Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت اکیڈمی آف سائنسز

سنگت اکیڈمی آف سائنسز

مئی2014

کوئٹہ
عابد میر
سنگت اکیڈمی آف سائنسز اپنے ماہانہ باقاعدہ پوہ زانت نشستوں کے علاوہ سال میں دو تین بڑے اجتماعات بھی منعقد کرتی ہے۔
مئی کا مہینہ اکیڈمی کے لےے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لےے کہ اسی مہینے میں یومِ مئی کا بین الاقوامی دن آتا ہے، بہت بڑے فلاسفر کارل مارکس اور بلوچی کے سر شاعر گل خان نصیر کا ماہِ پیدائش یہی ہے۔ اسی طرح ماما عبداللہ جان جمالدینی اور سوبھوگیان چندانی کا ماہِ ولادت بھی یہی مئی ہی ہے ۔ اور پھر( 31 مئی) میر یوسف علی مگسی کی وفات کا دن بھی اسی مئی میں آتا ہے۔
اِن سارے باوقار لوگوں کو یاد رکھنا سنگت اکیڈمی کا روزِ اول سے مشن رہا ہے۔اس لےے کہ ہر کنفیوژن کی گھڑی میں اِن بڑے لوگوں کے فرمودات اور سوانح حیات چراغ ِ راہ کا کام دیتے ہیں۔
اس بار بلوچی اکیڈمی کا ہال اس بڑی تقریب کے لےے مختص کیا گیا ۔ سنگت اکیڈمی کی بڑی تقریبات میں ” کتاب میلہ“ ایک بنیادی فیچر ہوتا ہے۔ جہاں اچھی ، نایاب کتابیں کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب میلہ شہر میں بذات ِ خود ایک بڑا موقع ہوتا ہے جہاں صاحبان علم، بزرگ شہری، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دانشورو شاعروں کے علاوہ یونیورسٹیوں کالجوں کے طالب علم گروہ درگروہ آتے ہیں اور شاپر اور چادر یں بھر بھر کر کتابیں لے جاتے ہیں۔ اِس بار بھی یہی ہوا۔ صبح ساڑھے نو بجے سے لے کر شام چھ بجے تک بلا وقفہ کتاب دیدار جاری رہا۔سنگت اکیڈمی کے علاوہ، بلوچی اکیڈمی، مہر در ، اور ، اردو سائنس بورڈ نے اپنے اپنے سٹال لگائے۔ رکشوں کار موٹروں کے ذریعے سنگت بک شاپ سے نئے نئے کھیپ آتے رہے اور فروخت ہوتے رہے۔ عابد میر، ہیبتان دشتی، اور بیورغ مردِ میدان تھے، جبکہ ” میں کیا مدد کروں؟“ کہنے اور جُز وقتی ہاتھ بٹانے والے اصحاب بے شمار ۔ سائنس، فلسفہ ، سماجیات ، سیاست اور معیشت پر مشتمل کتابیں ایک دکان سے بے شمار گھروں میں بٹ گئیں اور ہر کتاب کئی ہاتھوں کے بوسوں سے سرشار ٹھہری۔
سارے دن کے اِسی مسرور کن ماحول میں، شام کو جلسے کی کاروائی شروع ہوئی۔ لوگ اپنی نشستوں میں عجیب طریقے سے بیٹھے تھے۔ کسی نے کتابوںکا شاپر ساتھ رکھا ہوا تھا، کوئی اپنی خریدی ہوئی کتابوں کو ، اور اُن میں موجود فہرستوں کو دیکھ رہا تھا، اور کوئی، دوسرے کے ہاتھ میں اچھی کتاب دیکھ کر لپک کر نیچے لگے سٹال میں وہ کتاب خریدنے جارہا تھا۔
گل خان کے سال کے اس پانچویں پوہ زانت کا آغاز اُسی کے کلام سے کیا گیا ۔ جادوئی آواز محترمہ نوشین قمبرانڑیں کی تھی: ” اے میرے پیارے وطن“۔ مزہ آیا ۔
میر جیند خان جمالدینی کی صدارت میں اِس جلسے کا پہلا مقرر غلام نبی ساجد بزدار تھا، ایک رپورٹ نما تعارفی آغاز۔ اُس نے خود کو سنگت اکیڈمی کی جانب سے میر گل خان نصیر کی پیدائش کی سوویں سالگرہ کے اِس سال (2014) کے دوران اب تک کے منعقدہ پروگراموں کے تذکرے تک محدود رکھا۔ صرف کوئٹہ نہیں بلکہ سنگت خاران ، سنگت اوستہ محمد، سنگت ڈیرہ مراد جمالی اور سنگت اسلام آباد کی اس سلسلے کے جلسوں کے بارے میں بتایا ۔ اس نے سال کے آخر تک مذکورہ بالا ہر شاخ میں مزید سات سات بقیہ اجتماعات منعقد کرنے کا عہد دوہرایا۔
پروفیسر جاوید اختر نے یوم ِ مئی کے شہدا، اُن کی جدوجہد، اور شہادت کا پس منظر بیان کیا۔اس نے مارکس کی زندگی اور اس کے نظریہ کی چیدہ چیدہ باتیں بتائیں اور پھر فکرِ مزدور سے لیس یوسف عزیز مگسی کی تحریکی خدمات کے بارے میں جلسے کو روشن خیال بنایا۔ اُسی تسلسل میں میر گل خان نصیر کی جیلیں، جلا وطنیاں اور قربانیاں بیان کیں، اُس کی عظیم تحریروں بالخصوص اس کی خوبصورت شاعری پر بات کی۔مندرجہ بالا بڑے انسانوں کے قافلے کے تسلسل ، ماما عبداللہ جان جمالدینی اور سوبھوگیان چندانی کی سرپرستی کو سنگت اکیڈمی کی خوش قسمتی بتایا اور آج کے جلسے کو اُس جاری تحریک کا نمائندہ جلسہ قرار دیا۔
گل خان نصیر کے فکری پوتوں نواسوں کے اس اجتماع میں اُس کے ایک طبعی پوتے نے گل خان کا کلام سنا کر خاندان میں فکرِ گل خان نصیر کے تسلسل کا ثبوت دیا ، بہت اطمینان ہوا۔
عنوان گل خان ہو، اور مقرر ہووحید زہیر، تو پھر ہال تو گونجے گا ہی ۔ سو، تالیاں تھیں، الفاظ کے موتی تھے، فکر لدے فقرے تھے اور نثر میں شاعری تھی ۔ ہم نے فکر و فن کے موتی چنے، ہم تازہ دم ہوگئے۔
غوث بخش بزنجو کے مہین و سنگین خاندان میں سے ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو ہی سے ہمارے حصے میں آیا ( اور ہمیں اپنے اِس ” ونڈ“ پہ کوئی ارمان و پشیمانی بھی نہیں)۔ اُس نے اِس بار ایک ایسا خط چُنا جو صدیوں تک بلوچ سماج کی رہنما تحریروں میں سے تصور کیا جاتا رہے گا۔ یہ وہ مشہور خط تھا جو میر یوسف عزیز مگسی نے جناب امین کھوسو کو اُس وقت لکھا تھا جب وہ لندن میں تھا اور وہاں کے ترقی یافتہ سماج کا بلوچ سماج سے موازنہ کررہا تھا۔ یہ ہمارے لےے سنگ ہائے میل ( گام گیژ) کا درجہ رکھنے والی تحریروں میں سے ایک ہے۔…. ہم خوش قسمت قوم ہیں کہ ہزاروں قمقمے ہماری راہوں کی راہبری کرنے جگمگا رہے ہیں۔
بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچی کا استاد، اے آر داد میر گل خان نصیر کے فکر و خیال پہ تو زیادہ نہیں بولا مگر اُس نے شاعر کے کام اور کلام کو فنی طور پر دیکھا۔ ایسی عینک سے جو کہ 21 ویں صدی کے یورپی ما بعد ٹکنالوجیکل عہد میں تیار ہوئی جس کی مطابقت کا منظر نامہ انیسویں صدی کے خانہ بدوش معاشرے میں موجود ہی نہ تھا۔ ہم بلوچستان میں ” مواد و متن“ کے اِس اب تک غیر مقبول زاویہ نگاہ سے گل خان کے کلام کا تجزیہ سن کر بہت خوش ہوئے ۔ ڈائیو رسٹی کو ایک نعمت کے بطور لینا چاہےے۔
سنگت پوہ زانت جلسے کے پہلے حصے یعنی سیمینار حصے کے مہمانِ خاص پروفیسر عزیز مینگل نے اپنے ٹھہرے دھیمے لہجے میں سیمینار کے عنوان کی بڑی تعریف کی۔اس نے تاریخی جڑوں کے ساتھ وابستہ رہنے کی سنگت اکیڈمی کی کوششوں کو سراہا۔ پڑھے گئے مقالات کی کوالٹی کی تعریف کرتے ہوئے اس نے سنگت کی اس روایت کو اچھا قرار دیا کہ سیمیناروں میں زبانی تقاریر کو ختم کردیا گیا اور نیم تحقیقی مقالات پڑھنے کا رواج ڈال دیا گیا۔ اُس نے اِس یقین کا اظہار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگت سیمیناروں میں تمام مقالات مکمل تحقیقی بن جائیں گے۔ اور بین الاقوامی معیار کے حامل۔
نشست کے اس حصے کے آخر میں سنگت اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل جیند خان جمالدینی نے قراردادیں پیش کیں۔ قراردادیں جو کسی تنظیم کا بنیادی پالیسی ڈاکومنٹ ہوتی ہیں۔ وقت کے تقاضوں سے نمٹنے کے عزائم ہوتے ہیں۔
جلسے نے ایک ایک کرکے قراردادوں کی منظوری دی۔ قراردادیں یہ تھیں:
1۔ بلوچستان کے مایہ ناز ماہر تعلیم ،سیاسی اورسماجی شخصیت پروفیسر بہادر خان رودینی کی وفات پر تعزیت کی گئی۔
-2 پنجگور میں تعلیمی سلسلے کی معطلی بالخصوص بچیوں کی تعلیم پہ قدغن کی شدید مخالفت کی جاتی ہے اور متعلقہ حکام سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
-3 بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز،اورکتابوں کی دکانوں پہ چھاپوں کی مخالفت کی جاتی ہے ، بعض کتابوں پہ پابندیوں اور ضبطگی کی مذمت کی جاتی ہے۔
-4 معروف صحافی حامد میر ہر وقت روشن خیال آوازوں کو ’لبرل فاشسٹ‘ قرار دیتا رہا، رجعتی عناصر کا ساتھ دیتا رہا ، لیکن اس کے باوجود ہم اس پرکےے گئے حملے کی مذمت اور اس کی صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔نیز بلوچستان سے متعلق اس کے جرا¿ت مندانہ مو¿قف کی تحسین کرتے ہیں۔
-5 ہم صحافت میں حقوق اور ذمہ داریوں کے توازن کی حمایت کرتے ہیں۔گو کہ جیو سمیت پاکستان کے اکثر میڈیا ہاو¿سز رجعت پسندی کی حمایت کرتے اور اُسے بڑھاوا دیتے رہے، لیکن اس کے باوجود ہم ان کے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف کسی قسم کی قدغن کی مخالف کرتے ہیں۔
-6 مادری قومی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کے عمل کو سیاست کی نذر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے، اسے فی الفور نافذ العمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نشست کے دوسرے حصے سے قبل ”ایکٹراِن“ نامی تھیٹر سے وابستہ نوجوانوں نے یومِ مزدور کے حوالے سے ایک مختصرمگر بہت خوبصورت ڈرامہ پیش کیا۔ جسے خوب سراہا گیا۔(فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سنگت اکیڈمی کے بڑے جلسوںمیں ڈرامہ کا آئٹم ضروری ہوگا)۔
سنگت پوہ زانت جلسے کا دوسراحصہ بین السانی شعری نشست پہ مشتمل تھا۔ جس کی صدارت مشہور شاعر دانیال طریر سے کروائی گئی۔ اس حصے میں بلوچی براہوی اردو پشتو اور دیگر مادری قومی زبانوں کے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور داد پائی۔ شاعروں کی بڑی تعداد کے باوجود سامعین اچھے اچھے شعر چنتے رہے۔سلیم کرد، قیوم بیدار، عزیز مینگل، سنگت رفیق، خیام ثنا، ضیا شفیع، عبداللہ دشتی ، ساقم سخن عرفان بیگ اور دیگر نے شاعری سنائی۔
یوں شہر نے علم و دانش سے لبریز سرگرمی بھرا ایک بہت اچھا ادبی، فکری اور ثقافتی دن دیکھا۔ اللہ کرے ایسے بے شمار دن اِسے نصیب ہوں!! ۔
*********
جون2014
عابد میر
سنگت پوہ زانت کی ماہانہ نشست 22جون 2014کی شام پروفیشنل اکیڈمی میں منعقد ہوئی۔ نشست کے شرکا میں جیئند جمالدینی، ساجد بزدار، جاوید اختر، عزیز مینگل، شاہ محمد مری، وحید زہیر، سرور آغا،پروفیسر رحیم مہر، سنگت رفیق، سعیدکرد،ڈاکٹر عطااللہ بزنجو، مراد اسماعیل، عبداللہ دشتی اور عابد میر شامل تھے۔
ایجنڈے کے مطابق پروفیسر رحیم مہر نے گل خان نصیر کے فن کے حوالے سے بلوچی میں اپنا مضمون پیش کیا۔ جس میں اس نے گل خان کی شاعری کے فنی و فکری پہلوو¿ں کا جائزہ لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ گل خان جیسا متنوع موضوعات پہ لکھنے والا شاعر بلوچی نے اب تک پیدا نہیں کیا۔ جو لوگ اس شاعر نہیں سمجھتے ، میرا خیال ہے کہ وہ گل خان کو اب تک سمجھے ہی نہیں، اور حقیقت یہی ہے کہ گل خان کو حقیقی معنوں میں اب تک پڑھا اور سمجھا نہیں گیا۔ اس نے گل خان نصیر کی مختلف کتابوں اور شعری حوالوں سے اس کے فکری پہلوو¿ں پہ بھی بات کی۔
مضمون مکمل ہونے کے بعد وحید زہیر نے سوال کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ گل خان کے ہاں چونکہ انسان دوستی ، سوشل ازم، نیشنل ازم گڈ مڈ ہو گئے ہیں، شاید اسی لیے اسے درست طورپر سمجھا نہیں جا سکا؟ دوسری بات یہ بھی کہ گل خان کی جو شاعری شائع ہوئی ہے اس میں لگتا ہے کہ کسی قسم کی سلیکشن نہیں کی گئی، بلکہ جو بھی لکھا، وہ سب شایع کر دیا۔
اس کے جواب میں رحیم مہر نے کہا کہ گل خان نصیر نے جس قدر متنوع موضوعات پہ لکھا ہے، اس کا موضوعی مطالعہ تو کیا گیا لیکن خالص ادبی مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مثلاً صرف ایک کتاب ’دوستین و شیرین‘ میں اس نے جس قدر بے تحاشا ہیئتی تجربے کیے ہیں، ان پہ آج تک بات ہی نہیں کی گئی۔ شاعر کے ہاں موضوعات جس قدر وسیع ہوں، خیال اتنا ہی وسعت اختیار کرتا ہے، البتہ دیکھنا یہ ہے کہ موضوعات کو اس نے ادبی حوالے سے کس سطح پر برتا ہے۔باقی جہاں تک اس کی شاعری میں سلیکشن کا تعلق ہے تو اس کی شاعری کی تقریباً ساری کتابیں اس کی زندگی میں ہی شایع ہو چکی تھیں،اس لیے ایک لحاظ سے سلیکشن تو اس کی اپنی ہے۔
اس کے بعد ڈاکٹر منیر رئیسانی نے اپنی تازہ غزل تنقید کے لیے پیش کی۔ جس پہ سیر حاصل بحث ہوئی۔ غزل کے فنی و فکری پہلوو¿ں کو سراہا گیا، مطلع کی تفہیم میں ذرا مشکل ہوئی، البتہ دوسرے شعر میں ’شہر سخن دریدہ‘ کی ترکیب کو نیا اور بامعنی قرار دیا گیا۔ تیسرا شعر بھی تفہیم کے لحاظ سے ہر مبصر پہ مختلف معنوں میں کھلا ۔ بعد ازاں شاعر کو موقع دیا گیا اور انھوں نے خود غزل کی تفہیم پیش کی۔
آخر میں صدر مجلس پروفیسر عزیز مینگل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رحیم مہر کا مضمون مختصر مگر جامع تھا۔ اس نے کامیاب کوشش کی۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی کی غزل میں بھی اچھوتے خیال کو انوکھے انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ اچھی کوشش ہے ، میرا خیال ہے کہ شاعری میں گہری باتیں ہونی چاہئیں، اسے سطحی نہیں ہونا چاہیے۔
اختتام پہ سالانہ چندہ ادا نہ کرنے والے دوستوں کو یاد دہانی کرائی گئی۔ ڈپٹی سیکریٹری جاوید اختر نے چندے کی رقم کا مختصر حساب بتایا۔ نشست میں موجود دوستوں نے اپنا سالانہ چندہ ادا کیا۔ نیز کتاب ’لٹ خانہ‘ کی مارکیٹنگ کے حوالے سے جیئند خان اور جاوید اختر کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ اس بابت معاملات کی پیروی کریں گے اور آئندہ نشست میں اس حوالے سے حتمی رپورٹ پیش کریں گے۔
نشست کے اختتام پر بلوچستان کے راہنما نواب خیر بخش مری کی رحلت پر فاتحہ کیا گیا ۔ اسی طرح ایس ایس او کے سابق ترقی پسند رہنما عثمان نودھانڑیں اور سنگت اوستہ محمد کے سابق سیکریٹری جنرل ظفر اللہ زہری کی والدہ کی وفات کے حوالے سے تعزیت کی گئی۔
آئندہ پوہ و زانت کے لیے 20جولائی2014،اتوار کا دن طے پایا۔

Check Also

jan-17-front-small-title

یونیورسٹی آف بلوچستان

بلوچی ڈیپارٹمنٹ جامعہ بلوچستانا شعبہ بلوچی ہر سالا ادیباں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دات ۔ اے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *