Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت کانفرنس ۔۔۔ عابد میر

سنگت کانفرنس ۔۔۔ عابد میر

قافلہ جڑ جاتا ہے، اس کی حیات مگر تسلسل چاہتی ہے۔ اور تسلسل صرف اسی کو ملتا ہے، جس کی بنیاد/جڑیں موجود ہوں۔ 1920ء کی انجمنِ اتحادِ بلوچاں میں اپنی جڑیں تلاش کرنے والے سنگت اکیڈمی کے قافلے کو دوام اس لیے بھی حاصل ہے کہ اس کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ ان بنیادوں کو مسلسل مستحکم رکھنے کے لیے یہ کارواں اپنے تسلسل کو ،مسلسل مکالمے اور اَن تھک جدوجہد سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’پوہ وزانت‘ کے نام سے ہر ماہ ہونے والی فکری نشستوں کا سلسلہ اس تسلسل کی کڑی ہے۔ اس کے بعد ہونے والی کانفرنسیں، سیمینار، لیکچرز، مکالمے، مباحثے ، کتابیں اس کڑی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ مئی میں ہونے والی کانفرنس بھی اس سلسلے کا حصہ تھی، جو ہر لحاظ سے بھرپور بھی تھی، جان دار بھی، شان دار بھی، حیات بخش بھی۔
سنگت اکیڈمی کے اکابرین ، اپنے بال سفید تجربات کے باوصف کسی قسم کی مہم جوئی سے اجتناب برتتے ہیں، اس لیے کسی قسم کی کوئی جلد بازی اختیار نہیں کی جاتی۔ مئی کی کانفرنس کے اہتمام کا خیال جنوری میں ہی طے پا چکا تھا۔ اس کے بعد کمیٹیاں، مقالوں کے لیے ناموں کی شارٹ لسٹنگ، رابطہ کاری اور دیگر اہتماموں کے ضمن میں بات چیت کا یہ سلسلہ مسلسل چار ماہ جاری رہا۔ بالآخر اپریل میں مرکزی و عمومی کمیٹی سے چند ساتھیوں کو معاملات کو حتمی صورت دینے کے لیے چنا گیا۔ اسے سنگت کانفرنس کی کمیٹی کا نام دیا گیا۔ اس کمیٹی کے اراکین پہ مشتمل پہلااجلاس 20 اپریل ،سوموار کی شام سنگت کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے شرکا میں شامل تھے؛ جیئند خان جمالدینی، عابد میر، ساجد بزدار، جاوید اختر، وحید زہیر، شاہ محمد مری اور سعید کرد۔
اجلاس کا ایجنڈہ تھا ،ماہ مئی میں ہونے والی سنگت کانفرنس کا انعقاد۔ اراکین کے مابین تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد جن نقاط پر اتفاق ہوا، اس کا خلاصہ یہ رہا؛
*۔۔۔سنگت کانفرنس کا انعقاد 17 مئی 2015، بہ روز اتوار کو ہو گا۔
*۔۔۔صدارت سنگت کے مرکزی سیکریٹری جنرل، جیئند خان جمالدینی کرے گا۔
*۔۔۔ کوئٹہ کا سیکریٹری جنرل ساجد نبی بزدار ،اکیڈمی کا تعارف پیش کرے گا۔
*۔۔۔ نظامت کی ذمہ داری سعید کرد اور ساتھیوں پر ہو گی۔
*۔۔۔ دو مرکزی مقالے پیش ہوں گے:
(الف) ’محنت کی تہذیب‘ کے موضوع پر وحید زہیر مقالہ پڑھے گا۔
(ب) بین الاقوامی ادب کے بلوچی میں تراجم کی ضرورت و اہمیت پہ شاہ محمدمری لکھے گا۔
*۔۔۔ اگلے حصے میں حال ہی میں وفات پا جانے والے اہلِ علم و قلم پہ مختصرمضامین پڑھے جائیں گے:
-1 سلطان نعیم قیصرانی کی ادبی زندگی پہ ساجد بزدار اور سیاست پہ جیئند خان بات کریں گے۔
2۔ غوث بخش صابر پہ آغا گل مضمون پڑھے گا۔
3۔ عبدالصمد امیر ی پہ پروفیسر رحیم مہر لکھ کر لائے گا۔
*۔۔۔ سنگت کے مرحوم سینئر ساتھی، پروفیسر عزیز مینگل کی پینٹنگز تقریبات کا حصہ ہوں گی۔
*۔۔۔ دوسرے (شعری) حصے میں بلوچستان کی اہم زبانوں کے چار نمائندہ شاعروں سے بات چیت ہو گی اور شاعری سنی جائے گی۔
*۔۔۔بلوچستان کی روایتی موسیقی کو تقریبات کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
*۔۔۔ مقام، بلوچی اکیڈمی ہوگا۔
*۔۔۔ اوقاتِ کار صبح 10تا شام6 بجے تک ہوں گے۔ جس میں کتابوں کی نمائش صبح سے شام تک جاری رہے گی، تقریبات کا آغاز سہ پہر3 بجے ہو گا۔
*۔۔۔ انتظامی ذمہ داریاں جیئند خان کی سربراہی میں عابد میر اور کامریڈ کلیم انجام دیں گے۔
*۔۔۔ تمام متعلقہ تحریریں مجوزہ تاریخ سے ایک ہفتہ قبل تحریری صورت میں جمع ہوں گی، اور تقریبات کو حتمی شکل دینے کے لیے 10 مئی کوہونے والے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش ہوں گی۔
اگلا اجلاس 10مئی کو طے پایا، جس میں مقالہ نگاروں سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنے لکھے ہوئے مقالے لے آئیں یا کمیٹی کے حوالے کریں تاکہ اجلاس میں ان پر غور کیا جائے، بحث و مباحثہ ہو سکے، اور شاید کوئی نئی بات سامنے آ سکے۔ لیکن اس اجلاس میں صرف وحید زہیر اور جیئند خان کے مضامین پیش ہو سکے۔ جن پہ بحث کے بعد ان میں بعض ترامیم و اضافوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یوں اس اچھی روایت کی نسبت سے سننے والوں کو مزید پختہ اور مکمل تحریریں سننے کو ملیں۔ کاش کہ ہمارے سبھی لکھنے والے تنظیمی دائرہ کار کے سامنے اپنی تخلیقی انا کو سرنڈر کرنا سیکھ لیں، تو اس سے خود ان کی تخلیق اور قاری کس قدر مستفیدہوں گے۔
بہرکیف بعض مقالوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے اور بعض انتظامی معاملات کے حتمی شکل اختیار نہ کرنے کے باعث جلد بازی سے اجتناب کرتے ہوئے، تقریبات کو مزید ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا اور یوں نئی تاریخ 24مئی قرار پائی۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں آخری انتظامی اجلاس تقریب سے دوروز قبل22مئی بروز جمعہ کی شام طلب کیا۔ جہاں تمام امور کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اکیڈمی کے ہال کے لیے درخواست دے دی گئی، ہال کا جائزہ لے لیا گیا، بینر بناکر بلوچستان یونیورسٹی میں آویزاں کر دیا گیا( کہ یہیں سے تو ہمیں حقیقی قاری وناظر ملتا ہے!)، مقالہ نگاروں سے بات کی گئی، ساتھ ہی فوک میوزک کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں پشتو ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر برکت شاہ کا تعاون بطورِ خاص حاصل رہا۔ انہوں نے سریندا بجانے والے خاوند بخش بگٹی کو اس تقریب کے لیے بطورِ خاص بلوانے کی حامی بھر لی۔ کتاب میلے کے لیے کتابوں اور مقام کو تعین کر لیا گیا۔ کاغذی دعوت ناموں کی بجائے طے پایا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، فیس بک، سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس کے ذریعے ہی دعوتِ عام دی جائے۔ اگلا تمام دن اسی کی نذر ہوا۔
اتوار کی صبح کتابوں کے گرد پروانوں کی چہل پہل دن بھر جاری رہی؛ کبھی کم تو کبھی زیادہ۔ کبھی ایسے لمحے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی اور کچھ لمحوں میں کتابوں کے نگران نوجوان ’اُبسائیاں ‘لے رہے ہوتے۔اسی دوران تقریبات کے دیگر انتظامات کا سلسلہ جاری رہا۔ کرسیوں کی ترتیب، بینر کی جگہ، پینٹنگز کا انتظام، ساؤنڈ سسٹم کی بحالی وغیرہ۔ اور اس میں جونیئر سینئر کی کسی نام نہاد روایت سے ہٹ کر سنگت کے سبھی ساتھی مل جل کر حصہ لیتے رہے۔ ٹیبل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھاتے ہوئے، وہ لمحے بھی دیکھنے میں آئے کہ اس کے کونے پہ کوئی بھیگتی مسوں کو نوجوان ہے تو دوسری جانب سفید بال، ناک پہ چشمہ ٹکائے کوئی بزرگ۔ اور دونوں کسی قسم کی روا روی کے بغیر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائے جا رہے ہیں، اپنا کام نمٹائے جا رہے ہیں۔
پچاس سے ساٹھ شرکا کی توقع کے ساتھ ہم نے گن کر احتیاطاً ستر کرسیاں ہال میں لگا دیں اور اپنے تئیں مطمئن ہو گئے۔ اطمینان کے اس غبارے میں پہلی سوئی تقریب کی ابتدا سے قبل ہی چبھ گئی، جب شرکا زیادہ اور کرسیاں کم پڑ گئیں۔ لابی میں رکھے دس بارہ، صوفے لا کر اگلی نشست اور اسٹیج کی مرکزی نشستوں سے کرسیاں ہٹا کر ہال میں ڈال دیں۔ یوں دس، پندرہ مزید شرکا کے بیٹھنے کی جگہ بنا لی گئی۔مگرپھر جوں جوں تقریب شروع ہوتی گئی، آگے بڑھتی گئی، ساری توقعات، امیدیں، انتظامات، اندازے ، ڈھیر ہوتے چلے گئے۔ ہر دس منٹ بعد پانچ شرکا کااضافہ ہو جاتا ۔ ہم کرسیاں ڈھوتے جاتے؛حتیٰ کہ اکیڈمی کے تمام دفاتر کی کرسیاں تمام ہو گئیں، مجبوراً باقی شرکا کو کھڑے رہ کر تقریب سے لطف اندوز ہونا پڑا۔
تقریب کا آغاز سنگت پوہ و زانت کے انچارج سعید کرد نے کیا۔ اس نے صدارت کے لیے سنگت کے مرکزی سیکریٹری جنرل جیئند خان جمالدینی اور ان کی ہم راہی کے لیے سنگت کے سینئر ممبر سرور آغا کو اسٹیج پہ آنے کی دعوت دی۔اور پھر شروع ہوا سلسلہ سیکریٹری رپورٹس کا۔ سب سے پہلے کوئٹہ کا سیکریٹری ساجد بزدار اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے آیا۔ اس نے آغاز سنگت کے مختصر تعارف سے لیا۔ جتنی اچھی، مختصر اور جامع اس کی لکھی ہوئی رپورٹ تھی، اتنا ہی اچھا، مختصر اور جامع اس نے سنگت کا تعارف پیش کیا۔ اس نے سنگت کو خرد افروزقافلے کا حصہ بتایا اور اس کے تسلسل کو قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پھر اس نے سنگت کوئٹہ کی گذشتہ ڈیڑھ برس کی کارکردگی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ جس میں ماہانہ ہونے والی پوہ زانت کی نشستوں کے علاوہ گل خان نصیر کے سلسلے کی خصوصی نشستوں اور تقریبات کا تذکرہ بھی تھاتو ’سنگت تراجم‘ کا تعارف بھی۔ اپنی رپورٹ پڑھنے کے بعد اس نے سنگت خاران کے ساتھی ضیا شفیع کو دعوت دی کہ وہ اپنی کارکردگی رپورٹ بتائے۔ ضیا شفیع کی رپورٹ بلوچی میں لکھی ہوئی تھی۔ جس میں اس دوران ہونے والی پوہ و زانت کی نشستوں سمیت گل خان کے حوالے سے منعقدہ خصوصی نشستوں کا تذکرہ بھی شامل تھا۔ اس نے ہمیں یقین دلایا کہ سنگت کے ساتھی خاران میں اس قافلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے جاتے ہوئے سنگت اوستہ محمد کے ساتھی خالد میر کو دعوت دی۔ خالد میر نے سرائیکی میں حاضرین کو بتایا کہ سنگت اوستہ محمد میں غیر فعالیت کا شکار ضرورہے، لیکن اس کا وجودبہر صورت موجود ہے۔ اس نے اس دوران ہونے والی چند نشستوں اور ایک مرکزی تقریب کا احوال بتایا، جس میں سنگت کوئٹہ کا ڈپٹی سیکریٹری جاوید اختر خصوصی طور پر شریک ہوا
۔ سنگت سیکریٹری رپورٹ کا سلسلہ تھما، تو ’بے ضابطہ سٹیج سیکریٹری‘ پھر نمودارہوا اور ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو کو دعوت دی کہ وہ کلامِ ساحر سے حاضرین کو محظوظ کرے اور اس بہانے اُس فکری عزم کو دہرائے، جس سے سنگت کا تمام ادارہ وابستہ ہے۔ ڈاکٹر عطااللہ بزنجو نے ساحر کی مشہورِ زمانہ نظم ’ وہ صبح کبھی تو آئے گی‘ ، اپنے مخصوص ’بزنجوانہ‘ تلفظ اور لہجے کے ساتھ پڑھی۔۔۔تلفظ اور لہجے کو روندتے ہوئے مگر بھرپور خلوص کے ساتھ پڑھی اور بھرپور داد بھی لی۔ تبھی انکشاف ہوا کہ محفل میں اس نظم کوکسی زمانے میں ترنم میں پڑھنے والا کامریڈ فقیر موجود ہے، سو فرمائش ہوئی اور کامریڈ فقیر اپنی جوانی دُہرانے کو بلا تامل، بنا چون و چراں، بغیر کسی چونکہ چنانچہ کے تیار۔ خوب گایا، خوب گنگنایا، جی بھر کے محفل کو گرمایا۔ سبھی اس کے ساتھ گنگناتے بھی رہے اور داد بھی دیتے رہے۔
اب محفل مرکزی حصے کی طرف لوٹی۔ کیوں کہ باضابطہ اسٹیج سیکریٹری کی روایت کو توڑنے کا عہد کر لیا گیا تھا، سو اب ساجد بزدار آیا اور اس نے وحید زہیر کو مضمون پڑھنے کی دعوت دی۔ وحید زہیر مضمون پڑھے اور محفل اپنے لبوں اور ہاتھوں کو داد دینے سے روک پائے، ایسا ممکن نہیں۔ سو لگ بھگ سبھی مقررین کی داد کا اچھا خاصا کوٹہ وہ اپنے حصے میں لے جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے مقررین اسے حسرت سے تکتے رہ جاتے ہیں۔ اس کے مضمون کا عنوان تھا؛ ’محنت کی تہذیب‘۔ جس نے اس مضمون کا لطف اٹھانا ہو، وہ سنگت پڑھ لے ، اس لیے کہ اس میں سے کوئی ایک آدھ جملہ نقل کیا ہی نہیں جا سکتا۔۔۔پورا مضمون توجہ طلب ہے، اور داد طلب بھی۔
پھر اپنا شاہ محمدمری آیا۔ وہ عالمی ادب کے بلوچی میں تراجم کی اہمیت و ضرورت پہ بولنے آیا۔ حسبِ معمول اپنے سپاٹ لہجے میں اپنی بھرپور علمی تحریر کااُس نے خوب زبانی استحصال کیا۔ جتنا خوبصورت موضوع تھا، جتنی اعلیٰ تحریر تھی، اتنی ہی بے رنگ پریذنٹیشن تھی۔ گویا فیشن کے کپڑوں کا اشتہار کسی اناڑی عورت سے کروایا جائے۔باید ہے کہ شاہ محمد مری کی تحریریں ضیا محی الدین جیسے کسی باذوق مرد یا کسی خوش گلو خاتون سے پڑھوائی جائیں، ہال جھوم جھوم نہ اٹھے تو میں جرمانہ ۔ اب جو توجہ اور تالیاں ملیں ، وہ پریذنٹیشن کے نمبر مائنس کر کے،اس کے نام اور کلام کے باعث تھیں؛ اور تب بھی ہال کی گونج کچھ کم نہ تھی۔
اگلا حصہ وفیات کے سلسلے میں مضامین کا تھا۔ پہلا (اور دوسرا )مضمون سلطان نعیم قیصرانڑیں پہ بالترتیب ساجد بزدار اور جیئند خان نے پڑھا۔ ایک نے اس کی ادبی زندگی کو یاد کیا تودوسرے نے اس سیاسی و عملی جدوجہد پہ بات کی۔ دوسرا مضمون آغا گل نے غوث بخش صابر پہ پڑھا، جس کی دلچسپی کا اندازہ وقتاً فوقتاً حاضرین کی تالیوں سے ہوتا رہا۔ اس سلسلے کا آخری مضمون پروفیسر رحیم مہر نے عبدالصمد امیری پہ لکھا، جو اس کی غیر متوقع غیر موجودگی کے باعث اس کے شاگردِ عزیز بالاچ حمید نے پڑھا۔ سادہ اور سلیس بلوچی میں لکھے اس سادہ مضمون کو سب نے سراہا۔
سنگت نے روایت شکنی کی اپنی ’روایت‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار باضابطہ مشاعرے کی بجائے ہر زبان سے ایک منتخب شاعر کو سننے کو فیصلہ کیا۔ اور انھیں بھی الگ تھلگ سننے کی بجائے ہر مقالے کے بعد ایک شاعر کوبلا لیا گیا۔ یوں شاعر بھی ’نمٹا’ لیے گئے، اور حاضرین مقالوں کے تسلسل سے بے زار ہونے سے بھی محفوظ رہے بلکہ محظوظ ہوتے رہے۔ اس ضمن میں بلوچی کی نمائندگی قاضی شیزاد نے کی، بلکہ اس نے ،’بلوچی میری ایک اور براہوی دوسری آنکھ ہے‘ جیسا جذباتی بیان دے کر براہوی کی ایک نظم سنانے کی گنجائش بھی باآسانی نکال لی۔ جو ذرا سی کسر رہ گئی تھی، وہ سازندوں کا ساتھ دے کر نبھائی۔ اردو کی نمائندگی پروفیسر بیرم غوری نے کی۔براہوی کی ذمہ داری ڈاکٹر منیر رئیسانی نے نبھائی اور بہ حسن وخوبی نبھائی۔ پشتو کی ترجمانی سنگت کے نوجوان ساتھی، کلا خان خروٹی نے بخوبی نبھائی۔
اب کی بار سنگت کی تقریب میں ایک نیا ’سیگمنٹ‘ فوک موسیقی تھا۔ ہم نے سریندا نواز کے لیے برکت شاہ سے گزارش کی تھی، مگر پھر وہیں معلوم ہوا کہ ہمارے پناہ بلوچ کے مری ڈرائیورنڑ بجانا بھی جانتے ہیں۔ سو، سنگت نے ’مری ،بگٹی‘ کا میلاپ کروا دیا۔ تقریب کا آغاز اور اختتام ڈیرہ بگٹی کے خاوند بخش بگٹی کے سریندا سے ہوا۔جب کہ بیچ میں ہوران مری اور ان کے ’ہم نوا‘ نے نڑ سُر بھی سنایا۔ تقریب کا یہ حصہ اس قدر بھرپور تھا کہ اس نے باقی ساری ’کثافت‘ کو اپنے اندر سمو لیا۔ مری، بگٹی سُر جب بجنا شروع ہوتا تو حاضرین بالخصوص نوجوانوں کے منہ اور ہاتھ داد دیے بِنا نہ رہ پاتے۔نام نہاد تہذیب اور تکلف کا جھنجھٹ نہ ہوتا تو نوجوانوں نے کرسیاں چھوڑ کرباقاعدہ ’چاپ‘ شروع کر دینا تھا۔ ایسی اخلاقیات کو حبیب نالے میں نہ پھینک دیاجائے جو انسان کو فطری مسرت سے لطف اندوز ہونے سے محروم کر دے!!
سنگت کی ایک اور ’رحجان سازی‘ یہ رہی کہ تقریب کا کوئی باضابطہ منتظم (اسٹیج سیکریٹری) نہ تھا، بلکہ ہر تقریر کرنے والا، اپنے بعد آنے والے کودعوت دے جاتا۔۔۔وہ بھی اپنی ماں بولی میں۔ یوں ہم نے تقریب میں بلوچو ں کی لگ بھگ سبھی مادری قومی زبانو ں کا لطف لیا۔ کاش کہ مستقبل میں ہم اپنی تمام تقریبات اپنی مادری قومی زبانوں میں کر سکیں۔ وہی ہمارا شان دار مستقبل ہو گا۔۔۔(اور اسی مستقبل کے لیے تو ساری جنگ ہے!!!)
تقریب کی توانائی دیکھ کر حاضرین میں سے سلطان نعیم قیصرانڑیں کے فرزند اور ان کے ایک پرانے کامریڈ، رمضان میمن سے بھی رہا نہ گیا، اور ہ بھی محض اظہارِ تشکر کے لیے خصوصی اجازت لے کر گھڑی بھر کوسٹیج پر آئے۔ سلیقہ مند اور سلجھے ہوئے حاضرین کی کثیر تعداد دیکھ کر تقریر کے شائق بعض دیگر احباب بھی اسٹیج اور مائیک کی جانب للچاتی نظروں سے دیکھتے اور مچلتے رہے مگر سنگت کے طے شدہ تقریب کے آہنی حصار نے حاضرین کو اس ذہنی کوفت اور فکری بدہضمی سے بچا لیا۔
برکت شاہ اور پناہ بلوچ نے البتہ نہ صرف فن کاروں بلکہ اس لوک موسیقی کے مختصر پس منظر سے بھی حاضرین کو آشنائی دی۔ آخر ی اور اہم ترین حصہ کانفرنس کی قرارداروں کا تھا؛ جسے سنگت کے سینئر ساتھیوں نے نہایت سخت ، مدلل ، مفصل اور مسلسل مباحثے کے بعد تحریر کیا تھا۔ سنگت کے نئے ساتھی خیر جان نے یہ قرار دادیں پڑھیں اور حاضرین سے اس کی منظوری لی، اور بھرپور طور پر لی۔ جہاں جہاں مروتاً حاضرین کی ’منظور ہے‘ کی آواز کم ہو جاتی، وہ ہائی سکول کے کسی سخت گیر ہیڈ ماسٹر کی طرح ٹوکتا؛ ’آپ لوگوں کی آواز نہیں آ رہی، زور سے بولو۔‘ یوں پورا ہال ’منظور ہے‘ کی لَے سے گونج اٹھتا، اسی گونج میں تمام قراردادیں منظور کر لی گئیں۔ ذیل میں ان قراردادوں کا متن درج ہے؛
۔ہم بلوچستان میں جاری آپریشن و جارحیت میں حالیہ تیزی اوربے گناہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں۔
۔انسانی حقوق کی کارکن سبین محمود کے قتل اور سانحہ صفوراں کی مذمت کرتے ہیں۔
۔ہم سمجھتے ہیں کہ ریکوڈک، سیندک، گوادر شاہراہ و دیگر تمام ثانوی معاملات ہیں، بلوچستان کا اصل معاملہ سیاسی ہے، متحارب فریقین کی رضامندی سے اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
۔ اندرونِ بلوچستان تعلیمی اداروں کی بندش اور اس ضمن میں حکومتی بے حسی اور نالائقی کی مذمت کی جاتی ہے۔
۔تمام مادری قومی زبانوں میں کتب کے تراجم، اشاعت ، طباعت اور ترسیل کو سرکاری سطح پر ممکن بنایا جائے۔
۔موجودہ مخلوط قوم پرست حکومت کی جانب سے دو سال گزرنے کے باوجودمادری قومی زبانوں کو شاملِ نصاب کرنے کے وعدے پر سستی اور ناکامی کی مذمت کرتے ہوئے، اس وعدے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۔بلوچستان میں جاری قبائلی کشت و خون پہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیک دل انسانوں، اداروں، خیر خواہ شخصیات اوردانش ور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان تنازعات کے تصفیے میں کردار ادا کریں۔
۔روشن فکر دانش ور، انسان دوست ڈاکٹر امیر بخش،پشین کے ڈاکٹر عبدالغفار و دیگر اغواشدگان کے اغوا کی جاتی ہے۔
اس کے بعد مرکزی سیکریٹری جنرل جیئند خان جمالدینی کے اظہارِ تشکر اور اختتامی کلمات کے ساتھ محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ اٹھنے سے قبل حاضرین کی توجہ ہال میں چاروں طرف لگی عزیز مینگل مرحوم کی پینٹنگز کی جانب مبذول کروائی گئی، جس کے بعد تادیر حاضرین کی نظریں یہیں ٹک کر اور محو ہو کر رہ گئیں، حتیٰ کہ چائے ان کے انتظار میں ٹھنڈی ہوتی رہی۔
یوں روایت شکن اور رحجان ساز یہ تقریب ہم سب کو تروتازہ اور توانا کر کے ختم ہوئی۔ توقعات سے کہیں زیادہ بھرپور۔ میرے لیے اس کا حاصل ایک نوجوان کا یہ خوب صورت فقرہ تھا کہ ’’، کاش ایسی محبوب تقریب روزدیکھنا نصیب ہو!‘‘
(مگر پھر خیال آیا؛جسے روز دیکھنا نصیب ہو، وہ محبوب کیوں کر کہلائے!!)

Check Also

March-17 sangat front small title

سنگت پوہ زانت ۔۔۔ جاوید اختر

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ماہانہ پوہ زانت نشست کا انعقاد مورخہ 26فروری 2017پروفیشنل اکیڈمی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *