Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سورج کا شہر گوادر ۔۔۔ شاہ محمد مری

سورج کا شہر گوادر ۔۔۔ شاہ محمد مری

ہم اور ماڑہ گئے ۔ جمعہ کا دن اور وقت تھا، اس لیے بازار تقریباً بندتھا ۔وہاں ایک شخص سے شہر کے اِس عجب نام کے بارے میں پوچھا۔ اُس کی معلومات تھیں کہ یہا ں سے گزرنے والی سکندر کی فوج کے کمانڈر ’’ہر مز‘‘ کا نام بگڑتے بگڑتے اور ماڑہ بن گیا۔
سمندر (اور یوں شہر بھی)نیوی کے زیر استعمال ہے ۔ ہم بس گئے اور کار موٹر میں ہی شہر اور بازار میں سے گزرے اور واپس مین روڈ پر آئے۔ اِدھرمست توکلی کے بقول ہمارے ’’ اباّ بچ مری آنی ‘‘ نہ تھے، ڈاکٹر فضل خالق ٹرانسفر ہو کرگوادر چلا گیا تھا اور غوث بہار خود ساختہ، خود سوختہ اور معروض کی ماری جلا وطنی کی ٹھوکروں میں۔
ہم اورماڑہ سے نکلے اور سگنل کی آمد کے مواقع پر دوسرے دوستوں سے رابطہ قائم کرکے بالآخر سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے رکے۔ ارے ادھر تو اپنوں نے ایک دنیا بسائی ہوئی تھی ۔ نوشین تھی ناں۔ اور اُس سے وابستہ لوگ تھے۔یہ عورت ہو بہو بلوچستان جیسی ہے ۔ قحط و سیر سالی کی دو انتہاؤں کے بیچ کے سارے سپیکٹرم سے مزین ۔ مسیحی لوگوں کی طرحlove اور beloved اُس کے بے معنی تکیہِ کلام ہیں۔ جتنے ذاتی و سماجی دکھ ایک بلوچ تعلیم یافتہ خاتون کے لوح محفوظ میں لکھے ہوتے ہیں وہ اُن سب کا ذائقہ چکھ چکی ہے۔ابتدائی انسان کی طرح سیاسی، سماجی،معبود پاتی اور مسترد کرتی رہی۔ پاتی تھی تو ارشمیدسی نعرے لگاتی تھی، مگر جب ’’جاننے‘‘ کے بعد مسترد کرتی تھی تو تاسف کا گہراگھاؤ دل پر ایک چیر کا نشان بنائے بنا کبھی نہ بھرا۔اس کی باطنی دنیا جب اعتماد کرتی ہے تو اپنی صندوق میرے سامنے الٹ دیتی ہے مگر مردم گزیدگی میں مہینوں سالوں تک دبیز دھند اوڑھے رکھتی ہے۔ مجھے ’’ ماما‘‘ کہنے والے میرے میڈیکل کے شاگردوں شاگردنیوں کی بیماری اُسے بھی لگے کئی دہائیاں بیت گئیں۔۔۔۔۔۔ (اردو زبان میں ’’ ماموں بنا نا‘‘ ایک محاورہ بھی ہے۔ مگر اِس گہما گہمی کے عہدمیں آپ کس کس بھانجے اور بھانجی کو روک کر اُس کا منہ سونگھتے پھریں گے کہ اُس کے ’’ ماما‘‘ کے خطاب میں کہیں ’’ ماموں بنانے ‘‘ کی آمیزش تو نہیں)۔
نادر قمبرانڑیں اِس قوم کو دو گڑیا ئیں دے گیا ہے ۔ افشیں اور نوشیں۔ چاہے تو اُن سے فیضؔ ترنم میں سن لو، چاہے تو گل خان کے ترانے ۔ نوشین نے نیپ کی فضیلہ عالیانی کی طرح اپنی شاعری ہمارے رسالے سے شروع کی تھی ۔ اب تو وہ جائز طور پر بلوچ عورتوں کی ’’شاعرِ مشرق ‘‘بن چکی ہے۔
نوشین جہاں موجود ہوتی ہے ایک مختلف النوع حلقہ اپنے گرد بنالیتی ہے۔ آج اس چھپر والے ہوٹل کے ایک چھوٹے سے چھپر کے کمر ہ نما حصے میں درجن بھر لوگ پروانگی کو جامد و موجود تھے۔
ایک ننھی بلوچ بچی رژنا وہاں تھی ۔ متحرک و مستعد ۔ فطین و ناطق۔ ذہین و Inquisitive۔ اعتماد سے بھری، سوالات سے پُر، مجھے گل خان نصیر کی، بلوچ کے بارے میں دعایا د آئی۔ ( یا خداوندا بلوچانہ چوشیں مردم بہ دئے) ۔سوا دو منٹ کے اندراندر اُس بچی نے ہمیں بچہ بنا ڈالا۔۔۔۔۔۔اور مجھے بچہ بننا بہت اچھا لگتا ہے۔
وہاں سے چلے تو آگے ماکو لا آیا۔ مچھیروں کی بستی اور عین سامنے سمندر۔
ہم پسنی کے لیے مڑ گئے، بائی پاس کے راستے ۔پسنی تو گوادر کی طرح بلوچ کی درخشاں تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ اسے گوادر کی طرح اس وقت جل کر خاکستر ہونا پڑا تھا جب اُس کے بچے1581 میں پرتگالی سامراجیوں کے خلاف لڑے تھے۔
ہم نے ہر حال میں پسنی جانا تھا ۔ہمیں ایک آدھ قرض چکانا تھا، ایک آدھ وفا نبھانی تھی ، ایک رواج کی برآوری کرنی تھی۔ مگر مبارک قاضی ملے تو سہی۔ اِس دکان میں ہوگا ، نہیں اُس اوطاق میں ملے گا، ارے نہیں نہیں ابھی ابھی گھر چلا گیا۔ ہم نے یہ’’ چیز جاہ ‘‘( کھلونوں کی دکان)، چھان ماری ،وہ ’’سرٹاپ جاہ‘‘ ( باربر شاپ) جھانکا، وہ ’’ ٹیکی جاہ‘‘ ( گفٹ سنٹر) جھاتی ماری ۔ہم نے شہر بھر پھر کر جانی، انجانی، شناسی،اور تلاشی متلاشی نگاہیں خود پہ ڈلوائیں۔ وفا ،رفیق و رقیب دونوں کے نوٹس میں رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور اب تو سارا شہر( اور بلوچستان کا ہر شہر) رفیق و رقیب کی ٹاپوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
ہمیں انور صاحب خان بھی مطلوب تھا، مگر یونہی خیر سگالی کے لیے۔ آپ پیروں کے شہر ملتان جائیں، رکن الدین کی زیارت کریں مگر یوسف مگسی کے والد کی قبر کو سلام نہ کہیں، یہ ممکن ہے کیا؟۔ آپ اور ماڑہ جائیں، قاضی کے دربار جائیں اور انور صاحب خان نامی ایک پیرزیارت سے رہ جائے تو خلش کہاں چھوڑے گی ۔ ادب سے وابستہ یہا ں کے سیاہ اور ماہ لنج دونوں ہمیں پیارے ۔( سیاہ ہمل کی گھوڑی کا نام تھا اور ماہ لنج اُس کی محبوبہ تھی)۔ اب قاضی اور انور میں سیاہ کون ہے اور ماہ لنج کون ؟۔دل بتانے سے قا صرہے۔ قاضی کو تلاشنے میں ابھی بھنبھوریوں کو مزید ریت پھانکنا تھا۔ منزل معلوم ہونا چاہیے راہ شناسی تو اضافی نعمت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں تو غضب یہ ہے کہ منزل کا تعین ہی نہیں کیا ہوتا،راستہ کے انتخاب پر فرقے کاریاں اور بیان بازیاں ہوتی رہتی ہیں۔
انور صاحب خان مل گیا ۔’’ شاباش شابش‘‘ یعنی جلدی کرو جلدی کروپیٹتے ہوئے وقت نے یہ موقع تو نہ دیا کہ ہم اُس کے ساتھ دو گھڑی بیٹھتے، بہت ادب اور توجہ سے اُس کی زبانی اُس کا کلام سنتے ، اُس کی کتابیں اُس سے وصول کرتے ۔مگر یہ کیا کم نعمت ہے کہ مشرق، مغرب سے عصر کے وقت گلے ملے؟۔جوانوں نے ہمیں ایک بار پھراحسان مند کردیا کہ اُس کے ساتھ فوٹو گرافی کا موقع بخشا۔بس ایک لمحہ ملاتھادید کو۔ایک گرمجوش خیر مقدمی گلے ملائی کے دس منٹ بعد ہی ہم الوداعی گلے ملے ، اورقاضی مبارک کی طرف چلے۔
قاضی کے دو ہی بچے تھے۔ ایک میرا محبوب شاگرد قمبر اور دوسری بیٹی۔ گُرانڈ دِرِک یعنی کہکشاں نے اچھی جوانی ( فش ہاربر میں گریڈ19 کی افسری) سے بھرپور اِس حافظِ قرآن کو شاعری کی صلاحیت سے نوازا ہوا تھا۔ زرنوشت(1990)، شاک مں سبزیں ساوڑا ، منی عہدئے غمئے قصہ، اور ، حانی منی ماتیں وطن، اُس کے مجموعہ ہائے کلام ہیں۔ اگلی کتاب کا نام ہے ’’ چولاں دریا یل داتگ‘‘(2012)۔
یہ بہت دلچسپ ہے کہ قاضی دریا (سمندر) اوڑھتا ہے، بچھاتا ہے ،اور سمندرکے ساتھ ہی رہتا ہے۔ وہ اُس کے ساتھ مذاق کرتا ہے،ہنستا ہے ، پیتا ہے، اور اُسی کے گلے لگ کر روتا ہے ۔ پختہ پکا ناتا، جنم جنم کاناتا۔
وہ اپنی سنجیدہ ،اور منجمد ذہنوں کی پرتیں وا کرنے والی شاعری کی مطابقت میں بولنے اور چلنے کی پاداش میں1981 میں ایک سال مچ جیل بھگت چکا ہے۔ پھر 2006 میں اس تسلسل کے ارتکاب میں چھ ماہ تربت جیل میں رہا۔ اس پر دو دفعہ جان لیوا حملے ہوئے۔2013 میں گھر پہ گرینیڈ حملہ ہوا، گھر تباہ، بیوی سخت زخمی۔ چھ ماہ بعد2014میں دوسرا حملہ۔الزامات؟ بغاوت۔کیا لوگ ہیں یہ ہمارے گل خان، عطا شاد اور مبارک قاضی!!
چشیں قاضی یے کہ مبارک انت پدا
مشکل انت کہ ودی بہ بیت
ہم گلیوں بازاروں کے جھروکوں سے سمندر سے آنکھ مٹکائیاں کرتے اپنے جواں مرگ اور بہت ہی پیارے شہید شاگرد کے ’’ بڈھے بلوچ ‘‘ کا دروازہ کھٹکھٹا ر ہے تھے۔بھئی اپنے سٹوڈنٹس بہت پیارے لگتے ہیں۔
اور یہ قمبر عام سٹوڈنٹ نہ تھا۔ اُسے تو باپ نے کالج بھیجا ہی اُس وقت جب فون کرکے مجھے اس کا ہر طرح سے خیال رکھنے کا کہا تھا۔ اور وہ تھا بھی بہت فرمانبردار ، پرکشش، شعروادب سے دلچسپی رکھنے والا۔ لیڈری والی روایتی گردن اکڑائی اُس میں تھی ہی نہیں۔پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کب سیاست کے کوہستانی مکتبِ فکر میں جا شامل ہوا۔
مگر اب یہاں معاملہ دوسرا ہے ۔ قمبراب میرے ادارے میں زیر تعلیم نہ تھا، وہ فارغ ہوکر چلا گیا تھا۔ دور دراز بلوچستان میں فاصلے دور، روابط نہیں۔ اورپھر خبر آتی ہے کہ فلاں روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوا، فلاں بیمار ہوکر، یا فلاں مسخ شدگی میں زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھا ۔۔۔۔۔۔ بس کسی کی شکل یادرہتی ہے، کسی کی کوئی بات یا کوئی تحریر۔ ٹیچر سپیزنڈ پہ لگا سنگ میل نہیں ہوتا، بلکہ گوشت پوست سے بنا ایسا انسان ہے جسے اپنے شاگردوں کے دکھ سکھ متاثر کرتے ہیں۔ وہ جو اُن کی زندگی پر ، ان کے مستقبل پر اثرانداز جو ہوتا ہے تو گویا اُن کے غم سکھ میں شریک رہتا ہے۔
قدم بھی عجب مظہر ہوتا ہے۔ پل کو شیطانی پل کورحمانی، پل کو حاسد پل کو مقدس۔ اب ہمارے قدم خود بخود تقدس کے موزے اوڑھ چکے تھے۔ ہم شہید کے بیت اقدس کے دروازے پہ جوتھے۔ شہید کا روحانی باپ، ایک بلوچستان بھر کے فاصلے کے بعد اُس کے طبعی باپ سے تعزیت کے لیے آیا تھا۔
ہم گلے ملے۔ میں نے اپنے اِس ہمزاد سے اتنا ہی کہا کہ ہم کچھ نہیں بولیں گے کہ بولنا کبھی کبھی اَن کہی کی گراں قدری کو کم کردیتی ہے۔ لہٰذا مرکزِ ثقل کی بڑی تصویر کے نیچے بیٹھے ہم صاحب تصویر اور قدرِ مشترک کے بارے میں کچھ نہ بولے، ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ بھی نہ اٹھائے ۔ کچھ رسوم، تو، رواج سے بالا تر ہوتے ہیں ناں !۔ لہٰذا ہم نے کچھ بھی نہ کہا، ہم نے کچھ بھی نہ کیا۔ اور شاید، ہم بہت کچھ کہہ اور سمجھ گئے۔بلوچ معاشرے میں طرفین کاسببِ آمد واضح ہوتا ہے۔
قاضی سراپا درد ہے،درد کے خمار میں مخمور ۔ درد باہر ہو تو با طن میں بھی طوفان برپا کردیتا ہے،مگراندر ہو توباہری موسم کے تیور اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔
کسی کے زخموں کو کھرچنے سے بڑا ظلم اورکیا ہوگا؟۔مگر مبارک قاضی تو گوشت پوست کا نہیں ہے۔بارہ دسمبر1955 کوکہدا امان اللہ کے ہاں مبارک قاضی پسنی میں پیدا ہوا۔ پسنی ہی میں دس جماعت تک پڑھا۔1976 میں وہ کراچی سندھ مسلم کالج میں داخل ہوا ۔ مگر وہاں تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور واپس پسنی میں دکانداری کرنے لگا۔ کراچی سے پرائیویٹ ایف اے کرلیا اور اردو آرٹس کالج میں بی اے کرنے داخل ہوا۔1983 میں بی اے کرکے بلوچستان یونیورسٹی سےIR پاس کیا 1986 میں۔ پسنی چلا گیا اور فش ہاربر کا ڈائریکٹر بنا ۔ بنیادی طور پر اس نے اپنی شاعری کا آغاز1976 میں کیا جو ہنوز جاری ہے۔کیا خوبصورت شاعری کرتا ہے ۔ سامراج کے خلاف ، سردار کے خلاف ، فیوڈل و مارشل لا کے خلاف ، رجعت و قدامت پرستی کے خلاف، نا انصافی و امتیاز کے خلاف۔
ہون تنگ ایت او پشو مان نہ بیت اے مولا
آدمی ذاتئے سرا چونیں زوالے آتکگ !
ذرا دیکھیے افغانستان کے تناظر میں وہ گوادر کے کوہ باتیل کو کس طرح سراہتا ہے:
کوئی زلزلہ کسی روز تھا
تہہ و بالا منظرِ کوہ تھا
جو نشان تھا وہی مٹ گیا
جو گمان تھا وہ بھی مٹ گیا
یہ کھلونا سا میرا دل کہیں
اس شکست و ریخت میں گم ہوا
میں تلاش بھی نہ کرسکا
خط تعزیت میرے دل کہ اب
کوئی آئینہ ہی نہیں بچا
نہ ہی التفات زروفا
پہ جو دست بدست ہے اسلحہ
یہ مراد تو نہیں خاک کی
نہ اندوختہ کسی آگ کی
ابھی خانہ سوزی روا نہیں
نہ خریدار راکھ دعاؤں کی
کہ میرا خدا !
رکھے بد نظر سے امان میں
یہ گوادر دل آشنا
وہ شاید بلوچی زبان کا اولین شاعر ہے۔ جو انفارمیشن ٹکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک ایک شعر کرکے ساری غزل بھیجتا ہے۔
دکھ سکھ تو باریاں بدلتے رہتے ہیں۔ کون بنی آدم ہے جسے دکھ کا تلخ ترین ذائقہ چکھنا نہ پڑا ہو۔قاضی شاید بہادر ترین باپ ہو، یا، شہید بچے ،باپ کو مضبوط بناتے ہیں؟ ۔ قاضی کو دل کو شکنجے میں کسنے والا دکھ اُس وقت آٹکرایا جب وہ اُس کے چل چلاؤ کا وقت تھا ۔کچھ لوگوں کو البتہ بالکل الٹا تجربہ ہوتاہے۔وہ ساٹھ سال پہ کمرشکن چوٹ کھا گیا، ہم چھٹی جماعت میں ہی سایہ سے محروم کردیے گئے تھے۔ وہ تقدس کا بار اٹھانے کو زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے گا، ہم ذاتی حساب چکانے کی صورت سماج کوبہت کچھ دینے کو لڑکپن اورجوانی رینگ کر ساٹھ سال گزار چکے ہیں۔۔۔۔۔۔
دکھ کی گہرائی گیرائی کے ٹورنامنٹ کبھی منعقد نہیں ہوتے سرمایہ داری نظام میں ۔ یہ تو ہمارے فیوڈل اور ما قبل فیوڈل سماج ہیں جو دشمن کو خود سے پڑا درد پہنچانے کو اکساتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں کس کا دکھ بڑا ہے ۔ شاید قاضی کا کہ بڑھاپے میں صرف بیماریوں کے خلاف مدافعت کم نہیں ہوتی دکھ کے خلاف بھی۔ اور وہ بھی جب بچپن کی نسبت بڑھاپے میں دکھ کا شعور بھرپور ہوتا ہے۔
سنجیدگی،سنگینی کی اس نشست میں اُس نے بس اتنا کہا کہ میری تو خواہش تھی کہ وہ دوائیوں سے انسانوں کی خدمت کرے مگر اُس نے انسانوں کی خدمت کی یہ راہ چنی، میں راضی بہ رضا۔آہ۔
میں موضوع اُس کے حوالے نہیں کرنے دینا چاہتا تھا ، بلکہ اسے اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا تھا۔با طن کو ہلا ڈالنے والی قاضی کی شاعری کی تازہ کتا ب چھپی تھی۔ اس پہ وزیراعلیٰ مالک بلوچ کی طرف سے ’’ مالی امداد سے چھپنے کا فقرہ‘‘ لکھا تھا۔ قاضی نے مدافعتی بات چھیڑ دی۔ میں نے اُسے یہ کہہ کر روک دیا : ’’ قاضی تم کئی چیزوں سے بالاتر ہو۔ چھوٹی چیزوں پر صفائیاں دیتے رہنا ہم جیسے چھوٹے لوگوں کا کام ہے‘‘۔
کسی کے پُر سے پر ہونے والی گفتگو سے زیادہ بکواس ، روایتی اور ہر طرح کی جدت و اضافہ و ترمیم سے مبر اگفتگو ممکن ہی نہیں ۔ irreversible اور اعصاب کو شل کر ڈالنے والے نقصان پہ مالک سے کیا لفاظی کی جاسکتی ہے ۔ فرارڈھونڈنے ،میں قاضی کے داماد رستم کے ننھے سہراب کو گود میں لیے کتاب، شاعری کے استفسار و معلومات کی جگالی کرتے ،سپیس اور ٹائم کے باہمی تعلق کوگہرائی تک محسوس کرتے،بالآخر ٹوٹے کمر کے بڈھے کے دُکھستان سے نکل پڑا۔ٹائم سپیس کا بھٹہ بٹھا دیتا ہے۔ عام حالات ہوتے تو میں کہہ رہا ہوتا :
حیف درچشم زدن صحبتِ یار آخر شد
روئے گُل سیر نہ دیدم کہ بہار آخر شد
مگر آج میرے پاس لفظ نہ تھے، اور وہ بھرا بیٹھا تھا۔ زبان اور آنکھوں سے چھلک چھلک جاتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ کور بہادر قبرستان کی دنیا میں بالکل بھی نہیں رہے گا۔ اُسے اپنی آنکھ ، جگر اور اکلوتا بیٹابھولے گا بھی نہیں مگر وہ اُس کے ساتھ مرے گا بھی نہیں۔ زندہ شاعر ز ندگی کی باتیں کرے گا، ز ندگی کو باشرف اور شریف بنانے کی باتیں، روشن تر کرنے کی باتیں، سہل تر بنانے کی باتیں ۔ مگر اپنے کسی قریبی آدمی کے ساتھ اُسے رونے کی خواہش توہورہی تھی، سانحہ کی باتیں، اندھیر برپا ہونے والی ساعت کی باتیں۔۔۔۔۔۔ ہم بھاگ کھڑے ہوئے اور قاضی کا اپنے اکلوتے اور نوجوان لخت جگر کے لیے کہا ہوا مرثیہ ہمارا پیچھا کر رہاتھا :
برے برے ابیتک باں
زہیر کہ جنت مناں
سُچنت دل و جگر منی
کفاں میں ترانگا تئی
تو گیرہ کایئے بے کساس
تادل منی حیال کنت
وتاگوں گپ و گال کنت
او چو گُشیت
’’ ترا غریبیں شوانگے مناں خدا نل ئے بکنت‘‘

Check Also

April-17 front small title

انگئی؛ مزاحمتی نسوانی چیخ ۔۔۔ بارکوال میاخیل

جس طرح ایک استحصالی طرز حکومت میں برسراقتدار طبقہ اپنے عوام کا استحصال کرتا ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *