ہوئے ہیں۔جہاں ان زبانوں کا فن ، ان کے فنکار ، موسیقی ، سازندے اور موسیقار اس ادارے کی بے حسی اور بدانتظامی کی گرد کے نیچے آہستہ آہستہ دفن ہورہے ہیں۔ اس کے لئے سوچنے کی فرصت کس کو ہے۔ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور حکمران زخمیوں کی عیادت میں مصروف۔ جبکہ پی ٹی وی جس وزارت سے منسلک ہے ، اْس کی تمام تر توانائیاں حکمرانوں پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے میں کوشاں ہیں۔ ہاں البتہ پی ٹی وی کے چیئرمین صاحب کم از کم ایک سٹوڈیو کھلوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،جہاں سے اْن کا یہ پروگرام نشر کیا جاتا ہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی اور دوسرے ڈائریکٹرز کیا کر رہے ہیں ، یہ شاید اْنہیں خود بھی نہیں معلوم۔ پی ٹی وی کے مختلف سینٹر ز کے جنرل منیجرز اور پروڈیوسرز ، اْن کا تو نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔
مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے پی ٹی وی اپنے بطن سے کئی سیٹلائٹ چینلز جنم دینے کے بعد اب ریٹائرمنٹ کے ایام گزار رہی ہے۔ اور ان فنکاروں کو ایک طرح سے دھتکار چکی ہے کہ جب مقامی زبانوں کے نجی سیٹلائٹ چینلز نے اپنی اپنی دکانیں سجالی ہیں ، تو جائیں یہ فنکار اپنا سودا وہاں بیچیں۔ پی ٹی وی کیوں یہ کاٹ کباڑ سنبھالے۔ کب تک وہ ’’نڑسْر‘‘۔’’سرونز‘‘۔ ’’رباب‘‘۔ ’’الغوزہ ‘‘۔ ’’یک تارے ‘‘ اور ’’چمٹے‘‘ کی فرسودہ موسیقی اور ان سے وابستہ سازندوں کے جونک خود سے چمٹاکے رکھے۔ بلکہ بہتر ہے کہ یہ لوگ اپنی زبانوں کی فخریہ پگڑیاں اور دستاریں اتار کر چینی ٹوپیاں اور انگریزی ہیٹ پہن لیں۔ تاکہ ترقی کی بننے والی سڑکوں پہ سفر کرنے کے قابل ہوں۔ زبان اور ثقافت کا زمانہ گزر گیا۔ اب وسائل اور منڈی کا دور ہے۔ شناخت کے یہ بے فائدہ لبادے پی ٹی وی نے اپنے وارڈ روب سے نکال کے پھینک دیئے ہیں۔
اور مقامی زبانیں کیا بیچتی ہیں ، خود ’’قومی ‘‘زبان اردو کے فنکاروں کو بھی صرف پی ٹی وی کے Lobiesمیں گھومنے کی اجازت ہے یا پھر دفتروں میں جھانک جھانک کر سلام کرنے کی جسارت۔ اس سے آگے اسٹوڈیوز کے دروازے تو اردو پر بھی بند ہیں۔ ’’قومی‘‘ زبان کے فنکار تو دوسرے چینلز پہ میاں بیوی اور محبوبہ کے تکون والے ڈراموں یا ساس بہو کے دائرے میں گردش کرنے والے soaps میں جاکر کھپ گئے۔ لکھاری بھی ضروری اور حساس سماجی موضوعات سے منہ پھیر کر کمروں اور باورچی خانوں سے کان لگاکر خانگی سازشوں کی چغلیاں لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ بچ گئے ’’مقامی ‘‘زبانوں کے فنکار ، تو اْن میں سے جن کو ’’فنکاری‘‘ کرنی آتی تھی ، وہ تو مقامی زبانوں کے چینلز کے کام آگئے۔ جہاں صرف زبان مقامی ہے۔ باقی سب کچھ بین الاقوامی یا غیر مقامی۔ اور جن کو ’’فنکاری ‘‘ نہیں آتی تھی ، یا جن کے فن کی ضرورت نہیں تھی ، وہ سچّو خان کی طرح روز لان میں آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ ’’قرض کی چائے پیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اْن کی فاقہ مستی ایک دن رنگ لے آئے گی‘‘۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ کسی دن کسی دشمن کی نظر ان لوگوں پر پڑ گئی اور اس مایوسی اور بے روزگاری کی بے مقصدیت کو اگر اْس نے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرلیا تو بہت برا ہوگا۔ پھر کوئی دل جلا اُس سٹوڈیو میں جاکر پھٹ جائے گا جس کے دروازے اْس پر بند ہیں، اور قوم کے بلند حوصلوں کو دشمن کے ایک اور بزدلانہ حملے کے امتحان سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اور اس سے بھی زیادہ برا ہوسکتا ہے۔ اگر کسی بم کی بجائے یہ مایوسی خود پھٹ پڑی۔ کیونکہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ جس کی زد میں آکر نہ صرف یہ بینرز اور اْن کے خود ساختہ دانشور اکھاڑ کے پھینک دیئے جائیں گے بلکہ اْن کی پشت پہ کھڑے حکمران اور ادارے بھی۔۔۔۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *