Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » سماجی ارتقا کی گردن ، غار سماج کے ہاتھوں میں

سماجی ارتقا کی گردن ، غار سماج کے ہاتھوں میں

یہ دنیا اس لیے قائم ہے کہ یہ ساکت نہیں ہے۔طبعی اور جغرافیائی تبدیلیوں سے لے کر سماجی تبدیلیوں کی ماں ہے دنیا۔
انسانی سماج لاکھوں سالوں کے سست رفتار ارتقا کے بعد کہیں مہر گڑھ کے پتھر دور کے سولائزیشن تک پہنچا۔ اور پھر پسینہ بہاتا ، کراہتا، آگے سرکتا گیا۔ پتھر سماج سے کاسی کا دور حاصل کرلیا۔ رکا نہیں ، آگے بڑھتا رہا کہ اُس کے خمیر میں ارفع کی جانب کھسکتے رہنا کندہ ہے۔ موئن جو دھڑو تک آتے آتے انسان لوہے کی دریافت اور اس کا عام استعمال ایجاد کرچکا تھا۔
ہزاروں لاکھوں سالوں کے اس سفر میں امیر اور غریب کا واحد راستہ اس کے پاس موجود رہا۔ ادب میں ، کلچر میں، عقیدہ میں وہ یہی ون وے ٹریفک کے گن گاتا رہا اور آگے کی جانب بڑھتا گیا۔امیر اور غریب کی جاگیرداری ،امیر اور غریب کی سرمایہ داری میں بدل گئی اور یہ سرمایہ داری پھراجار ہ دار سرمایہ داری اور سامراج کی شکل اختیار کرگئی۔وہ سٹیج جب سائنس و ٹکنالوجی مکمل طور پر اُس کے کنٹرول میں تھے۔مگر ایک مصیبت یہ پیدا ہوئی کہ سما ج میں امیری غریبی توتھی ہی، اب کے چند ممالک بھوتا ر وآقا بن گئے اور بقیہ انسانی آبادی کے ممالک ان چند ممالک کے غلام نو آبادیات بنا دیے گئے۔ عجب ہوا کہ اسی مرحلے پر انسانی ارتقا کی میزائلی رفتار چیونٹی کی رفتار تک گر گئی۔ سماج کی معاشی اور کلچرل پیش رفت رک سی گئی۔ ار تقا کا بہتا پا نی اس بہت بڑی رکاوٹ میں دھنس کر رہ گیا۔ ارتقا ہی کے سابقہ اوزار اور عوامل بیڑیاں بن گئیں۔
آبِ رواں کے پاس بہت طاقت ہوتی ہے مگر اس کے پاس اپنی روانی سے روگردانی کی قوت نہیں ہے۔ چنانچہ اِدھر اُدھر ہر سوراخ میں اس نے حل کی تلاش کا سر ڈالا، چھوٹی باہمی جنگیں بڑی جنگوں میں بدل گئیں۔۔۔۔۔۔ اورپہلی عالمی جنگ ہوئی۔
اور یہیں بالآخر انسانی تاریخ میں پہلی بار امیری غریبی کی وحدانیت چیلنج ہوئی۔ متبادل کا نام سوویت یونین( سوشلزم) پڑا۔
سماجی تبدیلیوں میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی۔پچھلی صدی کی دوسری دہائی میں روس کے اندر آئی۔ مزدوروں نے ایک طویل اور خونریز جدوجہد کے بعد بالآخر بادشاہوں، سرمایہ داروں، ملاؤں، پیروں اور جاگیرداروں کی حکومت ختم کردی اور اپنے طبقے کی حکمرانی قائم کردی۔ اس تبدیلی نے سماج کو مکمل پلٹ دیا اور جائیداد ، پیسے اور دولت کی اہمیت صفر کردی۔ جاگیرداروں کی زمین ضبط کرکے اسے بے زمین کسانوں میں مفت تقسیم کیا گیا ،اورنجی ملکیت ختم کی گئی۔محکوم قوموں کو آزادی دی گئی ۔بھوک مٹا دی، بے کاری گم کردی، بے علمی کا خاتمہ کردیا، اور ظلم اور جبر ناپید کردیا۔ محنت کی عظمت قائم ہوئی تو محبت و تعاون کا بول بالا ہوا۔
مزدوروں کے اس انقلاب کی قیادت وہاں کی ’’ مزدور پارٹی‘‘ نے کی جس کا سربراہ لینن نامی فلاسفر تھا۔
یعنی اب ’’امیر غریب ‘‘انسانی ارتقا اور ترقی کا واحد آپشن نہ رہا۔
کہنے کو تو یہ روس کے اندر برپا ہوگیا تھا جو کہ دنیا کے رقبے کا چھٹا تھا۔مگر اس کے اثرات سارے براعظموں پر پڑے۔ ایک ملک کا انقلاب ہوتے ہوئے یہ عالمی انقلاب کا سرچشمہ بن گیا۔ ہر جگہ کے محکوم اور کچلے ہوئے عوام کے ذہن منور، د ل گرم اور تحریکیں سرگرم ہوئیں۔ ہماری طرح اُس وقت، دنیا کے بہت بڑے حصے پر عوام غیر ملکی قبضہ گروں کے خلاف آزاد ی کی جنگ لڑرہے تھے۔ روس کی اِس تبدیلی نے آزادی کی اِ ن تحریکوں میں گویا نئی جان ڈال دی۔بلوچستان میں بہت جلد یعنی1920 کے بعد اس تبدیلی کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جانے لگے۔ یہاں کی سامراج مخالف قوم پرستانہ تحریک نے اپنے رخ کو زیادہ سیاسی اور شعوری بنادیا۔
دنیا کے ظالم حکمرانوں نے یہ صورت دیکھی تو مل کر اس پر حملہ کیا۔ انقلاب گامزن رہا مگر سب سے بڑا حملہ 1941 میں اس پر ہوا، یعنی دوسری عالمی جنگ۔ دو کروڑ روسی قتل ہوئے مگر نہ صرف انقلابی حکومت سلامت رہی بلکہ ہٹلر کا جرمنی اپنے اتحادی جاپان کے ساتھ فاش شکست سے دو چار ہوا۔اس شکست کے نتیجے میں سوویت یونین نے اُ ن کے قبضے سے مشرقی یورپ کے بے شمار ملکوں اور شمالی کوریا کو چھڑالیا اور وہاں حکومتیں وہاں کی مزدور پارٹیوں کے حوالے کردیں۔ نیز دیگر غلام ممالک دھڑا دھڑ آزاد ہونے لگے۔ چین بھی اپنے مزدوروں کے حوالے ہوگیا، ویت نام آزاد ہوکر سوویت یونین کی راہ پر چل نکلا ۔ ہم اور ہندوستان بھی آزاد ہوئے، افریقہ اور ایشیا کے بے شمار ملک غلامی سے آزادہوگئے۔
سماج میں باثبات تغیر اور ارتقا کو چھوٹے موٹے چیلنج آتے رہے اور وہ ان پر قابو پاتا گیا۔حتیٰ کہ اب تک کی سب سے دیر تک چلنے والی اور سب سے بڑی رکاوٹ یعنی کولڈوار بھی انسان کے سماجی ارتقا کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔
مگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عمومی طور پر دنیا میں’’ امیر اور غریب ‘‘کا وہی بڑا اور بنیادی تضاد موجود رہا۔ ’’ظالم طبقہ ‘‘اور ’’حاکم قوم ‘‘کے دو خونخوار لفظ ابھی تک نجیب و اشرف انسان کی ڈکشنری سے کھرچے نہ جاسکے۔انقلابی فلاسفر، دانشور ، اور متحرک لوگ اس بدصورتی کو دھو ڈالنے کی تدبیریں کرنے میں مصروف ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ اور یہاں ایک اور مختصر دورانیے ، مگر تباہی میں بہت بڑی ایک اور رکاوٹ آن کھڑی ہوگئی۔ سماج کی عمومی نظروں سے اوجھل ، اندر ہی اندرکو انٹی ٹیٹیو مظاہر باہم جمع ہوتے رہے اور پھر ایک کوالی ٹے ٹو صورت میں بگ بینگ کے بطور نمودار ہوگئے۔ اوراس کا نام ’’ نائن الیون‘‘ پڑ گیا۔
انسانی ارتقا کے سفر کو ایک اور دریا کا سامنا ہوا۔ بیس برس تک تو انسان سمجھ ہی نہ سکا کہ ’’ نائن الیون‘‘ ہے کیا؟۔ انگشتِ حیرت بد ندان انسان اپنی اپنی عینکوں سے اُسے جانچتا معائنہ اور بیان کرتا رہا۔
انسان اور بالخصوص مشرق کا انسان ابھی تک اُسے مذاہب کی جنگ قرار دے رہا تھا۔کبھی اسے یہود و نصاری سمجھا گیا، کبھی شرق و غرب گرداناگیا، اور کبھی گناہ ثواب کی ترازو گیری کی گئی ۔تہذیبوں کا یُدھ گردان رہا تھا۔مگر اس گنجلک راکھشسی مظہر کا سرا نہ پکڑا جاسکا۔جس کے ہاتھوں افغانستان برباد ہوا، عراق کھنڈر بنا ، لیبیا صفر ہوگیا، شام کراہ کا نمونہ بنا۔ اور یہاں ہمارا خطہ تو ماتم کدہ بن گیا۔
یہاں توصورت ہی دوسری تھی۔رجعت کے دو گڑھ یہاں تھے، سعودی عرب اور ایران۔ چنانچہ ہر واقعہ کا انہی دو پسماندہ سوچ والے ممالک کی عینک سے تجزیہ کیا جاتارہا۔نشانہ اور میدانِ جنگ خیبر پختونخوا ، بلوچستان، اور کراچی بنے رہے۔
ہمارے سماج کے دائیں بازو نے بہت دیر تک اس مظہر کی حمایت و مدد کیے رکھی ۔ یہ سمجھ کر کہ یہ اُن کے لوٹ، استحصال والے نظام کے رکھوالے ہیں۔ انہوں نے عملی طور پر اس دہشت کی مدد بھی کی، یہ سمجھ کر کہ خصوصاً پڑوسی ممالک میں اُن کے اپنے رائٹسٹ عزائم کی تکمیل ہورہی تھی۔مگر جب پشاور میں بچوں کا سکول قتلِ عام کا نشانہ بنا تو سب کی آنکھیں کھلیں کہ یہ دہشت طبقاتی ، قومی نہیں بلکہ یہ تو بحیثیت مجموعی سماجی ارتقا کا گلہ دبانے کے لیے ہے۔ واپس غار سماج میں، واپس گھڑ سوار جنگوں کی طرف، واپس ہلا کوئی تاخت و تارا جی دور کی جانب!!۔
مگر کیا امریکہ، یورپ اور ہمارے ہمسائے بھی یہی چاہتے ہیں؟۔ اگر ایسا ہے( اور کچھ کچھ ایسا ہے)تو کیا سرمایہ داری نظام جس کی مرضی کے بغیر ایک غلیل تک نہیں ہلتی، ہمیں جنگل کے نظام میں پھینک کر خود اپنے منافع کے نظام کو تباہ کرنا چاہتا ہے؟۔نہیں، بالکل نہیں۔
پس، معلوم ہوا کہ جدید اور قدیم کی اس عمومی دیرینہ مناقشت کے پیچھے بہت کچھ ہے۔ سادہ بات نہیں ہے کہ دہشت گرد وں کا محض ایک گروہ ہے جو بحث و دلیل اور قائل کرنے کے سارے ذرائع کو پیروں تلے روند کربم پھاڑ کر بڑے پیمانے کا قتلِ عام کرکے دہشت اور خوف پھیلا کر ہمارے پسینہ بہاتے، حوصلے ہمت کے نعرے لگاتے مزیدآگے کی طرف بڑھتے سماج کو ’’ اباؤٹ ٹرن‘‘ کرانا چاہ رہا ہے، غاروں والے سماج کی طرف ۔نہیں نہیں،معاملہ سادہ نہیں ہے۔
اس سارے مظہر کے پیچھے موجود عالمی کیپٹلزم کے عزائم کا تذکرہ ہم ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور سمت کی طرف بھی نگاہ ڈالنی بھی ضروری ہو چکی ہے۔
یہاں حکمران طبقات کے اپنے اندر اقتدار کے معاملے پرعرصے سے موجودغیر بنیادی اور غیر مخاصم داخلی تضادات اب متصادم صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ان کی اِس داخلی چپقلش میں ساری بورژوا سیاسی پارٹیاں اور ناترس و تباہ کن عالمی سرمایہ داری بھی شامل ہوچکی ہے۔چونکہ یہ مناقشہ انڈائریکٹ ہے اس لیے ہر فریق اپنے اپنے پروکسی کے ذریعے لڑرہا ہے۔ اور پروکسی تو ہوتے ہی دہشت پھیلانے کے لیے ہیں۔چنانچہ یہی دہشت و وحشت ہم دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔ بلوچستان کا آٹھ اگست اور چوبیس اکتوبر اسی کا شاخسانہ ہیں۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پروکسی جنگ میں عوامی ارتقا پسند کارواں کا رول بہت کم ہے۔ حکمرانی کے داخلی تضادات کا ادراک ہوبھی، تب بھی اس قافلے کو پہلے ہی اتنی مار پڑ چکی کہ اس میں نظم کی دوبارہ بحالی کو ذرا سا وقت چاہیے ہوگا۔عوامی منتشر قوت کے سمٹنے کے جدلیاتی امکانات میں ا بھی کچھ دیر لگے گی۔ عوامی ردعمل منظم ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔ اسی لیے تو یہ عارضی دورانیہ تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس عبوری عرصے میں ایک بار پھر انسان اپنے ارتقا کے سفر کا بیانیہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیاہے۔ اس پورے نئے سماجی مظہر نے طبقاتی، قومی اور دیگر بنیادی تضادات کے حل کی جدوجہد کو ایک نئی صورت، ایک نئی شکل دینی ہے۔ گو کہ اب بھی سرمایہ اور محنت کا تضاد موجود ہے مگر اس تضاد پر مبنی جدوجہد اُس بڑی جدوجہد کا حصہ بن چکی ہے جو پورا سماج کررہا ہے،انسانی بقا کی جدوجہد۔
کوئٹہ کے آٹھ اگست اور 24 اکتوبر، طبقاتی و قومی جدوجہد کو اُس نظریاتی اور فکری متحدہ محاذ میں ڈال چکے ہیں جس نے کہ بربریت کے خلاف تشکیل پانا ہے۔ایک ایسا عارضی موڑ جس میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد خود طبقاتی اور قومی جدوجہد بن چکی ہے۔

Check Also

TO FIDEL CASTRO —  Pablo Neruda

Fidel, Fidel, the people thank you for your words in action and deeds that sing, ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *