Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » سنگت رسم الخط کمیٹی ۔۔۔ ڈاکٹر علی دوست بلوچ

سنگت رسم الخط کمیٹی ۔۔۔ ڈاکٹر علی دوست بلوچ

سنگت اکیڈمی آف سائنسز، بین الاقوامی کلاسک ادب کو کو بلوچی میں ترجمہ کروارہا ہے۔ جو کہ ایک بڑی اچھی پیش رفت ہے ۔بلوچی ادب کو اس کی بڑی ضرورت ہے۔
رسم الخط اور اِملا کی جو موجودہ صورت حال ہے اِن پر تھوڑی بہت نظر ثانی اگر ہوگی تو چھوٹے موٹے مسائل آہستہ آہستہ ختم ہوتے جائیں گے ۔ دیکھا جائے تو رسم الخط میں لکھوڑ(اِملا) اور بلوچی کے لہجوں کو ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یوں بھی رسم الخط اب عربی ہی ہمارے ہاں رائج ہے۔ اور اُسے تبدیل کرنا ذرا مشکل ہے۔ اسی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ رومن رسم الخط کے حق میں بھی ہیں لیکن عربی رسم الخط کے ہوالے سے اب تک جتنی کتابیں آچکی ہیں اور آرہی ہیں اُس اثاثے سے کسی طور صرف نظر نہیں کرسکتے۔
جہاں تک مکران ، رخشان اور سلیمانی لہجے ہیں۔ مکرانی اور رخشانی میں کوئی خاص فرق نہیں۔ چند ایک الفاظ یقیناًموجود ہیں۔ لیکن اُن کے لکھنے پڑھنے اور سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے۔
رہی بات سلیمانی لہجے کی۔ اُس میں یقیناًکئی ایک الفاظ اور چیزوں کے نام ہیں جو مکرانی اور رخشانی لہجے والے انہیں سمجھنے سے کسی حد تک قاصر ہیں۔ لیکن تھوڑی سی کوشش سے انہیں پڑھنے اور سمجھنے میں آسا نی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ وہ کوئی اور زبان نہیں بلکہ بلوچی ہی ہے ۔ بلکہ ساحلی علاقہ کی بلوچی کے بہت سارے الفاظ سلیمانی بلوچی میں رائج ہیں۔ سلیمانی بلوچی لکھی گئیں کتابیں رخشانی اور مکرانی لہجے والے بھی پڑھتے رہے ہیں۔ وہ بھی بلوچی ادب کا سرمایہ ہیں۔ رند و لاشار کے زمانے کی شاعری زیادہ تر سلیمانی میں ہی ہے۔ چونکہ رسم الخط کا کام ماہر لسانیات اور علمی و ادبی اداروں کا ہے۔ وہی اس کو بہتر انداز میں بہتر اور قابل قبول بنا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن متفقہ طور پر کچھ زیادہ سامنے نہیں آسکا ہے ۔ اب سنگت اکیڈمی نے بطور ادارہ اس حوالے سے ایک قدم اتھایا ہے۔ اس سے یقیناًبحث و مباحثے کی راہیں کھلیں گی۔
ٍ ابلاغ ، ذریعہ تعلیم کا نہ ہونا، میڈیا کا نہ ہونا اور دیگر مسائل نے یقیناًاس حوالے سے رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے تئیں کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ ویسے ماضی میں میر مٹھا خان مری اور عطا شاد نے ایک لبزبلد(ڈکشنری ) تربیت دی تھی جس میں سلیمانی، مکرانی اور رخشانی لہجوں کے الفاظ شامل ہیں۔ اسی طرح بلوچی اکیڈمی کی لبز بلد (ڈکشنری) میں بھی ان تینوں لہجوں کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں ان سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ بلوچی رسائل بشمول ’’ سنگت ‘‘ ہر مہینے مکرانی+ رخشانی+ سلیمانی لہجوں کے الفاظ اور اشیا کے نام کے چارٹ اپنی اشاعت میں شامل کریں تاکہ پڑھنے والے اُن سے استفادہ کرتے رہیں۔ جیسے ’’ تلار‘‘ براہوئی میں بلوچی اور براہوئی کے الفاظ اور اشیا کے نام دیے جاتے ہیں۔
سنگت تراجم کے حوالے سے ۔۔۔۔۔۔
-1 اگر مصنف سلیمانی لہجے کا ہے تو اُس کی کتاب کو کمیٹی دیکھے اور اس میں کچھ رخشانی+مکرانی لہجے کے الفاظ بھی شامل کرے تاکہ سلیمانی لہجے والے اُن الفاظ سے آشنائی حاصل کرسکیں۔ اسی طرح رخشانی اور مکرانی لہجے کے مصنف کی کتاب کے لیے ہونا چاہیے۔
-2 اس کے ساتھ ساتھ کتاب کے صفحات کے نیچے یا آخر میں متعلقہ لہجے کے نامانوس الفاظ کے سامنے دوسری لہجے کے الفاظ دیے جائیں۔ اس سے بھی ہمیں ایک دوسرے کے الفاظ سے آشنائی ہوگی اور لہجوں کا یہ مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے گا۔
میرے خیال میں غیر ضروری طور پر زبان کو پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔ لیکن زبان کا معاملہ خواہشات سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچی زبان کے باقاعدہ تحریری دور سے ہی اُس وقت کے ادیب اور شاعروں نے رسم الخط ، املا ( لکھوڑ) کے حوالے سے اپنی کوششوں کی ابتدا کی سید ظہور ہاشمی نے تو اس حوالے سے کتاب بھی شائع کروائی۔ محمدحسین عنقا، اکبر بارکزئی، امیری اور حاجی عبدالقیوم بلوچ اور دیگر ادیب اور لکھاریوں نے بھی خاطرخواہ کام کیا۔ مضامین لکھے ۔ اسی ضمن میں سید ظہور شاہ ہاشمی جو اِملا سامنے لایا۔ اُس نے دوسروں کی نسبت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ جس میں ہمزہ زبر، ہمرہ زیر ، اور ہمزہ پیش وغیرہ شامل ہیں۔ گو کہ اُس وقت بھی کچھ لوگوں نے مکمل طور پر اُن سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اور وہ او، و ، ئے استعمال کرتے رہے۔ لیکن کہیں کہیں ہمزہ زیر بھی استعمال کرتے رہے ہیں ۔ اُ ن کا خیال ہے کہ ہمزہ کا ستعمال جتنا کم ہو بہتر ہے۔
میرے خیال میں بھی ہمزہ کو کم ہونا چاہیے۔ لیکن کہیں کہیں ضروری بھی ہوجاتا ہے۔ جیسے چھوٹی ی کے اوپر ۔ اور ایک آدھ اور جگہ پر۔ اس لیے اسے ختم نہیں کیاجاسکتا، بہت کم کیا جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ من ءَ بھی لکھتے ہیں یہاں ہمزہ زبر غیر ضروری ہے۔ من ءَ کی جگہ منا ہی بہتر ہے۔
جہاں تک ’’و ‘‘کا تعلق ہے۔ جیسے اردو میں ہے نشیب و فراز۔ یا فارسی میں۔ من و تو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے چند دوست اور لکھاری اس طرح لکھ رہے ہیں۔ جو ’’ و‘‘ کو ہمزہ پیش کی جگہ استعمال کررہے ہیں یہ کسی حد تک صحیح ہے ۔
کچھ لوگ و کے اوپر زبر بھی لکھا دیتے ہیں جسے ’’ من وَ نہ زانت ، جبکہ دوسرے ’’ وا‘‘ لگا دیتے ہیں یہاں و کے اوپر زبر ہی صحیح ہے۔
سید ظہور شاہ نے ’’ یے‘ بھی استعمال کیا ہے۔جیسے کتاب یے’’ یعنی ایک کتاب۔ شپ یے۔ ایک رات وغیرہ۔ اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن جب بھی اس حوالے سے اتفاق پایا جائے تو منتخب شدہ الفاظ کو ہی کو رواج دیا جانا چاہیے۔ وگرنہ ہر لکھاری اپنی ہی پسند کو ترجیح دیتا رہے گا۔
بلوچی حروف میں ث، ح، خ، ذ، ص،ض، ط، ظ، ع، غ، ف ، ق۔ عربی حروف ہیں۔ کہیں استعمال ہوتے ہیں اور کہیں نہیں ہوتے۔ اور ہمارے نام بھی زیادہ تر عربی ہی سے لیے گئے ہیں۔ علی کو اگر الی لکھا جائے تو عجیب لگے گا۔ وہی نام اگر اصلی حروف کے ساتھ لکھے جائیں تو اِسی طرح بہتر رہے گا ۔ث،ذ، غ، خ، جیسے حروف مشرقی بلوچستان میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم ایسے حروف سے حرفِ نظر نہیں کرسکتے۔ حروف اگر رہنے دیے جائیں تو کوئی قباحت نہیں۔
حروف پر دائرہ لگانا ۔ کچھ لوگ اسے غیرضروری سمجھتے ہیں۔ اُن کے خیال میں اس سے زبان پیچیدہ ہورہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ’’ہ‘‘ دائرہ بہت زیادہ استعمال نہیں ہورہا۔ جہاں اس کی اشد ضرورت ہوگی اسے استعمال کیا جائے۔

Check Also

TO FIDEL CASTRO —  Pablo Neruda

Fidel, Fidel, the people thank you for your words in action and deeds that sing, ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *