Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » سفرِ منزلِ لیلیٰ ۔۔۔ مبشر مہدی

سفرِ منزلِ لیلیٰ ۔۔۔ مبشر مہدی

سفرِ منزلِ لیلیٰ کے جورہروہم ہیں

فرقت و کلفتِ ہستی سے گریزاں ہی نہیں
یہ رواں قافلہ ہم اہلِ قفس کا یارو
دُور سے سنتا ہے اُس منزلِ لیلیٰ کا جرس
ہوا جاتاہے یہ بے خود لیکن
راہ میں ہم نے تو آنکھوں کے گوہر
دل کی بے آس تمنا ئے بسیط
اپنے بکھرے ہوئے ذہنوں کا یہ بے انت غبار
اپنے چھلنی جگرِ سوختہ کی خاک ، یہ راکھ
ہاں سبھی کچھ ہی لٹایا ہے مگر
دشتِ ہجراں اتر آیا یہاں سینوں کے قریب
دل بجھے جاتے ہیں رفتہ رفتہ
اور ذہنوں کے بھی افکار مٹے جاتے ہیں
ہم کہ ہیں قیس ، نہ فرہاد ، مہینوال، نہ رانجھے یارو
ہم نہ وارث ہیں، نہ بلّھے نہ کوئی شاہ حسین
کیسے ہم نطق سے پھولوں کی کوئی مالا پروئیں بولو
ہم جواب چلتے ہوئے کھو ہی گئے راہوں میں
ہاں بہت دور بہت دور کہیں
رقصِ محمل بھی ہُوا دور بہت دُور اب تو
دشت اور صحرا کی اس آبلہ پائی میں ہیں ہم
ہم نے جھیلے وہ مصائب کہ نہ پوچھو یارو
شعلہ رخ لوگوں کے ہم آج نہیں گرچہ قریب
پر کئی شعلہ رخوں کے یہاں ہمراہ رہے ہیں ہم بھی
ایسے کچھ لمحے بھی اترے ہم پر

ہم نے جب آنکھوں کے ان خالی سے کشکولوں کے ساتھ
نیم شب شعلہ رخ آنکھوں کی بہت مست نگاہی دیکھی
ہم نے دیکھا ہے وہ ماتھا، وہی بے انت محبت سے بھرادل یارو
تیز تر لُو میں جو اس سینے سے لپٹتے تھے کبھی
روح تک میں بھی وہ تاثیرِ محبت اتری
ختم ہو جاتے تھے خوف اور بدن رکتا تھا
اُن مَدُھر آنکھوں میں اِک گہرا سا سایہ تھا جو وہ
حدِّتِ ہجرِ شبِ یاراں کے شعلے کو بجھا دیتا تھا
ایسے سنگی کی جدائی بھی تو دیکھی ہم نے
لیکن اب ایسے گماں ہوتا ہے
غم و اندو ہ نے تھکن اَور بڑھا دی ہے مگر
ہم اِنہیں شعلہ رُو آنکھوں کے سہارے یارو
اِنہیں عیسٰی صِفَت ہاتھوں کی دعائیں لیکر
یہ سفر کرتے چلے جائیں گے یونہی تا دم
جیسے وہ بھی اس بے انت سفر میں ہوں رواں

Check Also

March-17 sangat front small title

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *