Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سوبھو گیان چند انڑیں ۔۔۔ واحد بخش بنگلانڑیں/ننگر چنا

سوبھو گیان چند انڑیں ۔۔۔ واحد بخش بنگلانڑیں/ننگر چنا

میں ہاری ورکر کی حیثیت میں سو بھو گیا نچندانڑیں کو سلام پیش کرتا ہوں، اس کی جدوجہد کو ،اور اس بہادر انسان کو جس نے تمام عمر ہاریوں اور محنت کشوں کے لیے آخری گھڑی تک مبارزہ کیا۔
1930ء میں سندھ ہاری کمیٹی کی بنیاد ڈالی گئی ۔ بنیاد گزاروں میں کامریڈ عبدالقادر ، جی ایم سید، کامریڈ سو بھو گیا نچندانڑیں ، شیخ عبدالمجید سندھی ، جیٹھا مل پر سرام ، ڈاکٹر ہا سا نند، جمال الدین بخاری ، جمشید مہتا، قاضی فیض محمد اور کامریڈ حیدر بخش جتوئی شامل تھے۔
کامریڈ سوبھو1933 ء تا 1945 ء سندھ ہاری کمیٹی کی سکھر بیراج کی زمینیں بے پر زمین ہاریوں میں تقسیم کرو، اناج کی برابر تقسیم ، کپڑے کے راشن کارڈ کی بلیک پر دستیابی اور اس کا جاگیرداروں ، وڈیروں کے حامیوں کو ملنا ، ایسے مسائل کے خلاف کی گئی جدوجہد میں سرگرم رہا۔ اسی زمانہ میں سندھ ہاری کمیٹی کے ’’ ہاری حقدار ‘‘ اخبار کے جاری ہونے سے سندھ کے جاگیردارں میں کھلبلی مچ گئی۔ کامریڈ سوبھو گیا نچندانڑیں1945 ء میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے اور ان کے سیاسی اساتذہ میں عظیم انقلابی کامریڈ پنا لال داس گپتا شامل تھے، جنہوں نے بنگال رہائش کے دوران کامریڈ سوبھو کی سیاسی تربیت کی۔
جب کامریڈ سوبھو 1941 ء میں بنگال سے کراچی واپس آئے تو طلبا کے لیڈر بن کر ابھرے اور ٗ ہندوستان چھوڑدوٗ تحریک میں سر گرم ہوئے۔ انہوں نے بعد میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکیل بن کر بھی پسماندہ طبقات کے لیے جدوجہد کرتے رہے ۔ کامریڈ سوبھو گیا نچندانڑیں بہت بڑے دانشور ، قانون دان ، مارکسزم لیننزم کے ماہر اور کمیونزم کے استاد مانے جاتے ہیں۔
دنیا کی پہلی کسان تحریک جھوک سے شروع ہوئی اور اس تحریک کے سرخیل شاہ عنایت کو دوران جدوجہد 1718 ء میں شہید کیا گیا۔ اس تحریک کا نعرہ تھا:’ جو کھیڑے وہ کھا ئے ٗ۔ اس کے بعد جدید دور میں سندھی ہاری کمیٹی نے کسان جدوجہد کو جاری رکھا ۔ 22 جون 1947 ء کو جھڈو میں سندھ ہاری کمیٹی کی طرف سے تھرپارکر کی ضلعی کانفرنس تھی ۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی زیر صدارت اس کانفرنس میں ضلع بھر کے تمام ہاری ورکرز شامل تھے۔ جھڈو کے قریب ایک گاؤں میں زمیندار چودھر ی سیف اللہ نے اپنے کارندوں کے ساتھ ایک کھلیان پر چڑھائی کر دی اور زبردستی اناج اٹھانے لگے۔ کھلیان کی نگہبانی پر موجود عورت نے پہلے تو انہیں منع کیا اور بعد میں مزاحمت کی۔ زمیندار کے لوگوں نے اس عورت پر گولیا ں چلائیں ۔ سندھ ہاری کمیٹی کی رکن خاتون اب سندھ ہاری کمیٹی کے شہید کا رتبہ پا چکی تھی ۔ اس خاتون کا نام بختاور لاشاری تھا۔ اس دور میں کامریڈ سو بھو گیا نچندانڑیں بھی ہاری ہلچل کو مضبوط کرنے میں شامل تھے ۔ 1945-46 ء میں سندھ ہاری کمیٹی نے پالیمانی الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے اور کامریڈ حیدر بخش جتو ئی ایک بڑے جاگیردار نواب سلطان احمد چانڈیو کے مقابلہ میں لاڑکانہ قمبر سے میدان میں آ گئے ۔ 4 مارچ 1950 ء کے دن سندھ ہاری کمیٹی نے کراچی میں سندھ اسمبلی کے سامنے ہاری مطالبات کے لیے ، ٹیننسی ایکٹ بحال کرانے کے لیے دھرنا دینے کا اعلان کیا اور بلآخر ٹیننسی بل منظور کروالیا ۔ اس تحریک کا دائرہ پورے سندھ میں پھیل گیا اور اس کے نتیجہ میں بے زمین کسانوں کو زمین کی الاٹمنٹ ہوئی۔ اس تحریک میں ’’ جو کھیڑے وہ کھائے ‘‘ کے جلی حروف میں پوسٹر شایع ہو کر شہر شہر گاؤں گاؤں پہنچے اور ایک پریس کانفرنس میں ہاری ورکروں کو کراچی کے جلسہ میں پہنچنے کی اپیل کی گئی۔
کراچی کے مذکورہ جلسہ میں سندھ بھر سے مرد و خواتین کسان ورکروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان ورکروں کے لئے لیاری میں ایک بڑا کیمپ لگایا گیا اور اس میں ہر ایک ضلع کے لیے الگ الگ خیمے لگائے گئے۔ اس جلسہ کی قیادت کا مریڈ حیدر بخش جتوئی اور کامریڈ عبدالقادر نے کی جبکہ تمام تر انتظامات میں کامریڈ سو بھو گیا نچندانڑیں اور کامریڈ محمودالحق عثمانی پیش پیش تھے۔ اگلے دن لیاری سے ایک عظیم الشان جلوس نکالا گیا، جس کی قیادت کسان مرد و خواتین نے کی ۔ پورے کراچی میں مظاہرے کیے گئے، کسان ہاتھوں میں سرخ پرچم اور بینر اٹھائے ، ہاری گیتوں کی گونج میں شام کو جلسہ گاہ جمع ہوئے اور یوں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا ۔
جب کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کی گئی تو کامریڈ سوبھو انڈرگراؤنڈ رہے، لیکن اس کے باوجود وہ سندھ ہاری کمیٹی میں سرگرم رہے۔ ان سیاسی سرگرمیوں کے دوران وہ جیل بھی جاتے رہے۔ 1943-45 ء میں جب حیدرآباد جیل میں تھے تو وہاں سوشلزم اور کمیونزم پر سٹڈی سرکل چلاتے رہے ۔1955 ء سے 1959 ء تک کامریڈ سوبھو کو مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ انہیں شاہی قلعہ کے اذیتی کیمپ میں بھی نظر بند کیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں تین ماہ تک قید میں رہے۔ اسی عرصہ میں پہلی مرتبہ کامریڈ پر ہندو ہونے کا لیبل لگایا گیا۔باوجود اس تنگ نظری اور تعصب پرستی کے کامریڈ سوبھو نے ہمت جاری رکھی اور پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے۔
1954 ء میں کمیونسٹ پارٹی پر بندش لگائی گئی تو سوبھو گیا نچندانڑیں انڈر گراونڈ کام کرتے رہے اور جب 1960 ء تا 1945 ء تک پارٹی کے اندر چین نواز اور روس نواز بنیاودں پر دھڑے بندی ہوئی تو کامریڈ سوبھو نے پل کا کردار ادا کیا۔ کامریڈ سوبھو ہمیشہ آمریت کے خلاف اور عوام کی جمہوری جدوجہد میں شانہ بشانہ ساتھ رہے۔کامریڈ کہتے تھے کہ چین اور روس کے چکر میں پارٹی کو بہت بھاری نقصان ہوا۔ کامریڈ خاموش ضرور رہے لیکن سوشلزم و کمیونزم کے نظریہ پر سختی سے قائم رہے۔ 1987 ء میں کمیونسٹ پارٹی میں ایک بار پھر توڑ پھوڑ ہوئی تو کامریڈ سوبھو نے بہت کوشش کی کہ پارٹی کے ذیلی فرنٹ ٹوٹنے نہ پائیں لیکن سندھ ہاری کمیٹی ‘طلبا تحریک اور ٹریڈ یونین بچ نہ پائے ۔ کامریڈ سوبھو نے بہت تگ و دو کی کہ ہاریوں میں ایک جٹ ہو کر کام کیا جائے ۔ اس پر کامریڈ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ، لیکن بسیار کوشش کے باوجود ہاری کمیٹی یکجا نہ ہو سکی ۔ پارٹی 1989-90 ء میں ایک مرتبہ پھر گروہ بندی کا شکار ہوئی ۔ لیکن کامریڈ سوبھو کے دل کے دروازے ہر ایک کمیونسٹ کے لیے کھلے رہے۔
ایک مرتبہ کامریڈ سوبھو کراچی میں امام علی نازش کا انٹرویو کرنے آئے تو میں بھی وہاں ان کے ساتھ تھا ۔ کامریڈ نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ کامریڈ بنگلانڑیں جیکب آبادکے ہیں، جہاں سے ایک سندھ ہاری کے رکن محمد امین کھوسو نے ، جاگیردار سردار شیر محمد خاں بجارانڑیں کو شکست دی تھی ۔
کامریڈ سوبھو ایشیا کے بڑے کامریڈ تھے، ہیں اور رہیں گے ۔ وہ زندگی کے آخر ین لمحات تک اپنے نظریات پر قائم رہے۔ انہوں نے ایک بڑی لائبریری بنائی تھی جو اپنے بیٹے ڈاکٹر کنعیا لال کے بیمار ہونے پر بیچ دی اور اپنے بیٹے کا علاج کروایا ، لیکن شومئی قسمت کہ ان کا بیٹا جانبر نہ ہو سکا۔
سندھی مہاجر فسادات اور تقسیم سندھ کے سوال پر سوبھو گیا نچندانڑیں نے ’’ تاریخ کے فراموش کردہ اوراق ‘‘ نامی اپنی کتاب میں لکھا ہے ، ’’ سندھ کے حقیقی ورثا اپنا حق سندھ کے چپے چپے پر دہراتے رہیں گے اور اس بات کو کبھی تسلیم نہ کریں گے کہ کسی گاؤں یا شہر میں غیر سندھیوں کی اکثریت ہو گئی ہے، لہذا وہ علاقہ یا شہر انہیں دے دیا جائے ۔ سندھ نے فاتحین کی غلامی کبھی قبول نہیں کی اور بڑی بات یہ ہے کہ یہ فاتح بھی نہیں ہیں ۔انہیں تو ہم نے دعوت دے کر بلایا تھااور ان کے حقوق صرف دعوت میں آئے لوگوں جتنے ہی ہیں ۔ یہ سندھ کی تقسیم کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ‘‘
کامریڈ سوبھو آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہے، لیکن ان کا نظریہ ، ان کی سوچ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی ۔

Check Also

jan-17-front-small-title

شاہ لطیف،صوفی نہیں، یوٹوپیائی فلاسفر ۔۔۔ شاہ محمد مری

اچھے لوگ انہیں سمجھاتے رہے کہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ کسی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *