Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت پوہ و زانت ،جولائی2015 ۔۔۔ عابد میر

سنگت پوہ و زانت ،جولائی2015 ۔۔۔ عابد میر

سنگت پوہ وزانت کی ماہانہ نشست 12جولائی2015ء کی شام مرکزی سیکریٹری جنرل جیئند خان کی صدارت میں پروفیشنل اکیڈ می میں منعقد ہوئی۔ یہ نشست افطار پارٹی کی صورت منعقد کی گئی۔ نشست میں جن ساتھیوں نے شرکت کی ، ان کے نام یہ ہیں؛ جیئند خان جمالدینی، ساجد بزدار، جاوید اختر، شاہ محمود شکیب، سرور خان،ڈاکٹر منیر رئیسانی،آغا گل، افضل مراد، شاہ محمد مری، محسن بالاچ، عبداللہ دشتی، اکبر نوتیزئی، خیر جان بلوچ، اے ڈی بلوچ، مراد اسماعیل، کامریڈ کلیم، عابد میر۔ اس کے علاوہ سرگودھا سے آئے ہوئے نوجوان شاعر حماد نیازی مہمان شاعر کے بطور نشست میں شریک ہوئے۔
افضل مراد نے ڈرامے سے متعلق گفت گو کی۔اس نے ڈرامے کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے انسان سے اولین مکالمے کے ساتھ ہی ڈرامے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کی جدید تشکیل داستانوں کے بعد ہوئی، ہمارے ہاں بنیادی طور پر ڈرامہ ،داستان ہی کے ذریعے سے آیا۔ اس میں جو تحیر ، تجسس اور ڈرامائی عنصر ہے، وہ ابتدائی طور پر قدیم داستانوں کا ہی عطا کردہ ہے۔ اس کی اولین شکل تھیٹر کی صورت میں تھی۔بلوچستان میں ڈرامے کو کبھی سنجیدہ لیا ہی نہیں گیا۔اس لیے یہاں یہ سوال قابلِ بحث رہا ہی نہیں کہ ہمارے ہاں ڈرامہ سماجی تبدیلی کا محرک ہے یا نہیں۔
اس پہ گفت گو کرتے ہوئے شاہ محمد مری نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈرامہ کلاسک اور مائتھالوجی پہ انحصار کرتا ہے۔ ہماری ساری کلاسیکل داستانیں، اورشاعری، ڈرامائی عناصر سے پُر ہیں۔ جدید ڈرامہ تو چالیس، پچاس سال پہلے کی بات ہے، لیکن کلاسیک تو اس سے پہلے بھی ڈرامے سے بھرا پڑا تھا، اس کا تذکرہ بھی ہونا چاہیے۔جیئند خان نے کہا کہ انھوں نے صرف ڈرامے کی تخلیق اور ارتقا پہ بات کی ہے، ہمارے ہاں اس کی روایت کا تذکرہ نہیں ہوا۔ساجد بزدار نے بھی اس خیال کی تائید کی کہ بلوچ کلاسیک میں ڈرامے کی روایت نہایت مستحکم ہے، اس لیے اس کا تذکرہ ہمیں ضرور کر نا چاہیے۔آغا گل کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈرامہ شروع سے غیر حقیقی رہا ہے۔ اس لیے کہ اس کی جڑیں یہاں پر نہیں ہیں۔ ڈرامہ جب تک اپنے سماج سے جڑا ہو نہ ہو، بے معنی ہے۔ اس پہ افضل مراد نے کہا کہ ڈرامہ بنیادی طور پرجذبات سے کھیلنا ہے، لیکن میرا یقین ہے کہ ہمارا ڈرامہ ہمیشہ اپنی اقدار سے جڑا رہا ہے۔اے ڈی بلوچ نے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب تک اپنے کلچر سے جڑ کر ڈرامہ نہیں بنائیں گے، کامیاب نہیں ہوں گے، نہ ہی عوام میں اسے قبولیت ہو گی۔ ماضی کی روایات کو ساتھ لیتے ہوئے جدید ڈرامے سے جڑنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے جتنے کھیل اپنے کلچر کے حوالے سے پیش کیے، وہ ہٹ ہوئے، اور انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ کیوں کہ یہ کلچر اتنا امیر ہے کہ اس میں ایک کامیاب ڈرامے کے تمام عناصر موجود ہیں۔
نشست کے دوسرے حصے میں مہمان شاعرسے کلام سنا گیا۔ حماد نیازی ،سرگردھا یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے ہیں۔ اردو کے جدید شعرا کی فہرست میں نمایاں نام رکھتے ہیں۔ انھوں نے کلام آغاز کیا تو فرمائشیں بڑھتی چلی گئیں، کئی غزلیں، کئی نظمیں سنی گئیں۔ بھرپور داد دی گئی۔ چند شعر ہی دیکھ لیں؛
یقیں کی سلطنت تھی اور سلطانی ہماری
دمکتی تھی دعا کی لو سے پیشانی ہماری
ہمارے جسم کے ٹکڑے ہوئے روندے گئے ہم
مگر زندہ رہی آنکھوں میں حیرانی ہماری
مزید شاعری کا لطف لینا ہو، تو ’سنگت‘ کے پرچے میں تلاش کریں۔
حماد نے اس پذیرائی پر سنگت کا شکریہ ادا کیا،اورسنگت نے اس عزت افزائی پر اس کا۔ یوں جیئند خان کے صدارتی کلمات سے محفل تمام ہوئی۔
آموں کی مٹھاس کے ساتھ، باقی رسیلی باتیں افطار کے دستر خوان پر دیر گئے تک چلتی رہیں۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *