Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت پوہ زانت ۔۔۔ جاوید اختر

سنگت پوہ زانت ۔۔۔ جاوید اختر

مورخہ28 اگست2016 کو 5 بجے شام پروفیشنل اکیڈمی میں ماہانہ سنگت پوہ زانت کا انعقاد ہوا۔ اس نشست میں سامعین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔جس میں قلا خان عصمت خروٹی، رحمت اللہ بلوچ، ڈاکٹر شاہ محمد مری، جاوید اختر، آصف خان، ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو، فیصل احمد، عابدہ رحمن، سرور آغا ، داد شاہ، وحید زہیر، جئیند خان جمالدینی ، آزات جمالدینی، ایم قاسم بلوچ، ڈاکٹر جہانگیر ، نجیب اللہ، شاہ جہاں ، سید اکبر شاہ، نصیر الدین مینگل ، شکیب سنجرانڑیں اور عابد میر کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
قلا خان عصمت خروٹی نے نشست کا آغاز کرتے ہوئے8 اگست کے خونیں واقعے کے شہداء کے ناموں کی فہرست پڑھی، جو 55 ناموں پر مشتمل تھی۔ یاد رہے کہ یہ وہ شہداء ہیں جو سول ہسپتال کوئٹہ پر انسانیت سوز دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوئے تھے۔
اس کے بعد عطاء اللہ بزنجو نے اس واقعے میں متاثرہ زخمیوں کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کرنے والے ان ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات کو سراہا ، جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس انسان دشمن واقعے میں زخمی ہونے والے انسانوں کی مرہم پٹی اور ان کی دیکھ بھال کا عظیم فریضہ سرانجام دیا۔
بعد ازاں قلا خان عصمت خروٹی نے نیشنل ایکشن پلا ن پر ایک مضمون پڑھا۔ جس پر حکومت نے آج تک عملدرآمد نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد ساجد بزدار نے سانحہ کوئٹہ پر ایک مضمون پڑھا، جو انتہائی متاثر کن تھا اور اس مضمون میں مصنف نے جا بجا بلوچی شعر بھی شامل کیے تھے۔ بعد ازاں جئیند خان جمالدینی نے دہشت گردی پر ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔ جو دہشت گردی کی ابتدا، وجوہ اور اس کے ارتقا پر انتہائی معلوماتی تھا۔
سنگت پوہ زانت نشست میں کچھ قراردادیں بھی پیش کی گئیں ، جنہیں سامعین نے منظور کیا، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۔-1 اس وحشیا نہ انسانیت کش واقعے کی وجہ ریاست کی ناکامی اور نااہلی ہے جو شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔
۔-2 سول ہسپتال کا نام سانحے میں ہونے والے شہداء سے موسوم کیا جائے۔
۔-3 بلوچستان کی شاہراہوں اور اہم مقامات کے نام شہداء سے موسوم کیے جائیں۔
۔-4 ٹراما سینٹر کو فعال کیا جائے۔
۔-5 سنگت اکیڈمی آف سائنسز کے ہر ماہانہ پوہ زانت میں سال بھر اس واقعے کی مذمت اور اس میں شہید ہونے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔
۔-6 نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے۔
۔-7 ہم ڈاکٹروں اور دیگر شہریوں کے اغوا اور اغوا برائے تاوان والے مافیا کی مذمت کرتے ہیں۔
نشست کا خطبہ صدارت دیتے ہوئے ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا کہ ہم اس وحشت ناک دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور ہم دہشت گردی کے پس منظر میں کام کرنے والی سرقبیلوی و جاگیرداری فرسودہ سوچ کے خلاف ہیں۔ ہم اس سلسلے میں ترقی پسند جمہوری رویہ اختیار کریں گے۔ یہ شہداء ہمارے لوگ تھے۔ ہم ان کے وارث ہیں۔ انہیں ناجائز طور پر شہید کیا گیا ہے۔ یہ وکلاء جو اس دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں، سیاسی سوچ کے علم بردار تھے۔ جو جدت ، ترقی پسندی اور علم و دانش کا فروغ چاہتے تھے۔ وہ سرقبیلوی، جاگیرداری، رجعت پسندی، قدامت اور دقیانوسی کے خلاف سرگرم عمل تھے۔ ہم ان کے اس مشن کو آگے بڑھائیں گے ہمیں وقت کی آواز کے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا۔
یہ نشست تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *