Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » سنگت اکیڈمی آ ف سائنسز ۔۔۔ تبصرہ ۔ سعید کُرد

سنگت اکیڈمی آ ف سائنسز ۔۔۔ تبصرہ ۔ سعید کُرد

سنگت اکیڈمی آف سائنسز نے 2015ء کو عالمی ادب سے بلوچی اور دیگر مقامی زبانوں میں کتابوں کی تراجم کی اشاعت کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں اب تک سات کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ جن میں دو اُردو میں اور باقی چار کتابیں بلوچی میں اور ایک براہوی میں شائع ہوچکی ہیں ۔
1۔ جینی مارکس کے خطوط ۔ 2۔ جہاں جسکیں دہ روش ۔ 3۔ آ زادی
4۔ دزو کچک ۔ 5۔ بزغر نا مسٹر
1۔ جینی مارکس کے خطوط۔
’’جینی مارکس کے خطوط‘‘ نامی کتاب 168صفحات پر مشتمل ہے ۔ مترجم ڈاکٹر شاہ محمد مری ۔
جینی مارکس عظیم مفکر ، فلاسفراور مارکسزم کے بانی کارل مارکس کی شریک حیات تھیں ۔ جینی مارکس ، مارکس تحریک کی تنظیم کے اولین رہنما ؤں میں سے تھیں ۔ وہ زندگی بھر مارکس کے ساتھ ایک وفا دار شریک حیات و جیون ساتھی کی حیثیت سے ہمسفر رہی ۔ وہ حقیقی معنوں میں مارکس کے نظریاتی ، فلسفیانہ اور انقلابی نظریات کے پیروکاروں میں سے تھیں ۔
کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر شاہ محمد مری لکھتے ہیں کہ ’’میں نے جینی کے لکھے خطوط پڑھے ہیں نہیں اور شروع ہو گیا ترجمہ کرنے۔ وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سارے خطوط صرف محبت نامے نہیں ہیں ۔ اُس کے خطوط نہ صرف مارکس اور اُس کے خاندان کے بارے میں معلومات کا بنیادی سر چشمہ ہیں ، بلکہ مارکسزم کے تشکیل کے مراحل کے بھی چشم دید اور ہمسفر کا بیانیہ ہیں ۔ صرف یہ نظر نہیں بلکہ وہ مارکسی تحریک کے ابتدائی برسوں کی بہادر’’ترجمان اور ریکارڈ بردار ‘‘ ہے۔ ہڑتالوں، جلسوں ، جلوسوں اور کانفرنسوں میں حصہ دار رپورٹر۔
جینی کے ساٹھ میں سے تیس خطوط مارکسزم کے شریک بانی اور خاندانی دوست فریڈ رک اینگلز کو لکھے گئے ہیں ۔ فریڈرک اینگلز کو لکھے گئے ایک خط میں جنیی مارکس لکھتی ہیں ۔
مائی ڈئیر اینگلز!
میں اُس ساری محبت اور قربانی کا کس طرح شکریہ ادا کروں جس کے ساتھ آ پ برسوں ہمارے غموں اور مصیبتوں میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں ۔ میں اُس وقت بہت خوش ہوئی جب میں نے تو قع سے پانچ گنا زیادہ دیکھا۔ اُسے تسلیم نہ کرنا منافقت ہوگی ۔ اور پھر میری لنچن کی خوشی کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہ تھی۔ اُس کی قریب قریب بے جان آ نکھیں روشن ہوگئیں ۔ جب وہ دوڑ تی ہوگی سیڑھیاں چڑھی اور اُسے بتایا ’’اینگلز نے تمہاری آ سودگی کیلئے پانچ پاؤنڈ بھیجے ہیں ‘‘۔
2۔ جہاں جسکیں دہ روش۔
یہ کتاب امریکی دانشور و ادیب جان ریڈ کی انگریزی میں لکھی گئی کتاب Ten days that shook the worldکا بلوچی ترجم ہے۔ مترجم ڈاکٹر شاہ محمد مری اور یہ کتاب 270 صفحات پر مشتمل ہے۔
یہ کتاب عظیم اکتوبر سوشلسٹ بالشویک انقلاب کے ابتدائی دس دنوں کی رو داد ہے۔ امریکی مصنف جان ریڈ اس انقلاب کا چشم دید گواہ ہے۔ جو کہ انقلاب کے اُن ایام میں روس میں مقیم تھا۔
لینن کی قیادت میں روسی زار شاہی کے ظلم و ستم اور استحصال کے خلاف روس کے محنت کش عوام ، مزدوروں ، کسانوں ، ملاحوں نے متحد ہو کر آخری بادشاہ کی اقتدار کا تختہ الُٹ دیا ۔ اور محنت کش عوام کی آمریت کی روس میں بنیاد رکھ دی ۔ یہ انقلاب آنے والے ادوار میں سرمایہ دارانہ نظام ، امریکی سامراج اور اُس کے حواریوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی ۔ مشرقی یورپ ، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے محکوم اقوام اور مظلوم طبقات کے سوشلسٹ انقلابی تحریکوں میں سوویت یونین کا اہم کردار رہا ہے۔ جان ریڈ کی اس کتاب کا دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مترجم ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ایک خوبصورت بلوچی لہجے میں اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے ۔ جان ریڈنے 1917ء کے عظیم اکتوبر انقلاب کے اُن دس دنوں کا لمحہ بہ لمحہ تذکرہ کیا ہے ۔ روسی انقلابیوں نے سرخ پرچم تلے ہر محاذ پر زاربادشای کی فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ اور سرمایہ دارانہ و جاگیر دارانہ نظام کی جڑیں اُکھاڑتے ہوئے یونین آ ف سوویت سوشلسٹ رپبلک یعنی سوویت یونین کی بنیاد رکھی ۔ جو کہ سات دہائیوں تک دنیا بھر ایک سُپر پاور کی حیثیت سے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف دُنیا بھر کے محکوم اقوام و مظلوم طبقات کی تحریکوں میں معاون و مددگار رہا۔
3۔ آ زادی۔
مصنف کرسٹوفر کاڈویل بلوچی مترجم شان گل۔ صفحات 60۔ پبلشر سنگت اکیڈمی آ ف سائنسز کوئٹہ ۔
مترجم شان گل کتاب کے پیش لفظ میں لکھتا ہے کہ زمانہ طالب علمی کے دوران لاہور کے انار کلی بازار میں سنڈے کو پُرانی کتابوں کی مارکیٹ لگتی تھی ۔ میں بھی ہر اتوار کو وہاں سے کتابیں خریدنے جاتا ۔ ایک اتوار کے دن کرسٹو فر کاڈویل کی کتاب ’’سٹڈیز ان اے ڈائی انگ کلچر ‘‘ پر میری نظر پڑی اور میں نے وہ فوراََ خرید لی ۔ یہ فلسفہ کی ایک کتاب ہے۔ میں نے اس کتاب کو پڑھنے کے بعد سائیں کمال خان کو پڑھنے کے لیئے دی ۔ یہ کتاب سائیں کما ل خان کو بہت پسند آ ئی۔ اور میں اور سائیں کمال خان نے اس کتاب کے ایک چیپٹر ’’لبرٹی ‘‘ کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اور 29سال بعد اس کی اشاعت ممکن ہوئی۔
4۔ کرنلاکس کا گدنبشتہ نہ کنت۔
یہ کتاب انگریزی ناول No One writes to the colonelکا بلوچی ترجمہ ہے۔ اس کے رائٹر گبرئیل کارسیا مارکیز اور مترجم فدا احمد۔ کتاب کے صفحات 80 ۔پبلشر سنگت اکیڈمی آف سائنسز ۔ یہ ایک کرنل کی ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے ملنے میں رکاوٹوں کی کہانی ہے ۔
5۔گندم کی روٹی ۔
’’گندم کی روٹی ‘‘ ایک ناول ہے ۔ اس کے مصنف افغانستان کے بلوچی دانشور و ادیب عبدالستار پُر دلی ہیں ۔ مترجم ڈاکٹر شاہ محمد مری۔ یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ پہلا ایڈیشن 2003ء میں شائع ہوا تھا۔ مترجم شاہ محمد مری کتاب کے پہلے ایڈیشن کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں 1978 کے بعددس پندرہ برسوں میں جن لوگوں کی سانسیں کا بل ریڈیو کے اعلانات کے ساتھ ساتھ تہہ و بالا ہوتی تھیںیہ ناولٹ ان لوگوں کی اپنی لکھی ڈائری ہے جسے ہلمند کے بلوچ فرزند عبدالستار پُر دلی نے ترتیب دیا تھا ۔ یہ ناولٹ بلوچستان میں طبقاتی سیاست کرنے والوں کے ہاتھ میں ان لوگوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ہے جن کا دعوی رہا ہے کہ بلوچستان میں طبقات نہیں ہیں ۔ مدہم ہیں غیر واضح ہیں اور یہاں صرف سرداروں کی سر پرستی میں قومیتی سیاست ہو سکتی ہے ۔
6۔ دُز وکُچک ۔
مصنف نجیب محفوظ ، مترجم: شرف شاد۔
کتاب کے صفحات 132 ۔پبلشر سنگت اکیڈمی آف سائنسز کوئٹہ ۔
7۔بزغر نا مسٹر۔
مصنف ۔ نور محمد ترہ کئی ۔ مترجم حمید عزیز آ بادی
صفحات 79ہیں ۔ پبلشر سنگت اکیڈمی آ ف سائنسز کوئٹہ ۔
افغانستان کے ثور انقلاب کے قائد نور محمد ترہ کئی کے افسانوں کا براہوئی زبان میں خوبصورت ترجمہ حمید عزیز آبادی نے کیا ہے۔ حمید عزیز آ بادی براہوئی زبان کے ایک روشن خیال اور مزاحمتی شاعر ہیں اور براہوئی زبان میں ان کی شاعری کے دو مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں ۔ بزغر نا مسٹر یعنی کسان کی بیٹی افغانستان میں ایک ترقی پسند جمہوری انقلاب کے رہنما ء ، دانشور ، ادیب نور محمد ترہ کئی کی افغان سماج کے پس منظر میں لکھے گئے افسانوں کا ترجمہ ہے۔

Check Also

jan-17-front-small-title

غدار ۔۔۔۔ مبصر : عابدہ رحمان

مصنف: کرشن چندر ’غدار‘ کرشن چندر کا وہ شاہکار ناول ہے جو ہندوستان کی تقسیم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *