Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت اکیڈمی ڈسٹرکٹ کمیٹی اجلاس ۔۔۔ رپورٹ :جاوید اختر

سنگت اکیڈمی ڈسٹرکٹ کمیٹی اجلاس ۔۔۔ رپورٹ :جاوید اختر

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ڈسٹرکٹ کمیٹی کا اجلاس جاوید اختر کی زیر صدارت مورخہ21اگست 2016گیارہ بجے صبح مری لیب فاطمہ جناح روڈ کوئٹہ منعقد ہوا ۔جس کا ایجنڈا تھا 8اگست کوئٹہ ہسپتال پر وحشیانہ خود کش حملہ۔ اجلاس میں ڈاکٹر شاہ محمد مری ،ڈاکٹر منیر رئیسانٹریں ،ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو، جاوید اختر ،وحید زہیر،رحمت اللہ مینگل ، عابدہ رحمن ، عصمت خروٹی ،جہانگیر جبران ،آزات جمالدینی اور نجیب اللہ نے شرکت کی ۔
اجلاس میں کوئٹہ سول ہسپتال پر آٹھ اگست 2016 کی صبح کو وحشیانہ وبہیمانہ خود کش دہشت گردی پر بھر پور بحث ومباحثہ ہوا ۔اس خود کش حملے کے نتیجے میں سو سے زیادہ معصوم انسان شہیدہوگئے ۔جن میں زیادہ تر تعداد وکلا کی تھی ۔اس کے علاوہ کئی دیگر لوگ شہید ہوئے۔
مذہبی انتہا پسندی ،ایک عالمی اور خودکش دہشت گردی نہ صر ف ہمارے خطے کا مسئلہ ہے بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کی تاریخی بنیادیں سرد جنگ کے عشروں میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ جب سویت یونین اور عالمی سرمایہ دار ی کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ عالمی سرمایہ دار قوتوں نے امریکہ کی زیر قیادت سویت بلاک کے خلاف مذہب کو بطور آلہ جنگ استعمال کیا ۔ مذہبی گروہوں کی عسکری تربیت ،فنڈنگ ،تنظیم کاری اور سرپرستی بڑے پیمانے پر ہوئی ۔
جب 1991ء میں سویت یونین تحلیل ہوگیا ۔توعالمی سرمایہ داری کے حاشیہ بردار دانشور فو کو یا مانے اس واقعے کو تاریخ کے خاتمے سے مو سوم کیا اور دوسرے دانشور ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کی پیش گوئی کی ۔لیکن کچھ مدت بعد جب عالمی سرمایہ داری نظام میں معاشی بحران پیدا ہونے شروع ہوئے تو اس کا کھوکھلا پن ظاہر ہوگیا ۔نیزعالمی سرمایہ دار ممالک کے درمیان وہ تضادات ظاہر ہونے لگے جو سرد جنگ کے دوران دب گئے تھے ۔ منڈیوں کی ازسرنو تقسیم ،کاروباری رقابت اور معاشی مقابلے نے ان تضادات کو شدید کر دیا۔ اب انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف مذہبی دہشتگردوں کو بطور آلہ جنگ استعمال کرنا شروع کیا ۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ سرمایہ داری امن وسلامتی کا نظام نہیں ہے بلکہ جنگوں ،خانہ جنگیوں ،انتشار اور بدامنی کا نظام ہے ۔اس میں کسی قسم کا توازن وتطابق تلاش کرنا ناممکن ہے ۔اس نے مذہبی دہشت گردی کے بھوت کو لاکھوں کروڑو ں انسانوں کے سروں پر مسلط کیا ہوا ہے۔اس دہشت گردی سے نہ لال مسجد محفوظ ہے نہ معصوم بچوں کے سکول نہ ہسپتال ،نہ مساجد ،نہ چرچ ،نہ مندر محفوظ ہیں۔اس سے امریکہ محفوظ ہے نہ لندن وپیرس ۔اس سے ہندوستان سلامت ہے نہ ایشیا۔
اس دہشت گردی نے کتنے لوگوں کو لقمہ اجل بنایا ہے ،کتنے گھر تاریک کئے ہیں، کتنے ہنستے بستے شہروں کا حسن چھیناہے ۔کتنے بچوں سے ان کے باپ جدا کئے ہیں، کتنی سہاگوں کے سہاگ اجاڑے ہیں ۔کتنی ماؤں سے ان کے لخت جگر الگ کئے ہیں، کتنی بہنوں سے بھائی جدا کئے ہیں۔ کوئٹہ ہسپتال پر آٹھ اگست کا وحشت ناک اور انسان دشمن حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔یہ حملہ سرقبیلوی پسماندہ قوتوں کی جدت اور ترقی پسندی کے مقابلے میں ایک وفاعی کا وش ہے۔ اس میں ان قوتوں کے سیاسی ومعاشی مفادات کا دفاع پوشیدہ ہے۔یہ حملہ ریاست اور اس کے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے جوشہریوں کے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ میں ناکام ہیں۔
یہ حملہ قدامت پسندی ،رجعت پسندی اور دقیانوسی کے وفاع کا نتیجہ ہے جو ترقی پسندی ،جدت اور سائنس سے خوف زدہ ہے جو ہمیں واپس تاریخ کے تردید شدہ زمانوں سرقبیلوی اور جاگیرداری دور میں دھکیلنا چاہتی ہیں ۔تاریخ خود کو کبھی نہیں دہراتی ہے بلکہ آگے بڑھتی ہے۔ البتہ اس کے راستے میں کئی ایک مزاحمتیں اور رکاوٹیں تو آتی رہتی ہیں لیکن بالاخر وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قلمکاروں کو اپنے قلم کو ان رجعت پسند قوتوں سے جنگ میں آلہ جنگ بنا کر اپنی تحریروں کو عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قلم کار اس جنگ میں عوام کا ساتھ دیں گے ۔
اور سنگت اکیڈمی آف سائنسز پورا2016کا سال اس واقعہ کی یاد میں شہدا کو اپنے پراگراموں میں خراج تحسین پیش کرے گی ۔ہسپتال میں واقعہ کے دوران رخمیوں کے علاج ،ان کی دیکھ بھال اور ان کے ساتھ رہنے والے ڈاکٹروں ،نرسوں اور دیگر عملے کی ناقابل فراموش خدمات کا تذکرہ کرے گی ۔ماہنامہ سنگت کا ہر شمار ہ اس واقعہ کے شہدا کے ذکر سے خالی نہیں ہوگا۔28اگست 2016 کو ہونے والی پوہ زانت نشست ان شہدا کے نام ہوگی۔
قرارداد یں:
اس اجلاس میں مندرہ ذیل قراردیں منظور کی گئیں:
1۔آٹھ اگست کا واقعہ سیاسی ہے او راس کا سیاسی حل کیا جائے ۔
2۔آٹھ اگست کا وحشیانہ واقعہ پوری دنیا کے انسانوں کا قتل ہے۔ یہ واقعہ ریاست اور اس کے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو جانی ومالی تحفظ فراہم کرے ۔
3۔سول ہسپتال کا نام آٹھ اگست کے واقعہ میں شہید ہونے والے شہداء کے نام کیا جائے۔
4۔بلوچستان بھر کے شہروں کی شاہراہوں ،اہم مقامات ،سکول اور ہسپتالوں کو ایک ایک شہید کے نام سے موسوم کیا جائے۔
5۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے ۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *